- الإعلانات -

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال کی جائے

جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر جو آج کل پاکستان کے دورے پر ہیں ، بخوبی جانتے ہیں کہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارومدار پاک بھارت تعلقات کی بحالی میں ہے اور انہیں جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی علم ہے ۔ ادراک ہے ایک عام پاکستانی کشمیر کے حوالے سے کیا محسوس کرتا ہو گا ۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کیلئے ضروری ہے کہ تنازع کشمیر کا حل نکالیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وولکان بوزکر کی اسلام آباد میں موجودگی کا فائدہ اٹھا تے ہوئے انہیں مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال اور انہیں مقبوضہ فلسطین اور مقبوضہ کشمیر میں مماثلت سے آگاہ کیا ۔ انہیں بتایا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام بھی خودارادیت مانگ ر ہے ہیں اور کہہ رہے کہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ اقوام متحدہ نے ہم سے وعدہ کیا تھا جو وفا نہ ہوا ۔ فلسطین اور کشمیر دونوں کے حوالے سے اقوام متحدہ کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے ۔ طاقت کا مرکز تبدیل ہو رہا ہے ۔ آج عالمی برادری پاکستان کو مسئلے کے حصے کے طور پر نہیں بلکہ مسئلے کے حل کے طور پر دیکھ رہی ہے ۔ یہ گزشتہ چند سالوں میں آنے والی ڈرامائی تبدیلی ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدرکا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ ایک جیسا ہے اور یہ بدقسمتی کی با ت ہے کہ مسئلہ جموں و کشمیر کو کبھی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی، لہٰذا یہ پاکستان کی خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ زیادہ مضبوطی سے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پیش کرے ۔ کیا یہ حقیقت دنیا پراب تک آشکار نہیں ہوئی کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے عوام بھارتی درندگی کا شکار ہیں گزشتہ ماہ 31کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا گیا ۔ خود ہندوستان کے بقول جموں وکشمیر میں کل 450کے لگ بھگ جنگجو ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ان مٹھی بھر جنگجووَں کو ہندوستان کی نو لاکھ سے زائد فوج کیا قابو میں نہیں رکھ سکتی;238;بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد آنے والے کشمیری عوام کی آواز بند کرنے کے لئے ان پر گزشتہ 70 سال سے نت نئے مظالم کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران اب تک لاکھوں کشمیری باشندے شہید ہوچکے ہیں اور ہزاروں عفت مآب کشمیری خواتین بھارتی فو جوں کے ظلم کی بھینٹ چڑھ کر اپنی عصمتوں کی قربانیاں دے چکی ہیں ۔ کشمیر پر تسلط جمانے کا بنیادی بھارتی مقصد اس کے راستے سے پاکستان آنیوالے دریاؤں کا پانی روکنا اور اس طرح پاکستان کی زرخیز دھرتی کو بنجر بنا کر اسے بھوکا پیاسا مارنا تھا ۔ کشمیری عوام نے بھی ہر قسم کا بھارتی ظلم و تشدد برداشت کرتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے اور اپنے پائے استقلال میں کبھی ہلکی سی لغزش بھی نہیں آنے دی ۔ گزشتہ چار سال سے بھارت کی ہندو انتہاء پسند مودی سرکار نے تو کشمیریوں پر مظالم کے نئے ہتھکنڈوں کی انتہا کر دی ہے اور ان پر اسرائیلی ساختہ پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کرکے چار سال کے عرصے میں عملاً ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو شہید اور ہزاروں ہی کو زخمی کرکے مستقل اپاہج بنایا جا چکا ہے، مگر کشمیری نوجوانوں نے سوشل میڈیا کو بروئے کار لا کر اقوام عالم میں بھارت کا مکروہ چہرہ مکمل بے نقاب کردیا ہے، چونکہ پاکستان بھی کشمیر پر اپنے دیرینہ اصولی موقف پر ڈٹا ہوا ہے جو ہر عالمی اور علاقائی فورم پر کشمیر کا کیس ٹھوس انداز میں پیش کرتا ہے اِس لئے مودی سرکار نے اسے بھی سبق سکھانے کے لئے اس کے ساتھ کنٹرول لائن پر مسلسل کشید گی کی فضا قائم کر رکھی ہے اور مودی سرکار کے ایما پر ہی بھارتی فوجیں تقریباً روزانہ کی بنیاد پر نہ صرف پاکستان کی چوکیوں پر بلا اشتعال او ر بے دریغ فائرنگ کرتی ہیں ۔ غیر قانونی طور پر بھارتی زیر قبضہ کشمیر اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا ہوا ہے اور وہاں لاک ڈاوَن ، کرفیو، تعلیمی اداروں اور مواصلات کی بندش کا سلسلہ جاری ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام انیس سو سینتالیس سے بھارتی حکومت کا ظلم و جبر سہہ رہے ہیں ۔ کشمیر پر تیسرے فریق کی ثالثی نہ ماننے والا بھارت خود مسئلہ کشمیر، اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا ۔ اقوام متحدہ، کشمیر میں استصواب رائے کا فیصلہ سنا چکی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر پر سلامتی کونسل نے پہلی قرارداد نمبر انتالیس20جنوری 1948 کو منظور کی جس کے تحت مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے تین رکنی کمیشن بنایا گیا ۔ اکیس اپریل انیس سو اڑتالیس کو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر سنتالیس منظور کی جس کے تحت سابقہ قرارداد میں تجویز کردہ کمیشن کے ممبران کی تعداد کو بڑھا یا گیا ۔ اس قرارداد میں پیش کردہ تجاویز کے تحت مسئلہ کشمیر کا تین مراحل پر مشتمل حل پیش کیا گیا ۔ کمیشن کا امن و امان بحال کرتے ہوئے مقبوضہ خطے میں استصواب رائے کرا نے کا حکم دیا گیا ۔ تین جون انیس سو اڑتالیس کو سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر اکیاون کے ذر یعے پچھلی قراردادوں میں بنائے گئے کمیشن کو مقبوضہ علاقے کا دورہ کرنے کا حکم دیا ۔ چودہ مارچ انیس سو پچاس کو سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد نمبر اسی میں پاکستان اور بھارت کو جنگ بندی پرعمل درآمد کرتے ہوئے خطے سے فوجیں ہٹانے کا کہا گیا ۔ اقوام متحدہ کی قراردا دوں میں کشمیریوں کیلیے حق خود ارادیت کا وعدہ کیا گیا ۔ آہوں ، سسکیوں ، بندشوں ، کرفیو اور بندوقوں کے سائے میں اہل کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں ۔ کشمیری تنگ آچکے ہیں اوردنیا کی توجہ کے منتظر ہیں ۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ’’ بھارت کے مظالم ،، لمحہ فکریہ ہیں ۔ آخر کب تک کشمیر میں نسل کشی کا سلسلہ جاری رہے گا ;238; کب تک کشمیری اپنے حق خود ارادیت سے محروم رہیں گے