- الإعلانات -

حج

فرض: ۔ دوسری فرض عبادات کی طرح حج بھی فرض عبادت ہے ۔ حج اسلام کا پانچوں ا ستون ہے ۔ ’’ےاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہےم ;174; کےلیے اِس گھر (خانہ کعبہ) کی جگہ تجوےز کی تھی ۔ اس ہداےت کے ساتھ کہ مےرے ساتھ کسی کو شرےک نہ کرو ۔ اور مےرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قےام و رکوع و سجود کرنے والوں کےلیے پاک رکھو ۔ اور لوگوں کو حج کےلیے اذنِ عام دے دو کہ وہ تمارے پاس ہر دور دراز مقام سے پےدل اور اُنٹوں پر سوار آ ہےں تاکہ وہ فاہدے دےکھےں جو ےہاں اُن کےلیے رکھے گےٗ ہےں اور چند مقرر دنوں مےں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لےں جو اُس نے انہےں بخشے ہےں خود بھی کھاےٗں اور تنگ دست حجاّج کو بھی دےں ۔ پھر اپنا مےل کچےل دور کرےں اور اپنی نذرےں پوری کرےں اور اِس قدےم گھر کا طواف کرےں ےہ تھا(تعمےر کعبہ کا مقصد)اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو ےہ اس کے ربّ کے نزدےک خود اس کےلیے بہتر ہے‘‘( الحج ۶۲ ۔ ۹۲)’’بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کےلیے ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ مےں واقع ہے اس کو خےر و برکت دہی گئی تھی ۔ اور تمام جہان والوں کےلیے مرکز ہداےت بناےا گےا تھا ۔ اس مےں کھلی ہوہی نشانےاں ہےں ۔ ابراہےم ;174; کا مقام عبادت ہے ۔ اور اس کا حال ےہ ہے جو اس مےں داخل ہوا ماموں ہو گےا ۔ لوگوں پر اللہ کا حق ہے کہ و ہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطا عت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے اور جو اس حکم کی پےروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تمام دنےا والوں سے بے نےاز ہے‘‘ ۔ (اَل عمران ۶۹ ۔ ۸۹)

خانہ کعبہ کی بنےاد: ۔ خانہ کعبہ کی بنےا د حضرت ابراہےم ;174; اور حضرت اسمعےل ;174; نے رکھی ۔ اور اسے تمام لوگوں کےلیے عام کےا ۔ تمام عرب والے حج کے زمانے مےں چار ماہ قتل و غارت نہےں کرتے تھے اور حج کےلیے راستے محفوظ بناتے تھے ۔ حج اسلام کا اےک رکن ہے جےسے توحےد،نماز،زکوۃ ۔ رمضا ن ۔ حج حضرت ابراہےم ;174; کے عہد۰۰۵۴ سال سے عربوں مےں مےں عبادت کا مسلم طرےقہ چلا آرہا تھا ۔ اور قدےم الِ عرب اس سے تمدنی اور مالی فواہد حاصل کرتے تھے ۔ تمام عرب سے لوگ ےہاں آ کر اپنا مال فروخت کرتے دوسروں سے مال خرےدتے ،شعر و شاعری کے پروگرام ہوتے اےک مےلے کا سا سماں بن جاتا تھا ۔ مگر عبادت کےا تھی سےٹےاں بجاتے، کعبہ کا طواف برہنا ہو کر کرتے تھے،قربانی کے جانور خانہ کعبہ کی دےوار کے ساتھ رکھ دےتے، جانوروں کا خون خانہ کعبہ کی دےواروں پر لگاتے تھے ۔ اےک خدا کے علاوہ تےن سو ساٹھ بتوں کی پوجا کرتے تھے ۔ اور کہتے تھے مانتے تو ہم اےک اللہ کو ہےں مگر ےہ بت ہمارے سفارشی ہےں ےعنی جو توحےدی طرےقہ حضرت ابراہےم ;174; نے ان کو سکھاےا تھا اُس کو چھوڑ چکے تھے شرک مےں مبتلا ہے گےٗ تھے ۔ فتح مکہ کے موقع پر اللہ کے رسول ;248; نے تےن سو ساٹھ بت توڑ دیے تھے ۔ باقی اصلاح بعد مےں کی ۔

