- الإعلانات -

یو این او کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوز کرکا دورہ

اس وقت جنوبی ایشیاء میں مسئلہ کشمیر اور عرب ریاستوں میں مسئلہ فلسطین انتہائی اہم ترین مسائل ہیں جن کا حل ہونا بے حد ضروری ہے ، مسئلہ کشمیر کو دبانے کیلئے بھارت 72سال سے کوشاں ہے

اس نے لاکھوں کی تعداد میں دہشتگرد فوج کوبھی مقبوضہ وادی میں اتارا لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکا ، اسی طرح کے حالات فلسطین میں ہے ، اسرائیل نے بھی وہاں ظلم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں ، آئے دن مسجد اقصیٰ جو کہ امت مسلمہ کا قبلہ او ل ہے وہاں چڑھائی اور بے حرمتی کرتا رہتا ہے ، دنیا کے اہم ترین ادارے اقوام متحدہ نے ان دونوں مسائل کے حوالے سے تاحال کوئی قابل ذکر کردار ادا نہیں کیا ، حتیٰ کہ اوآئی سی کے حوالے سے بھی سوالیہ نشان موجود ہیں ۔ اب اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی کے صدر اس بات کو تسلیم کررہے ہیں کہ اقوام متحدہ کو ان حوالے سے کردار ادا کرنا چاہیے ، سلامتی کونسل بھی حرف آرہا ہے ، ان دنوں وولکن بوز کر پاکستان کے دورے پر ہیں ، دورے کے دوران انہوں نے صدر مملکت ،وزیر اعظم سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں ، میڈیا سے گفتگو بھی کی ، تقریبات سے خطاب بھی کیا ، انہوں نے اپنے تحفظات کا بھی اظہار کیا ، وولکن بوز کر جو اسلام آباد میں ہیں اپنی اہم ملاقاتوں میں کہا کہ تنازع کشمیر کا حل ضروری،زمینی حقائق نہ بدلے جائیں ، پاکستان کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ میں زیادہ مضبوطی سے اٹھائے،انہوں نے واضح طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ مسئلہ فلسطین کے مقابلے میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بڑے پیمانے پر سیاسی خواہش کا فقدان ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھیان دیناہوگا، یہ بین الاقوامی ذمہ داریاں ہیں ، اقوام متحدہ کو لازمی طور پر ذمہ داری نبھانا چاہئے، جنوبی ایشیا میں امن اور خوشحالی کا دارومدار پاک بھارت تعلقات کی بحالی پر ہے ۔ فلسطین کے اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، اسرائیلی قبضے کےخاتمے اوردو خود مختار ریاستوں کے قیام کیلئے مذاکرات ناگزیر ہیں ،مشرق وسطی میں قیام امن تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے، افغانستان میں امن کی بحالی اشد ضروری ہے ۔ جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوز کر ان دنوں پاکستان کے اہم دورے پر ہیں ،یہاں اسلام آباد میں انہوں نے صدر مملکت عارف علوی ،وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقاتیں کیں اور اہم امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر ملاقات میں کوویڈ 19-وبائی امراض کے تناظر میں علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی ، پائیدار ترقی اور معاشی بحالی کی کوششوں سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، اقوام متحدہ کے ایجنڈے جیسے فلسطین ، جموں و کشمیر تنازعہ ، افغان امن عمل اور جرم ، بدعنوانی اور رشوت ستانی سے غیر قانونی مالی بہاءو جیسے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ مزید برآں صدر مملکت عارف علوی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر کے اعزاز میں ایوان صدر میں عشائیہ دیا اور اس موقع پر پروقار تقریب میں انہیں ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا ۔ گزشتہ روز نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ کورونا وبانے دنیا میں بڑے مسائل ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی مسائل کو جنم دیا جن کا حل مشترکہ لاءحہ عمل سے ہی ممکن ہے ۔ ان حالات میں ممبر ممالک کو اکھٹا رکھنا بڑا چیلنج تھا، کورونا ویکسین امیر اور غریب ممالک کی یکساں ضرورت ہے ۔ مسئلہ فلسطین، کشمیر، افغانستان ، کوڈ 19 اور یو این پیس کیپنگ مشن میں پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے صدر وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے پچھلے ہفتے فلسطین کی صورتحال پر میٹنگ بلائی تاکہ سیکورٹی کونسل کی خاموشی اور ڈیڈلاک کا ازالہ کیا جاسکے ۔ اس اہم معاملے پر بے عملی اقوامِ متحدہ اور سیکورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے، میں امید کرتا ہوں کہ سیکورٹی کونسل کی جانب سے بھی اس اہم اور ضروری مسئلہ پر متفقہ آواز سنائی دے گی، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینیوں کی جانیں چلی گئیں جن میں بچے اور خواتین شامل ہیں ۔ وولکن بوزکر کا کہنا تھا کہ اس وقت مذاکرات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی قبضے کو ختم کیا جاسکے اور دو خود مختار ریاستوں کا قیام عمل میں آسکے جو باہم امن سے رہیں اور 1967 سے قبل کی سرحدوں میں ہوں اورمقبوضہ بیت المقدس دونوں کا دارالحکومت ہو، میں یقین دلاتا ہوں کہ مشرقِ وسطی میں امن کی بحالی تک یو این جنرل اسمبلی آرام سے نہیں بیٹھے گی ۔ صدر جنرل اسمبلی نے کہا کہ مجھے جموں و کشمیر کی صورتحال کا بھی بخوبی علم ہے، مجھے ادراک ہے کہ ایک عام پاکستانی کشمیر کے حوالے سے کیا محسوس کرتا ہوگا کہ جب فلسطین کے حوالے سے اس کے جذبات اس قدر شدید ہیں ، جنوبی ایشیا میں امن و استحکام اور خوشحالی کا دارومدار پاکستان اور بھارت کے تعلقات کی بحالی پر ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ تنازعہ کشمیر کا حل نکالیں ۔ صدر جنرل اسمبلی کا کہنا تھا کہ ;85788367; کی قرداردادو کی روشنی میں میں نے ہمیشہ فریقین پر زور دیا ہے کہ زمینی حقائق کو تبدیل نہ کیا جائے، متنازعہ علاقے کی حیثیت کو بدلنے سے گریز کیا جائے، تنازعہ کشمیر بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ مسئلہ فلسطین ہے، بطور صدر جنرل اسمبلی میں بھارت اور پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ اس مسئلہ کے پر امن حل کے راستے پر چلیں ۔ اوولکن بوزکر نے مزید کہا کہ افغانستان میں امن کی بحالی بھی اشد ضروری ہے، پاکستان نے کئی ملین افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے،40سال سے عالمی برادری کی طرف سے خاطر خواہ امداد نہ ہونے کے باوجود پاکستان نے افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھایا، میں پاکستانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں کہ جنہوں نے مصیبت کی گھڑی میں افغان کمیونٹی کو پناہ دی، پاکستان اور افغانستان کو آپس میں جدا نہیں کیا جاسکتا ۔

