- الإعلانات -

سودی نظام کا خاتمہ

مجھے یاد پڑتا ہے کوئی ایک ماہ قبل وزیر خزانہ نے یہ کہا کہ ہم پانچ سو ارب کا ایک فنڈ بنائیں گے اور اس فنڈ کی تقسیم اخوت جیسے اداروں کی ذمہ داری ہو گی ۔ یہ ادارے ضرورت مند لوگ ڈھونڈیں گے اوران کی اسسمینٹ کریں گے ان کی اپروول کریں گے اور انہیں خود چھوٹے قرضے پیش کریں گے ۔ اوربڑے بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے کہا گیا کہ تیسری دنیا میں آج تک کسی ملک میں بغیر سود قرضوں کی فراہمی کا اس طرح بندوبست نہیں ہوا ہوگا وزیر خزانہ نےکہا کہ بڑے بڑے کمرشل بنک کروڑوں کے قرضے دیتے ہیں ، لیکن چھوٹے چھوٹے قرضے دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔ یہ رقم حکومت کی گارنٹی پر ان ہی بڑے بنکوں سے آئےگی اور مائیکروفنانس اداروں کو مل جائے گی ۔ بے شک اس پر بھی خرچ ہوگا مگر یہ خرچ حکومت کر گی ۔ جو تجربہ مجھے ہے ان قرضوں کی سو فیصد ریکوری ہے ۔ یہ قوم بددیانت نہیں ہے ۔ یہ قوم قابل اعتماد ہے ۔ شوکت ترین جو خود ایک بنک کے مالک ہیں ، اور بڑے بڑےبنکوں کے صدر رہے، سرمایہ دارانہ نظام کو اندر سے جانتے ہیں ۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بڑے بنکوں کے ڈی این اے میں ہی یہ بات شامل نہیں کہ وہ چھوٹے قرضے دیں ۔ کیا یہ اللہ کی رحمت نہیں ہے کہ اُس نے بلاسود قرضوں کے اس تصور کو باریابی کا شرف بخشا اور پھر ایک ایسا ماحول بنا دیا کہ اس میں سیاسی رضا مندی بھی آ گئی ۔ اور وسائل بھی حکومت کی طرف سے آ گئے ۔ پھر بنکوں کی طرف سے تعاون بھی آ گیا ۔ اورغیر سرکاری اداروں کی شمولیت سے کمبینیشن بن گیا ۔ میں سمجھتا ہوں اگر ایسا ہوجاتا تو یہ ایک غیر معمولی قدم ہوتا ۔ ایک ایک قرضہ دس دس نوکریاں جنم دیتا ۔ دنیا میں مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز(ایم، ایس، ایم،ای)ا سیکٹر سے نوے فیصد ملازمتیں جنم لیتی ہیں ۔ یعنی چھوٹے قرضوں سے لی گئی رقم سے جو کاروبار ہوتے ہیں ان پر جو ملازمتیں ملتی ہیں وہ نوے فیصد ہیں کسی بھی بڑی اکانومی میں ۔ پاکستان اس سیکٹر میں رد شدہ ہے، تیس فیصد سے کم اس سیکٹر پر بزنس ہوتا ہے ۔ اس لئے بنک قرضہ نہیں دیتے ۔ تو یہ شعبہ اگر ترقی کرے گا پیسے آئیں گے، لوگوں کو تنخواہیں ملیں گی، غربت کم ہوگی،سیلف ایمپلائمنٹ ہو گی ۔ اسکے علاوہ سروس انڈسٹری، مینوفیکچرنگ انڈسٹری، پھر ایک پہلو یہ کہ لاکھوں قرضے کسانوں کو ملیں گے ۔ میں سمجھتا ہوں اگر یہ اعلان عملی صورت اختیار کرلیتا تو یقینی طور پر زراعت، لائیو اسٹاک، چھوٹے کاروبار میں خاص طور پر دیہاتوں میں ایک نیا افق طلوع ہوچکا ہوتا ۔ مگر افسوس یہ حکومت خواب تو بڑے بڑے دکھاتی ہے مگرعملی طور پر کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے لیے باہم مشاورت شروع ہوجاتی ۔ اس نظام کی تشکیل کےلئےلوگوں کواعتماد میں لینے کے لیے وزیر اعظم پاکستان قوم سے مخاطب ہوتے، وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ پانچ لاکھ کے قرضے ہوں گے، حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کا اشترک ہوگا ۔ چھوٹے چھو ٹے ادارے جو چھوٹے قرضے دینے کی مہارت رکھتے ہیں ان کو شامل کیا جائے گا ۔ دیہاتوں میں کسان اور شہروں میں جو کاروبار کرنا چاہتے ہیں یہ پروگرام ان کے لئے ہوگا ۔ یہ پروگرام جسے کامیاب پاکستان کا نام دیا گیا تھا ۔ یہ حکومت کی ایک غیر معمولی کامیابی ہوتی اور وزیراعظم عمران خان جو کہتے ہیں کہ میں غریبوں کی مدد کرنا چاہتا ہوں اور دینی اقدار کا احیا چاہتا ہوں ،اور اگروہ سود سے پاک معاشرہ چاہتے ہیں تویہ پروگرام اسی خواب کی تعبیر بنتا ۔ اگر اس کوعملی شکل دی گئی ہوتی میں بلا خوفِ تردید یہ کہہ سکتا تھا کہ دنیا بھر میں کسی حکومت کی طرف سے ایسا اعلان نہیں ہواہوگا کہ وہ چھوٹے قرضوں کی مد میں بھرپور مدد دے گی ۔ بے شک اس سے سود مکمل ختم نہیں ہوتامگر اس سے ملک میں غیر سودی نظام کی راہ ضرور ہموار ہوتی ۔ اس کے بعد یہ رقم دولاکھ سے پانچ لاکھ اور پانچ لاکھ سے دس لاکھ تک بڑھتی چلی جاتی ۔ اور کچھ ہی سالوں بعد سود جیسے موذی مرض سے نجات مل جاتی جسے قرآن نے اللہ اور اس کے رسول سے کھلم کھلا اعلان جنگ قرار دیا ہوا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلم سوساءٹی اور اسلامی ریاست میں سود کے لیے کسی گنجائش کو روا نہیں رکھا ۔ سیرت کی کتابوں میں مذکور ہے کہ فتح مکہ اور فتح حنین کے بعد حضور;248; نے طا ءف کا محاصرہ کر لیا مگر جب بیس روز کے محاصرے کے باوجود طاءف فتح نہ ہوا تو آپ;248; محاصرہ اٹھا کر مدینہ منورہ واپس چلے گئے ۔ اس کے بعد طاءف کا سردار عبدیالیل ایک وفد لے کر مدینہ منورہ پہنچ گیا اور پیشکش کی کہ ہم طاءف والے مسلمان ہونے کے لیے تیار ہیں مگر ہماری کچھ شرائط ہیں جن میں بطور خاص ان تین شرطوں کا ذکر کیا ہمارے نوجوان اکثر مجرد رہتے ہیں اور زنا کے بغیر ان کا گزارہ نہیں ہوتا، اس لیے ہ میں زنا کی حرمت کے حکم سے مستثنیٰ رکھا جائے ۔ ہمارے ہاں زیادہ تر انگوروں کے باغ ہوتے ہیں جسکی وجہ سے شراب کی تجارت ہماری سب سے بڑی تجارت ہے اس لیے ہ میں شراب کی اجازت دی جائے ۔ ہمارا تمام تر کاروبار سود پر مبنی ہے جس کے بغیر ہم کاروبار کر ہی نہیں سکتے اس لیے ہمارے لیے سود کو روا رکھا جائے ۔ جناب نبی اکرم;248; نے یہ تینوں شرطیں مسترد کر دیں اور بالآخر طاءف والوں کو غیر مشروط طور پر دائرہ اسلام میں داخل ہونا پڑا ۔ اسی طرح یمن کی سرحد پر آباد نجران کے عیسائیوں کے ساتھ جناب نبی اکرم;248; کا معاہدہ طے پایا تو آپ;248; نے اس معاہدہ پر یہ شرط بطور خاص لکھوائی کہ کوئی شخص سودی کاروبار نہیں کرے گا اور اگر کسی ذمہ دار شخص نے ایسا کیا تو معاہدہ منسوخ ہو جائے گا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اسلامی ریاست میں آنحضرت;248; سود کی بنیاد پر کاروبار کی کسی بھی درجہ میں اجازت نہیں دے رہے، نہ مسلمانوں کو اور نہ ہی غیر مسلموں کو ۔ اور اس طرح سنت نبوی;248; کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی بھی مسلم ملک کی تمام تر معیشت کلیتاً سود سے پاک ہو ۔ مگر ہمارے ہاں اسلام کے تمام تر دعوؤں کے باوجود سودی نظام کو قائم رکھنے اور متبادل صورتوں کے نام پر سود کی کچھ شکلوں کو باقی رکھنے کی تگ و دو ہو رہی ہے جس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جا سکتا ہے ۔ علامہ زاہد الراشدی صاحب نے اس سلسلے میں بڑا دلچسپ واقعہ کسی محفل میں سنایا تھا وہ کہتے ہیں کہ گوجرانوالہ کے لاہوری دروازے میں ایک پرانے احراری کارکن ملک محمد سلیم مرحوم تھے جو ایک نظریاتی، پختہ احراری اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری;231; کے فدائی تھے ۔ چند برس پہلے کی بات ہے کہ میں نے مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں جمعۃ المبارک کے خطاب میں سود کا مسئلہ بیان کیا اور سودی نظام کے خاتمہ کے سلسلہ میں سرکاری دعوؤں کو رد کرتے ہوئے سامعین کو بتایا کہ سود کا متبادل موجود ہے اور کئی بار پیش کیا جا چکا ہے ۔ جمعہ کے بعد میرا گزر ان کی دکان کے سامنے سے ہوا تو انہوں نے مجھے آواز دے کر روک لیا اور کہا کہ مولوی صاحب! آپ یہ متبادل متبادل کی بات کیا کر رہے ہیں ;238; سیدھی بات کریں کہ قرآن کریم نے سود کو حرام کہا ہے اس لیے سودی نظام کو ختم کرو کیونکہ حرام کا کوئی متبادل نہیں ہوتا ۔ پھر کہنے لگے کہ مولوی صاحب! کل ان لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ زنا کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہوتا اس لیے ہ میں اس کا متبادل بتاؤ اور جب تک علما کرام زنا کا کوئی متبادل نہیں بتائیں گے ہم زنا کو ختم نہیں کر سکتے تو مولوی صاحب کیا زنا کا بھی کوئی متبادل ان کے سامنے پیش کرو گے;238; سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس ملک محمد سلیم مرحوم کے جذبات کا کوئی جواب نہیں تھا ;245;بدقسمتی سے سودی نظام کے خاتمے کیلئے پاکستان میں حکومتی سطح پر ابھی تک کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی ۔ سود کا خاتمہ،حکومت کی آئینی ذمہ داری اس لئے ہے کہ پاکستان کے تینوں آئینوں میں ،پہلے آئین 1956ء دوسرے ایوب خان کے آئین1962ء،اور تیسرے آئین 1973ء میں اس بات کی ضمانت دی گئی اور اس بات کا عزم ظاہر کیا گیا تھا کہ حکومت پاکستان’’نظام معیشت سے سود‘‘ کی لعنت کو ختم کرنے کیلئے بھرپور کوشش کریگی،حکومت جس قدر جلدممکن ہوسکے،ربا کو ختم کرے گی ۔