- الإعلانات -

اینٹی ریپ بل پر عمل کرنے کی ضرورت

تکلف برطرف :عزیر احمد خان
اس وقت ہمارے معاشرے میں گناہ انتہا عام ہوچکا ہے کہ کسی کو تمیز ہی نہیں وہ کیا کرنے جارہا ہے ۔ اس کی وجہ سے صرف اللہ اور اس کے رسول پاک ۖ کے احکامات سے دوری ہے ۔نئی نسل دین سے نا بلد نظر آتی ہے ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فی الوقت جن کو ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ہماری دین کی رہنمائی فرمائیں گے تو وہ بذات خود ہی ایسے کبیرہ گناہوں میں ملوث پائے جاتے ہیں جن کو دیکھ کر انسان کان ہی پکڑ سکتا ہے ، قرب قیامت ہے ، قیامت کے قریب گناہ کرنے والے لوگوں میں ایسے افراد شامل ہوں گے جن پر بظاہر کوئی شک و شبہ نہیں کرسکتا کہ وہ ایسا گناہ کرسکیں گے ، جب گناہ کرنے کے بالکل واضح ثبوت سامنے آجائیں تو اقتدار میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کا فرض ہے کہ وہ اس گنہگار کو سخت سے سخت سزا دے اور وہ سزا دی جائے جس کے اسلام میں احکامات ہے ، قاتل کی سزا سر تن سے جدا کرنے کی ہے ، چور کی سزا ہاتھ کاٹنے کی ہے اور لواطت کی سزا جو شرع میں موجود ہے اس کے تحت دی جائے ، اس حوالے سے گزشتہ دنوں حکومت ایک بل لیکر آئی جس کے تحت مجرموں کی جنسی صلاحیت ختم کرنے ، یعنی کہ کاسٹریشن اور ریپ کے مقدمات کے سماعت کیلئے مخصوص عدالتیں قائم کرنا ہے ۔ گزشتہ سال دسمبر میں صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اینٹی ریپ آرڈیننس 2020کی منظوری دی تھی ، خواتین اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے جرائم میں سزا یافتہ افراد کی جنسی صلاحیت کیمیائی طریقوں سے ختم کی جاسکتی ہے ۔ فی زمانہ یہ بل انتہائی ضروری ہے ،اب دیکھنے اور سمجھنے کی بات یہ ہے اس بل کی سب سے زیادہ کس نے مخالفت کی ، اس مخالفت کی کیا وجوہات تھی ، جب ہمیں اسلام حکم دیتا ہے کہ ایسے کبیرہ گناہوں کی سزا دی جائے تو اس میں رکاوٹ ڈالنا کیسے دین کی خدمت ہے ، بات صرف یہاں تک ہی نہیں ٹھہرتی، سوشل میڈیا نے نوجوان نسل کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے ۔ سوشل میڈیا کا ایک شخص جس کے لاکھوں میں فالورز ہیں وہ اس قسم کی بیہودہ ویڈیو بناتا ہے جس کو سوشل میڈیا کی زبان میں پرانک کہتے ہیں ، اس نے ایک شریف خاندان کی خاتون کے ساتھ شرارت کی ، اس کی ویڈیو بنائی شکایت پر اسے گرفتار کیا گیا ، یہ سیدھا سادھا خواتین کو ہراس کرنے کا کیس بنتا ہے ۔اسے گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اب وہ اپنے کئے پر شرمندہ ہے اور وہ کہتا ہے کہ آئندہ میں خواتین کیساتھ پرانک نہیں بناؤنگا ، لڑکوں کے ساتھ ہی بناؤنگا ، جبکہ پولیس کے مطابق کس نے بہت معترضہ ویڈیوز بنائی ہیں ، اب یہ اپنے کیے پر شرمندہ ہے لیکن شرمندگی اپنی جگہ لیکن سزا لازمی ہے کسی بھی صورت اسلام یہ اجازت نہیں دیتا کہ آپ پرینک بنانے میں کسی کی ماں بہن بیٹی کی عزت دائو پر نہیں لگائی جاسکتی یہاں ہم آپ کو ذرا ماضی کے جھرنکوں میں لے جاتے ہیں آپ کو یاد ہوگا ایک معصوم پری سی بچی جس کے ماں باپ اس سے عزیز و اقارب کے پاس چھوڑ کر عمرہ ادا کرنے گئے اور پیچھے اس بچی پر قیامت ٹوٹ گئی ، اتنا لرزہ خیز سانحہ تھا کہ پورا ملک ہل کر رہ گیا۔زینب الرٹ بل آیا لیکن وہ بھی کہیں فائلوں کی نظر ہو گیا، امن نہ ہوا مجرم کو تو پھانسی دیدی گئی لیکن اس کے بعد ایسے جرائم میں ملوث مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں خاطر خواہ تگ و دو نہ کی گئی جب سانحہ زینب پیش آیا تھا اس وقت بھی ہم نے انہی سطور میں تحریر کیا تھا کہ مجرم کو سرعام سزا دے کر دیدہ عبرت نگاہ بنایا جائے ،اسلام میں بھی یہی حکم ہے کہ ان مجرموں کو سرعام سزا دی جائے تاکہ دیگر لوگ عبرت حاص کر سکیں ، ہماری منزل تو مدینہ جیسی ریاست بنانا ہے تو اس ریاست کے اصولوں پر بھی عمل کرنیکی ضرورت ہے ، سعودی عرب میں قاتل کا سر تن سے سرعام جدا کیا جاتا ہے ، یہ ہی وہ سبق ہے جو دیگر لوگوں کو جاتا ہے ، اس وقت تقاضہ کر رہا ہے کہ موجودہ حکومت نے جو بل پاس کیا ہے اس پر بغیر وقت ضائع کیے عمل کیا جائے ، اور ایسے گھنائونے جرائم کی سزا مقرر کی گئی ہے اس پر بلا تخصیص عملدرآمد کیا جائے ، ایسے مجرموں کی سزا کے لیے جمعتہ المبارک کا دن مقرر کیا جائے اور ہر جمعہ کے جمعہ ان مجرموں کو سزا دے کر ان کی باقائدہ تصاویر میڈیا میں شائع کی جائیں ، تاکہ عوام ان گھنائونے چہروں سے واقف ہو سکیں