گولڈن ہینڈ شیک اسکیم ،سپریم کورٹ کے فکر انگیز ریمارکس

سپریم کورٹ نے بالکل درست کہا ہے کہ بڑے بڑے افسران تنخواہیں لیکر اداروں کو تباہ کردیتے ہیں ، یہ انتہائی تلخ حقیقت ہے کہ غریب آدمی ترستا رہتا ہے ، وہ نان نفقے کے چکر سے ہی نہیں نکل پاتا اور ان افسران کے اللے تللے دیکھے جائے تو حیرانگی ہوتی ہے کہ ایک غریب ملک اور یہ ان کی مراعات ، سپریم کورٹ میں گولڈن ہینڈ شیک اسکیم کے حوالے سے اسٹیٹ بینک کی اسلام ;200;باد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی،سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔ اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے اسٹیٹ بینک کی انتظامیہ پر برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ افسران نے دیگر ملازمین کے بجائے اپنی تنخواہیں بڑھا دیں ، اسٹیٹ بینک کی پوری انتظامیہ کو فارغ کرنا چاہیے تھا، اسٹیٹ بینک کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، اتنا بڑا نقصان بینک انتظامیہ کی نا اہلی سے ہوا ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے معاملات سامنے ;200;تے ہیں تو تکلیف ہوتی ہے، کتنی شرم کی بات ہے کہ بڑے بڑے افسران تنخواہیں لے کر اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں ۔ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اسٹیٹ بینک کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے استفسار کیا کہ ادارے کو بعد میں کتنے روپے ادا کرنا پڑے ;238; جس پر اسٹیٹ بینک کے وکیل نے جواب دیا کہ اسٹیٹ بینک کو تقریبا ًدو ارب روپے ادا کرنا پڑے ۔ چیف جسٹس نے برہم ہوتے ہوئے ریمارکس دیے کہ اتنے بڑے نقصان کے بعد ;200;پ کے کسی ;200;فسر کو اثر ہی نہیں ہوا ہوگا ۔

بھارتی الزامات بے بنیاد ، پاکستان نے مسترد کردیئے

دفترخارجہ کا ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سرحد پر دراندازی کے ہر طرح کے الزامات کو پاکستان مسترد کرتا ہے اور مقبوضہ کشمیر میں یہ بھارت کا ہی ظالمانہ رویہ ہے جس سے خطے کے امن کو خطرہ ہے ۔ زاہد حفیظ چوہدری کایہ ردعمل بھارت کے خارجہ امورکے وزیر سبرامینم جے شنکر کے گزشتہ روز خطاب کے دوران دیے گئے بیان کے جواب آیا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہدحفیظ چوہدری نے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھارت کا کشمیریوں کے ساتھ ظلم و ستم اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں ، عالمی برادری اور کشمیریوں کے ساتھ کیے گئے اپنے وعدے کے مطابق مسئلہ کشمیر کا مسئلہ حل نہ کرنا خطرے کا باعث ہے ۔ یہ کشمیر ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان مرکزی مسئلہ ہے اور1947سے عالمی قوانین کے مطابق حل طلب ہے ۔