- الإعلانات -

کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

پاکستان نے اقوام متحدہ سے اسرائیلی جارحیت کے شکار فلسطین میں عالمی فوج تعینات کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے غزہ پر حملے بند کرنے کے مطا لبے پر اسرائیل نے سردست حملے روک دیے ہیں ۔ یاد ر ہے کہ سلامتی کونسل میں امریکہ نے چار بار فلسطین کی مذمت پر مبنی قرار داد کو روک کر اسرائیل کو فلسطینیوں پر ظلم ڈھانے کی چھو ٹ دیے رکھی ۔ بلا شبہ یہ سلامتی کونسل جیسے طا قتو ر ادارے کی ناکامی قرار دی جا سکتی ہے ۔ امر یکہ پورے کروفر و رعونت سے اسرائیل کے سا تھ کھڑا ہے مسلمان ممالک فلسطین کی حمایت میں آگےآ رہے ہیں ۔ ایران اور سعودی عرب اس معاملے میں ایک پیج پر ہیں ۔ اسلامی دنیا ان کیا دو ممالک کے دھڑوں میں تقسیم ہے ۔ فلسطین کے معاملے میں یکجا ہونا مسلم ممالک کے متحد ہونے کی کی طرف پیش رفت ہے ۔ اسرائیل کی جارحیت نے عالمی طاقتوں کی تقسیم کو مزید ہوا دی ہے ۔ امریکہ کچھ یورپی ممالک سمیت اسرائیل کی پشت پناہی کرتا ہے ۔ ان کے مقابلے میں چین اور روس دوسرے کیمپ میں ہیں ۔ دونوں کھل کر فلسطینیوں کی حمایت کر رہے ہیں ۔ چین کے ٹی وی چینل نے یہودیوں کے مسلمانوں کیساتھ ساتھ مسیحیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کو مہم کی صورت میں دکھانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ اسرائیل میں اس چینل کی نشریات بند کر دی گئی ہیں ۔ گوکہ صورتحال جنگ بندی کی طرف جا رہی ہے، مگر یہ عارضی ہوگی ۔ مسئلہ کا فلسطینیوں کی خواہشات کے مطابق پائیدار حل ہی امن کی ضمانت بن سکتا ہے ۔ اس طرف اسرائیل اور اس کے پشت پناہ نہیں آئیں گے ۔ اس چند روزہ مسلم کش حملوں سے دنیا دو واضح حصوں میں بٹ گئی ہے ۔ دونوں گروپ طا قتور ہیں ۔ آئندہ کسی بھی وجہ سے جنگ کی چنگاری کو ہوا ملی تو حالات تیسری عالمی جنگ کی طرف ہی جائیں گے ۔ یہ جنگ روایتی سے غیر روایتی میں بدلنے میں چند دن ہی لگیں گے ۔ پھر ہو سکتا ہے یہ دنیا ہی صفحہ ہستی سے مٹ جائے ۔ اس کا امریکہ کو یقینا ادراک ہے اور اس کے تدارک کی تدبیر کی ہوگی ۔ یاہو نے محض سیاسی مفاد کے لیے پوری دنیا کے امن کو داءو پر لگا دیا ہے ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے سلامتی کونسل کی جانب سے فلسطینیوں کی مدد نہ کرنے پر ترکی‘فلسطین‘ ایران‘ ملائشیا‘ انڈونیشیا اور تیونس کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں معاملہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ۔ اس مقصد کے تحت بلائے گئے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کوئی اسرائیل کو پوچھنے والا نہیں ‘ اسرائیل کو جنگی جرائم کے ارتکاب پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے کہا کہ وہ فلسطینی سرزمین پر بستیوں کی تعمیر روکے‘ جنگی قوانین کی خلاف ورزی سے باز رہے ۔ غزہ میں ایمرجنسی نافذ کر کے امدادی کارروائیاں شروع کی جائیں ۔ اقوام متحدہ کی ساکھ‘ طاقت اور افادیت کو جن تنازعات سے چیلنج لاحق ہے ۔ فلسطین ان میں سے ایک قدیم ترین تنازع ہے ۔ اقوام متحدہ کی ذمہ داری اس لحاظ سے بھی زیادہ تصور کی جاتی ہے کہ اسی کے کہنے پر ستر برس پہلے صیہونی ریاست قائم کی گئی تھی ۔ اقوام متحدہ کی اس سرپرستی کے باوجود فلسطین کے معاملے پر غیر فعالیت اقوام متحد ہ کی ناکامی کے طور پر سامنے آ رہی ہے ۔ ر مضان المبارک کے آخری عشرے میں ا سرا ئیل کے پروردہ گروپوں نے بیت المقد س کے قدیم محلے سے درجنوں فلسطینیوں کو بیدخل کر دیا ۔ اس نا انصافی پر فلسطینیوں نے احتجاج کیا ۔ بعدازاں یہ فسطینی مسجد اقصیٰ میں عبادت میں مصروف تھے کہ اسرائیلی پولیس نے حملہ کر دیا ۔ دو روز تک مسجد اقصیٰ کا صحن اور اندرونی عمارت اسرائیلی تشدد کے باعث زخمی فلسطینیوں سے بھرے رہے ۔ اس دوران عالمی برادری نے چپ سادھے رکھی ۔ بعدازاں اسرائیلی آرٹلری اور طیاروں نے فلسطینی باشندوں کے گھروں ‘ دفاتر اور کاروباری مراکز کو نشانہ بنایا ۔ ڈیڑھ ہفتے تک جاری رہنے والے ان حملوں میں چار سو کے قریب فلسطینی شہید ہوئے ۔ شہید ہونے والوں میں بچوں اور عورتوں کی تعداد قابل ذکر ہے ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مغربی میڈیا نے فلسطینیوں کے موقف اور ان پر روا مظالم کو اجاگر کرنے کی بجائے قابض اسرائیل کی کا ر ر وائیوں کو جنگ قرار دے کر نہتے فلسطینی با شندوں کو ایک امن دشمن طاقت ثابت کرنے کی کوشش کی ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک مضحکہ خیز ادارہ بن کر رہ گئی ہے ۔ وہ ادارہ جو عراق میں جعلی رپورٹس کی بنیاد پر ہلاکت خیز ہتھیاروں کو ہٹانے کی آڑ میں امریکہ کو حملے کی اجازت دیدیتا ہے‘ جو راتوں رات مشرقی تیمور کو الگ ریاست بنا دیتا ہے‘ جو شام میں حیا تیا تی اور مہلک گیس والے ہتھیاروں کی آڑ میں حملے کی دھمکی دیتا ہے ۔ جو سوڈان سے عیسائی اکثریت والے دارفر کو الگ کر دیتا ہے ۔ اس سلامتی کونسل کو فلسطین میں بہتا خون نظر نہیں آتا ۔ المیہ یہ کہ دنیا میں انسانی حقوق‘ انصاف اور رواداری کی بات کرنے والے مغربی ممالک نے اسرائیل کا ہاتھ روکنے کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی ۔ امریکہ نے ہر مرحلے پر اسرائیل کے خلاف کارروائی کو غیر موثر بنایا ۔ سکیورٹی کونسل میں چار بار قرار داد مذمت روکنے والے امریکہ کے صدر جوبائیڈن متعدد بار ٹیلی فون کر کے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو حملے روکنے کا کہتے رہے لیکن باہمی ساز باز کی وجہ سے اسرائیل نے امریکی صدر کی اپیل ہر بار مسترد کر دی ۔ ایک المیہ یہ ہے کہ امریکہ دنیا کے ہر اہم معاملے میں اقوام متحدہ‘ او آئی سی‘ یورپی یونین یا کسی دوسرے بین الاقوامی گروپ کو آگے آنے کا موقع نہیں دینا چاہتا ۔ بین الاقوامی تنازعات کو پرامن طریقے سے طے کرنے کی ذمہ داری اقوام متحدہ نے اٹھا رکھی ہے لیکن امریکہ کی سفارتی مشینری ان معا ملات پر کسی دوسرے کو اثر انداز ہونے کا موقع نہیں دیتی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر‘ فلسطین یا یمن ہو تمام تنازعات تشدد کو فروغ د ینے کا ذریعہ بنے رہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے متعدد دیگر ر کن ممالک اس صورتحال سے خوش نہیں ۔ اسرائیل نے حملے روکنے پر آمادگی ظاہر کی ہے‘ اس سے فلسطینیوں پر جاری ظلم کا سلسلہ وقتی طور پر رک سکتا ہے لیکن بنیادی تنازع اپنی جگہ ر ہے گا ۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ اسرائیل نے جارحیت کا ارتکاب کیا اور فلسطینیوں کے کمزور سے ردعمل کو دہشت گردی بنا کر سینکڑوں افراد کو شہید کر دیا ۔ اس تنازع کو حل کرٌنے کا بنیا د ی اصول یہی ہے کہ اسرائیل کو اس کے علاقوں تک محدود کیا جائے ۔ فلسطینی باشندوں کے گھر مسما ر کر کے اور ان کی جان لے کر تنازع کو پر ا من طریقے سے حل نہیں کیا جا سکتا ۔ اسرائیل کا جبر اور ظلم اس وجہ سے بھی ناقابل قبول ہو گا کہ اس سے دنیا میں مکالمہ‘ مذاکرات اور پرا من بقائے باہمی کے تصورات دم توڑ جائیں گے ۔ دنیا کو پرامن رکھنے کے لئے اقوام متحدہ اور بڑے ممالک کو اپنے تعصبات سے بالا ہو کر فلسطینیو ں کا حق خود ارادیت تسلیم کرنا ہو گا ورنہ جو لڑائی آج رکی ہے وہ پھر کسی روز شروع ہو جائے گی ۔ ظلم کا خاتمہ انصاف کیلئے دہائیاں د ینے سے کبھی ہوا ہے اور نہ کبھی ہوگا ۔ ظالم کا ہا تھ روکنے کیلئے اس سے برتر طاقت درکار ہو تی ہے ۔ بدقسمتی سے مسلمان ممالک کے پاس مطلوبہ ضروری طاقت موجود نہیں ہے لہٰذا معا ملہ فلسطینی عوام کا ہو یا شام اور افغانستان کے افتادگان خاک کا قصہ ہو اصل بات یہ ہے کہ مسلمان عالمی طاقتوں کے قہر کا شکار اس لئے ہیں کہ وہ کمزور ہیں ۔ ان کے پاس وہ ضروری طاقت نہیں جو ظالم کا ہاتھ روک سکے کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں کب کوئی بلاصرف دعاءوں سے ٹلی ہے