- الإعلانات -

ؑعزیر احمد خان کا تکلف برطرفABOVE THE STATE

ریاست کے اندر ریاست کے حوالے سے گزشتہ روز ہم نے ان ہی سطور میں لکھا تھا کہ حکومت کس طرح بے بس ہوجاتی ہے جب اس کی رٹ قائم نہ رہے، آج حکومت نے اپنی رٹ قائم کرنے کیلئے کمر کس لی ہے لیکن اصل بات ہم بتائیں گے کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے سے بھی بڑا ایک اور مسئلہ ہے جو ریاست کو بلکل ہی معذور کردیتا ہے اور ریاست کچھ کرنا بھی چاہے تو کچھ نہیں کرسکتی، یوں تو ریاست زور کافی لگاتی ہے لیکن وہ زور لاحاصل ہوجاتا ہے، ایسی کونسی وہ قوتیں ہیں جو ریاست سے بھی بالاتر ہوتی ہیں، جی ہاں یہ وہ مافیاز ہے جن کے آگے حکومت دُم بھی نہیں مار سکتی، ان کو اگر ABOVE TH STATEکہاجائے تو غلط نہیں ہوگا، کیونکہ اس مخصوص طبقے نے قانو ن و آئین کو اپنے گھر کے باندی بنا رکھا ہوتا ہے، وہاں جاکر قانون بھی خاموش ہوجاتا ہے، وہ کچھ نہیں کرسکتا کیونکہ یہ لوگ قانون سے بالاتر ہوتے ہیں، جو یہ چاہتے ہیں وہی قانون کہتا ہے، اردو میں اس کو ریاست کے اندر ریاست نہیں بلکہ ریاست کے اوپر ریاست کہتے ہیں، پاکستان کی تاریخ کیا بلکہ دنیا بھر کی تاریخ بتاتی ہے کہ ہمیشہ حکمرانی ان ہی لوگوں نے کی جن کی حیثیت ریاست کے اوپر ریاست بنانے کی ہوتی ہے، آپ ان کو مافیاز کہیں یا کوئی اور نام دیں، یہ اپنی اپنی صوابدید ہے لیکن سمجھنے والے یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ یہ مافیاز کتنے طاقتور ہوتے ہیں، وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی ان مافیاز کیخلاف کمر باندھ رکھی ہے، وہ ذاتی حیثیت میں ان کو چیلنج کرتے رہتے ہیں، ان کیخلاف کارروائی کے احکامات بھی دیتے ہیں، لیکن ہر اڑان کی ایک حد ہوتی ہے اس حد کے بعد اگر مزید پرواز بھری جائے تو پر جلنا شروع ہوجاتے ہیں، بس ادھر سے ہی ریاست کے اوپر ریاست کا پیدا ہوجاتا ہے، بعض اوقات دنیا بھر میں یہ چیز دیکھنے میں آئی ہے کہ اصل حکمرانی چلانے والوں کے مفادات کو جب زِک پہنچتی ہے تو پھر وہ اپنا جوکی بدل لیتے ہیں گوکہ ریاست تو اپنی جگہ قائم رہتی ہے لیکن اس پر سواری کرنے والا جوکی بدل دیاجاتا ہے، اس جوکی کی لگامیں اس کے بھی ہاتھ میں ہوتی ہیں جو ریاست کے اوپر بیٹھ کر مافیاز کی صورت ریاست کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، اس کا جنتا دل چاہتا ہے اتنی لگام کو ڈھیل دیتا ہے اور گھوڑا زیادہ سر پٹ دوڑنا شروع ہوجائے تو پھر وہ لگامیں کھینچ لیتا ہے، اب ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ اصل اختیارات کا منبہ عوام ہیں اور یہ اختیارات عوام کے پاس ہی ہونے چاہیے لیکن چونکہ ہمارے یہاں طبقاتی، سردارانہ اور جاگیر دارانہ نظام ہے، فیوڈلزم ہے، اس وجہ سے غریب عوام کو کون اس کا حق دیتا ہے، بات ہوگی بھی تو خواص کیلئے عوام جائے بھاڑ میں، سکمیں بھی نکلیں گے وہ بھی خواص کیلئے غریب آدمی بیچارہ کدھر جائے وہ تو اس مہنگائی کے دور میں دووقت کی روٹی کیلئے ترس رہا ہے، بینکوں سے قرض ادھار بھی لینے جائے تو ان کے لوازمات ہی اتنے ہی وہ کامیاب ہی نہیں ہوسکتا، کیونکہ حکومتی اعلانات اور کچھ ہیں اور جب عملی طور پر عوام اس سے فائدہ اٹھانے جاتی ہے تو آگے شرائط اور قیود اتنی ہوتی ہیں کہ وہ بیچارہ سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے، غریب آدمی کی ہمارے ملک میں ماہانہ انکم مشکل 10سے 15ہزار ہے اس بیچارے کو اس ملک میں ایسا کونسا بینک ہے جو لاکھوں کے قرضے دے گا، گوکہ تعمیرات میں بوم ہے لیکن سیمنٹ اور سریا کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہے، جتنی تھوڑی رقم اس کو بینک بتاتے ہیں اس سے تو وہ صرف زہر ہی کھاکر اپنی زندگی تیاگ سکتا ہے، چھت فراہم کرنا تو ناممکن ہے، بس یہاں صرف مایا ہی مایا ہے۔غریب تو پیدا ہی مرنے اور قربانی دینے ہوا ہے، ڈرامے چل رہے ہیں، حقدار کو اس کا حق نہیں مل رہا۔