- الإعلانات -

آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے عوام کاحکومت پر بھرپور اظہار اعتماد

صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی 38 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کے امیدوار چودھری احسن سلیم بریار نے 60588 ووٹ حاصل کر کے کامیابی اپنے نام کر لی ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے نامزد امیدوار و ضلعی صدر چودھری طارق سبحانی 53471 ووٹ حاصل کر سکے ۔ یہ سیٹ سابق صوبائی وزیر و مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی چودھری خوش اختر سبحانی کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے سیالکوٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدوار کی کمیابی پر عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ووٹروں نے عوامی خدمت‘ ایمانداری اور اعتماد کی سیاست کو کامیابی دلائی ہے ۔ نتاءج سے ثابت ہوتا ہے کہ ملک میں ایمانداری اور اعتماد کی سیاست پروان چڑھے گی ۔ عوام نے مخالف پارٹی کے منفی بیانیئے کو مسترد کر دیا ہے اور نتیجہ ثابت کرتا ہے کہ ووٹرز نے عوام دوست حکومتی ایجنڈے کو فتح یاب کر کے بدعنوانوں کی منفی سیاست کو مسترد کر دیا ہے ۔ یہ تبدیلی کے ایجنڈے کی بھی فتح ہے ۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ حلقہ پی پی 38کے عوام نے پی ٹی آئی کے امیدوار کو کامیاب کروا کر برسوں سے لوٹ مار میں مصروف اور دیمک کی طرح چاٹنے والے مافیاز سے بدلہ لے لیا ہے ۔ یہاں کی عوام جم کر ڈٹ کر کپتان کیساتھ کھڑی رہی ۔ اس حلقے میں مافیا نے ظل سبحانی کی طرح اپنے محل اور وسیع وعریض جائیدادیں بنائیں اور حلقہ کی عوام کے لئے کچھ نہ کیا ۔ یہاں پہلی مرتبہ پی ٹی آئی ریکارڈ ترقیاتی کام کروارہی ہے ۔ پی ٹی آئی یہاں کی عوام کی تقدیر بدل رہی ہے ۔ سیالکوٹ کی طرح آزاد جموں و کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے لیے ہونے والے حالیہ انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے 26 نشستوں کے ساتھ اکثریت حاصل کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی گیارہ نشستوں کے ساتھ دوسرے اور چھ نشستوں کے ساتھ پاکستان مسلم لیگ نواز تیسرے نمبر پر رہی ۔ نتاءج کے حوالے سے شکست خوردہ دو بڑی جماعتوں نے ہمیشہ کی طرح دھاندلی کا الزام عائد کیا ۔ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت کی ایک وجہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے وزیر اعظم عمران خان کا بے باک اور نڈر کردار بھی ہے ۔ اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ کشمیر کا عالمی سطح پر مقدمہ لڑنے پر آزاد کشمیر کے عوام نے فیصلہ وزیراعظم عمران خان کے حق میں سنایا اور اپنی کارکردگی کے متعلق سوالات کا جواب الیکشن میں کامیاب ہو کر دے دیا ہے ۔ کشمیریوں کو علم ہے کہ عمران خان کشمیر کی آزادی کا کیس لڑے گا ۔ ان انتخابات کے انعقاد سے قبل ہونے والے جلسوں میں کئی سیاسی قائدین اور امیدواروں کی طرف سے نامناسب اور غیر سنجیدہ بیانات بھی سامنے آئے جن کی وجہ سے پاکستان کے کشمیر کاز کو بین الاقوامی سطح پر نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اب انتخابات گزرنے کے بعد ان تمام قائدین اور امیدواروں کو اپنے رویوں پر غور کرتے ہوئے اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ انتخابات اور ان میں حصہ لینے والی جماعتوں کا وجود ریاست کے وجود کا مرہونِ منت ہے، لہٰذا عوامی فورمز پر کسی بھی شخص کو ایسی کوئی بھی بات کہنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے ریاست کے مفادات پر زد پڑ سکتی ہو ۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ آزاد کشمیر انتخابات میں عمران خان کی کامیابی سے بھارت بہت خاءف ہے ۔ بھارتی میڈیا نے کشمیر کے حوا لے سے عمران خان حکومت کی بھر پور مخالفت کی ۔ پاکستان کے اندر آزادانہ، منصفانہ انتخابی عمل بھارت کے غیرقانونی قبضے والے کشمیر کے عوام کو امید اور جلا بخشتی ہے ۔ ایک دن ضرور بھارت کے غیرقانونی قبضے والے کشمیر کے عوام آزادانہ انتخابات میں حق رائے دہی استعمال کریں گے ۔ پاکستان اور کشمیر میں مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن رہا ہے ۔ عمران خان کشمیر کے سچے سفیر ہیں ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ ن انتخابی مہم کے آغاز سے ہی بھارت کا بیانیہ پیش کر رہی تھی ۔ مسلمانوں کے قاتل نریندر مودی سے دوستی ، بھارت کے ساتھ دو ٹوک بات نہ کرنا ، انتخابات کے چند روز قبل پاکستان مخالف افغان لیڈر سے ملاقات ، یہ سب ایسے شواہد ہیں جن کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ۔ ن لیگ کی پاکستان مخالف قوتوں کے ساتھ دوستی اور ان کی حمایت کی وجہ سے واضح شکست ہوئی ۔ ویسے بھی ن لیگ کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے ۔ آزاد جموں و کشمیر کے الیکشن کو متنازعہ بنانا مسلم لیگ ن کی سازش تھی اسی لئے پولنگ کے آغاز کے ساتھ ہی طے شدہ پلان کے مطابق رونا پیٹنا شروع کر دیا ۔ ن لیگی سربراہ چوری میں سرٹیفائیڈ اور سزا یافتہ ہیں وہ لندن میں پاکستان کو گالیاں دینے والوں سے مل کر سازشیں تیار کر رہے ہیں اوران کی بیٹی یہاں ان کی سازشوں پر عملدرآمد کروا رہی ہیں ۔ آزاد کشمیر و پاکستان کے عوام جانتے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان بدعنوانی کے خلاف لڑ رہے ہیں ۔ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی کرپشن کو بچانے کے لئے اتحاد کیا تھا ۔ ماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں ایسا ہی کرتی رہی ہیں ۔ اپوزیشن نے انتخابات سے قبل ہی دھاندلی کے بے بنیاد الزامات لگانا شروع کر دیئے تھے ۔ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کا پاکستان میں کوئی سیاسی مستقبل نہیں ہے ۔ آزاد کشمیر میں انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور زیادہ نشستیں حاصل کرنے والی جماعت پی ٹی آئی کے لیے حکومت تشکیل دینا چنداں مشکل نہیں ۔ آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کا قلمدان کسے سونپا جاتا ہے اس کا فیصلہ حکمران جماعت کے قائد اور وزیراعظم عمران خان نے کرنا ہے ۔ تمام سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ دھاندلی کا شور مچا کر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے عوامی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوریت کے فروغ اور استحکام کے لیے راستہ ہموار کریں ۔ آزاد جموں و کشمیر کی اہمیت پاکستان کے لیے صرف ایک علاقہ سے کہیں بڑھ کر ہے، لہٰذا تمام سیاسی جماعتوں کو اب اپنی اپنی حیثیت میں کشمیری عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ دینی چاہیے ۔