- الإعلانات -

فلسطینیوں کو بیدخل کرنے کی سازش

مشرقی یروشلم میں شیخ جرح علاقے کی گلیوں میں گزشتہ دس روز سے فلسطینیوں اور یہودی آباد کاروں کے درمیان جو کشیدگی جاری ہے اس کا پس منظر یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی خاندانوں کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ ہے جو ایک طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کی وجہ سے فلسطینیوں کو اپنے ہی گھروں سے بے دخل ہونے کا خطرہ ہے ۔ شیخ جرح محلہ دمشق دروازے کے قریب پرانے یروشلم کی دیواروں کے بالکل باہر واقع ہے ۔ اس علاقے میں ہوٹلوں ، ریستوراں اور قونصل خانے کے علاوہ فلسطینیوں کے بہت سے مکانات اور رہائشی عمارتیں بھی شامل ہیں ۔ یروشلم شہر کا مشرقی حصہ، جس پر اسرائیل نے 1967 میں قبضہ کیا تھا، کے پڑوس میں یہودی آباد کاروں نے فلسطینیوں پر اردو واپس جانے کےلئے دباوَ ڈالا ۔ دس دن سے زیادہ عرصے سے اس محلے کے رہائشیوں اور کارکنوں کی زیرقیادت، اسرائیلی آباد کاری تنظیموں کی جانب سے فلسطینی باشندوں کے گھر خالی کرنے کے احکامات کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں ۔ اس علاقے کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان گھروں میں 1950 کی دہائی سے رہ رہے ہیں جبکہ یہودی آباد کار یہ دعوی کرتے ہیں کہ انھوں نے یہودیوں کی دو انجمنوں سے یہ زمینیں قانونی طور پر خریدی ہیں ۔ یہودی آباد کاروں کو فائدہ پہنچانے کےلئے 2020 کے آغاز سے اسرائیلی عدالتوں نے 36 فلسطینی خاندانوں کو ان کے گھروں سے انخلا کا حکم دیا ۔ ان خاندانوں میں باتن الحوا، سلیوان اور شیخ جارح میں تقریباً 165 افراد شامل ہیں ، جن میں سے بیسیوں بچے بھی ہیں ۔ بہت سارے لوگوں کو بغیر معاوضہ یا متبادل رہائش دینے کے بدلے بے گھر ہونے کا خطرہ ہے ۔ اور وہ بھاری قانونی فیسوں کے بوجھ تلے بھی دبے ہیں ۔ فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ملک بدری کا غیرمعمولی خطرہ ان کنبوں کے لیے انسانیت سوز تباہی کا سبب بنے گا اور ساتھ ہی یروشلم میں امن و استحکام کے امکانات پر دور رس سیاسی دباوَ کا سبب بنے گا ۔ انہی فلسطینی متاثرین پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ بمباری و گولہ باری سے 9بچوں سمیت مزید20 فلسطینی شہید اور سینکڑوں زخمی ہو گئے ۔ ہلال احمرکے مطابق حملوں میں سیکڑوں افراد زخمی ہیں اور ان میں سے 50 کو علاج کیلئے ہسپتال داخل کرایا گیا ہے ۔ اسرائیل کی جانب سے مشرقی بیت المقدس پر قبضے کا سالانہ جشن ’’یوم یروشلم‘‘ منانے سے قبل ہی علاقے میں کشیدگی جاری ہے ۔ تناوَ کو دور کرنے کی کوشش میں اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہودی گروپوں پر ;39;یوم یروشلم;39; کے موقع پر بیت المقدس کے مقدس پلازہ کے دورے پر آنے کی پابندی عائد کر دی ہے ۔ مزید ہزاروں اہلکار تعینات کر دیئے گئے ۔ دوسری طرف براہ راست ویڈیو میں دکھایا گیا کہ فلسطینی اور اسرائیلی پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں اور اسرائیلی پولیس نے نہتے فلسطینیوں پر سٹین گرنیڈ استعمال کئے ۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیوگوتریس نے مطالبہ کیا اسرائیل پرامن احتجاج کا احترام‘ تحمل کا مظاہرہ کرے ۔ انہوں نے مشرقی بیت المقدس میں مسلسل کشیدگی اور شیخ جراح‘ سلوان سے فلسطینی خاندانوں کی ممکنہ بیدخلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا وہ انہدام اور بیدخلی کے عمل کو عالمی انسانی قانون اور انسانی حقوق کے قوانین کی روشنی میں روک دے ۔ مقدس مقامات کا تقدس برقرار رکھا جائے ۔ فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم دہرایا ۔ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کے مظالم کے خلاف مختلف ممالک میں مظاہرے کئے گئے ۔ استنبول میں اسرائیلی قونصل خانے کے سامنے سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا اور صیہونی مظالم ختم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ برطانیہ کے شہروں لندن اور مانچسٹر میں بھی مظاہرے کئے گئے اور مقبوضہ بیت المقدس کی آزادی اور فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ۔ مظاہرین نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں عالمی برادری سے اسرائیل کیخلاف متحد ہونے کی اپیل بھی کی ۔ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ پٹی کے علاقے بیت حانون میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا ۔ متعدد گولے بیت خانوں کے مشرق میں چلتی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں پر گرے ۔ شہید ہونےوالوں میں حماس کا کمانڈر بھی شامل ہے ۔ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں آگ لگ گئی ۔ انتہا پسند اسرائیلیوں نے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں آگ لگائی ۔ یہودیوں ، مسلمانوں اور عیسائیوں کےلئے مقدس یروشلم کی حیثیت، اسرائیل اور فلسطین تنازعہ کا مرکز ہے ۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ مشرقی یروشلم ان کی آئندہ ریاست کا دارالحکومت بن جائے اور بیشتر ممالک اور اور اقوام متحدہ کی قراردادیں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی گردانتی ہیں ۔ اسرائیل بائبل اس سرزمین سے اپنے تاریخی تعلقات، سکیورٹی میں رکاوٹوں اور قانونی دلائل کا حوالہ دیتے ہوئے اس سے اختلاف کرتاہے ۔ اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اسرائیل کی آبادی تقریبا 70 لاکھ ہے جبکہ فلسطینی علاقوں میں 40 لاکھ افراد آباد ہیں ۔ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تنازعے میں فلسطین لبریشن فرنٹ فلسطینیوں کی نمائندہ تنطیم رہی ہے ۔ اس عرصے میں ہزاروں فلسطینی بے گھر ہو ئے جبکہ متعدد جنگیں ہوئیں جن میں کبھی مصر تو کبھی اردن اور کبھی شام تو کبھی لبنان شامل رہا ہے ۔ جولائی 2006ء میں اسرائیل کی لبنان کے ساتھ جنگ بھی تباہ کن ثابت ہوئی ۔ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کا آغاز 1990ء میں شروع ہوا ۔ اسرائیل اور فلسطین لبریشن فرنٹ کے درمیان پہلا عبوری امن معاہدہ 1993ء میں اوسلو میں طے پایا ۔ اسرائیل کے پیریز شعمون کواس معاہدے میں اہم کردار ادا کرنے پر 1994 میں امن کا نوبیل انعام دیا گیا تھا ۔ فلسطین کی جانب سے محمود عباس نے اس معاہدے کے حوالے سے سرگرم کردار ادا کیا تھا ۔