حج اکبر: ۔ جب ۸;247;ھ مےں مکہ فتح ہو گےا تو اس کے بعد پہلا اسلامی دور کا حج پرانے طرےقے پر ہی ہوا ۔ ےعنی وہی جو عربوں مےں قدےم زمانے سے راج تھا دوسراحج ۹ ;247;ھ مےں مسلمانوں نے اپنے طرےقے پر کےا اور مشرکےن نے اپنے طرےقے پر کےا ۔ تےسرے سال جب بالکل شرک کا اےتصال ہو گےا تب رسول ;248; نے حج ادا فرماےا ۔ اس حج کو حج اکبر کہتے ہےں جو مقررہ حج کی تارےخوں مےں ادا ہوا ۔ وےسے خانہ کعبہ جاناعمرہ ہوتا ہے ۔ اسلامی دور کے دوسرے حج کے موقع پررسول ;248; نے حضرت ابو بکر ;230; اور بعد مےں حضرت علی ;230; کو مکہ بھےجا اور ساتھ ےہ فرماےا کہ ان باتوں کا اعلان حجاج کے سامنے کروے ا ۔ جنت مےں کوئی شخص داخل نہےں ہو گا جو دےن اسلام کو قبول کرنے سے انکار کرے ۔ ۲ ۔ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج کےلئے نہ آئے،۳ ۔ بےت اللہ کے گرد برہنہ طواف کرنا ممنوح ہے;252;۴ ۔ جن لوگوں کے ساتھ رسول ;248;کا معاہدہ باقی ہے ےعنی جو نقصِ عہد کے مرتکب نہےں ہوےٗ ان کے ساتھ مدت معاہدہ تک وفا کی جاےٗ گی;252; ;252;ےعنی اسلامی دور کے تےسرے سال حج کے قدےم طرےقے کی اصلاح کر دی گئی اور خالص توحےدی طرےقے سے حج ادا کےا گےا ۔

حج کی نےت: ۔ اگر حج کی نےت کر لی گیٗ ہو تو اسے پوراکرنا چاہیے;252; قربانی کے بعد بال ترشےواےٗ جاےٗں قربانی سے پہلے نہےں ;252;قربانی مےسر نہ ہو توحج کرنے والے کو تےن روزے حج کے دوران اور سات روزے گھر آ کر رکھنے ہےں اسطرح ۰۱ روزے پورے کرنے کا حکم ہے ےعنی مقررہ روزے رکھنے کا;252; حج کے دوران اسلامی اخلاقےات کا خےا ل رکھنا اور اس پر عمل نہاےت ضروری ہے ۔

تقویٰ: ۔ تقویٰ جس کا قرآن شرےف مےں بار بار ذکر آےا ہے،حج کے دوران زادہ راہ اس ہی تقویٰ کو بنانے کا حکم ہے ۔ ےعنی بہترےن زادِراہ تقویٰ ہے ۔ اس مےں تمام چےزےں آ جاتی ہےں ۔ حضرت ابو ہرےرہ ;230; سے رواےت ہے کہ رسول ;248;اللہ نے فرماےا جس نے اس گھر کا حج کےا اور اس مےں شہوت اور فسق و فجور سے اجتناب کےا وہ اس طرح پلٹا جےسے اپنی ماں کے پےٹ سے پےدا ہوا ۔ ےعنی تمام گناہ معاف ہو گئے ۔ مَشغرِحرام(مزولفہ) کے پاس ٹھہر کر اللہ کو ےاد کرنا چاہیے جس طرح اللہ نے ہداےت دی ہے ۔ جب حج کے ارکان ادا کر دیے جائےں بھر جس طرح مشرک اپنے آباوٗ اجداد کا ذکر کرتے تھے اَب تم لوگ ا اللہ کا ذکر کرو ۔ قرےش اور اُن کے رشتہ دار قبائل نے اپنےلیے ےہ طرےقہ اےجاد کےا ہوا تھا کہ عام عرب کی طرح عرفات تک نہےں جاتے تھے اس بات کی اصلاح کر دی گئی کہ تمام لوگ اےک جےسا عمل کرینگے ۔

حج زندگی مےں اےک دفعہ: ۔ زندگی بھر مےں صرف اےک دفعہ حج فرض ہے اور ساتھ ےہ بھی ہے کہ بندہ قوت بھی رکھتا ہو ۔ ےعنی استطاحت ۔ حدےث مےں آتا ہے کہ حضرت ابو امامہ ;230; سے رواےت ہے رسول ;248;اللہ نے فرماےا جس کو کسی صرےح حاجت نے روکا ہو، نہ کسی ظالم سلطان نے، نہ کسی روکنے والے مرض نے اور پھر اُس نے حج نہ کےا ہو اور اسی حالت اسے موت آجائے تو اسے اختےار ہے خواہ ےہودی بن کر مرے ےا نصرانی بن کر مرے ۔

فطری تربےت: ۔ مسلمان اللہ کا اس زمےن مےں خلےفہ ہے اِس کا کام اللہ کے دےن کو قائم اور جاری رکھنا ہے ۔ ےہ کام صرف جہاد فی سبےل اللہ سے ہی ممکن ہے جہاد فی سبےل اللہ مےں جو تکلےفےں پےش آتی ہےں حج اُس مےں مدد گار ہوتا ہے ۔ ظا ہر ہے انسان حج کے سفر مےں گرمی سردی ناموافق حا لات مےں جو تکالےف اُٹھاتا ہے اس سے انسان کی عبادت کے ساتھ ساتھ تربےت بھی ہوتی ہے جو اسے جہاد فی سبےل اللہ مےں کام آتی ہے ۔ تمام ارکانِ اسلام اللہ تعالیٰ نے اس ترتےب سے بنائے ہےں کہ وہ انسان کےلئے اس بڑے کام ےعنی جہاد فی سبےل اللہ مےں مدد گار ہوں ۔ اس کے علاوہ حج مسلمانوں کی ا جتماعےت اور اتحاد کا مظہر ہے ۔