- الإعلانات -

شاہ سلیمان کادورہ امریکہ ….

سعودی عرب کے بادشاہ خادم الحرمین شریفین سلمان بن عبدالعزیز کے پہلے غیر ملکی دورہ کو دنیا بھر کے مبصرین اہم ترین دورہ قرار دے رہے ہیںاپنی تخت نشینی کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ ہے ۔ اپنے بھائی کی رحلت کے بعد دنیا بھر کے سربراہان مملکت ان سے تعزیت کرنے ریاض پہنچے انہی سربراہان میں امریکہ کے صدر بارک اوبامہ بھی تھے جنہوں نے بنفس نفیس خود سعودی عرب کے بادشاہ کودورہ امریکہ کی دعوت دی تھی سعودی بادشاہ کے دورہ امریکہ کو عالمی مبصرین دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال اور نئے قائم ہوئے سیاسی بلاکوںکے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں بلا شبہ یہ نہایت اہمیت کا حامل دورہ ہے کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال سب کے سامنے ہے ۔ عالم اسلام کے سب سے بڑے مراکز بیت اللہ اور روضہ رسول سعودی عرب میں موجود ہیں اور مسلمانان عالم مکہ اور مدینہ کودنیا کے تمام بڑے شہروں سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ عالم اسلام میں سعودی عرب کے بادشاہ کو نہایت عزت اور تکریم کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور انہیں اپنا راہبر اورراہنما تسلیم کیا جاتا ہے صرف یہی وجہ سعودی حکمرانوں کی عزت کرنے پر مجبور نہیں کرتی بلکہ مملکت سعودی عرب کے وہ دفاعی کام جو اسلامی دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں اربوں ڈالر کی مدد سے پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں وہ بھی اس وجہ قرار پاتے ہیں اس وقت مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کی بدولت اس ملاقات کی اہمیت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے اس وقت مغربی طاقتیں اور امریکہ کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے کے باعث بہت سارے شکوک و شہبات نے جنم لیا ہے چنانچہ حالیہ دورہ امریکہ دوران اس اہم ترین مسئلہ کو ایجنڈے میں سرفہرست رکھا گیااور سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلیمان بن عبدالعزیز نے بغیر لگی لپٹی رکھے امریکی صدر سے اس بابت دریافت کیا اور امریکی صدر نے اپنے نہایت ہی قابل احترام سعودی مہمان کو مفصل وضاحت پیش کی کہ جوہری معاملات پر ایران کے ساتھ اس معاہدے کی ضرورت کیوں کر محسوس کی گئی اس کے ساتھ ساتھ امریکی صدر نے سعودی بادشاہ کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ ایران کے ساتھ کیے جانے والے جوہری معاہدے کے باوجود سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات ہرگزمتاثر نہ ہونگے ۔ دونوں سربراہان مملکت میں شام اور لیبیا کی صورتحال بھی زیر بحث لائی گئی کیونکہ اس وقت ان دونوں ممالک میں انتشار دن بدن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ عراق کی صورتحال بھی دن بہ دن خراب ہوتی چلی جارہی ہے ۔ گزشتہ دنوں سعودی عرب کے خفیہ ادارے نے ان دہشت گردوں کو گرفتارکیا تھا جنہوں نے تقریباً 20 برس قبل ایک عمارت پر حملہ کرکے درجنوں امریکیوںکو ہلاک کردیا تھا اس دورے کی بدولت سعودی عرب اور امریکہ کے درمیان دفاعی تعلقات اور دفاعی اتحاد کو مزید تقویت بخشی ہے۔ سعودی شاہ کے ہمراہ امریکہ جانے والے عمائدین کا قافلہ 4 جمبو جہازوں پر مشتمل تھا جس میںوزراءدفتر خارجہ کے ماہرین کاروباری گروپس کے سربراہان اور ممتاز شہری شامل تھے ۔ ریاض میں دفتر خارجہ نے سعودی بادشاہ اور امریکی صدر کے مابین ہونے والی ملاقات ایرانی جوہری معاہدے کے بعد امریکی وضاحت پر اطمینان کا اظہار کیا ہے ۔ اس دورہ کے بعد عالمی مبصرین توقع ظاہر کررہے ہیں کہ ان دو بڑے ممالک کے راہنماﺅںکی ملاقات کے بعد دنیا میں تیزی سے پھیلی ہوئی دہشت گردی پر قابو پانے میں نہ صرف مدد ملے گی بلکہ شام عراق ،یمن اور لیبیا جیسے ممالک میں بھی امن برپا ہونے کی نوید ملے گی ۔ سعودی عرب اور امریکہ دونوں ایک دوسرے کے حلیف ہیںاور اس دوستی و قربت کا فائدہ اسلامی دنیا کو ہمیشہ ہواہے ۔ دونوںممالک کے مابین اربوں ڈالر کی تجارت ہورہی ہے اور عالمی امن کے حوالے سے بھی دونوں ممالک کا نقطہ نظر ہمیشہ ایک رہا ہے ۔ اس وقت ہزاروں سعودی شہری امریکہ میںمقیم ہیں اور بہت سارے طلبہ وہاںکی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے میںمصروف ہیں ۔ شاہ سلیمان کا حالیہ دورہ نہ صرف سعودی امریکہ تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دے گا بلکہ اس سے یہ امید پیدا ہوچلی ہے کہ اب مشرق وسطیٰ کے ممالک سے دہشتگردی کے عنصر کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا اور امن کی نئی صبح طلوع ہوگی۔