- الإعلانات -

مودی اور ہندو ہاءپر نیشنل ازم

ورزیاں اور مذہبی ;200;زادی کی پامالی سرکاری سرپرستی میں کی جاتی ہے ۔ مودی کے دور اقتدار میں اس ضمن میں صورتحال ہر گزرتے دن کےساتھ بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔ رواں سال مارچ میں بھی ایک امریکی ادارے فریڈم ہاوَس نے ہندوستان کے بارے میں اپنی رپورٹ میں انسانی حقوق کی متعدد پامالیوں کو رپورٹ کیا تھا ۔ رپورٹ میں پولیس کے ذریعہ غیر قانونی قتل وغارت گری ، اظہار رائے کی ;200;زادی اور میڈیا پرپابندیوں کی بھی نشاندہی کی گئی تھی ۔ متنازعہ شہریت قانون کو مسلمانوں کےساتھ امتیازی سلوک قرار دیا گیا تھا ۔ امریکی تھنک ٹینک نے رپورٹ میں کہا تھا کہ مودی اور ان کی ہندو قوم پرست جماعت المناک حد تک ;200;مریت کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ واشنگٹن میں واقع ادارے فریڈم ہاوَس نے رواں برس تین مارچ کو فریڈم اِن دی ورلڈ کے عنوان سے جو رپورٹ جاری کی تھی اس میں واضح طور پر کہا تھا کہ دنیا کی بڑی(نام نہاد) جمہوریت میں اپنے مسلم شہریوں کےخلاف امتیازی سلوک بدستور جاری ہے اور حکومت کے ناقدین اور صحافیوں کو ہراساں کرنے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے ۔ رپورٹ میں ، متعدد برسوں کے ایسے طریقہ کار کا حوالہ دیا گیا ہے، جسکے تحت ہندو قوم پرست حکومت اور اسکے اتحادی بڑھتی ہوئی پر تشدد کارروائیوں اور تفریق پر مبنی سلوک کی رہنمائی کرتے رہے ہیں ۔ اس رپورٹ میں گزشتہ برس دہلی میں ہونے والے مسلم کش فسادات، حکومت کے ناقدین کے خلاف بغاوت کے مقدمات اور کورونا وائرس کے سد باب کےلئے مودی حکومت نے جو لاک ڈاوَن نافذ کیا اس دوران مہاجر مزدوروں پر گزرنے والے مصائب کا خاص طور پر ذکر کیا گیا تھا ۔ ہندوستا ن میں اقلیتی ;200;بادی کی تعداد 262 ملین ہے ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ مہاتما گاندھی ، جواہر لال نہرو اور بی ;200;ر امبیڈکر جیسے رہنماؤں کے وعدے پر یقین رکھتے ہوئے ہندوستان ہی میں مقیم رہے کہ ہندوستان ہندو راشٹریہ نہیں بلکہ ایک سیکولر ریاست ہو گا جو ہر شہری کی برابری کے ساتھ نگہداشت کرے گا ۔ لیکن سب کچھ برعکس ثابت ہوا ۔ خصوصاً بی جے پی کے اقتدار میں ;200;نے کے بعد اقلیتوں کی ;200;س امید پر مکمل طور پانی پھرتا جا رہا ہے ۔ ستمبر 1925 میں انتہا پسند تنظیم ;200;ر ایس ایس (راشٹریہ سویم سیوک سنگھ)کے وجود میں ;200;نے کے بعد اسکے پیرو کاروں نے ہندووَں کے علاوہ سب کو حقیر سمجھتے ہوئے ایک شاطرانہ رویہ اپنانے کےلئے برین واشنگ کرنا شروع کر دی تھی جسکے بعد مسلم کمیونٹی پر زمین تنگ ہونا شروع ہو گئی ۔ ;200;ر ایس ایس ، بی جے پی ، وشوا ہندو پریشد ، شیوسینا اور بجرنگ دل جیسے متشدد گروہوں کے ذریعہ ایودھیا میں ( 6 دسمبر 1992)جب بابری مسجد شہید کی گئی تو مذہبی خطوط پر تقسیم واضح طور پر سامنے ;200; گئی ۔ بی جے پی کے رہنما ایل کے اڈوانی نے مسجد پر ہجومی حملے کی قیادت کی ۔ اس پہ ظلم یہ کہ ہندوستانی عدلیہ نے اپنے فیصلے میں بابری مسجد کی اراضی رام مندر بنانے کیلئے ہندووَں کے حوالے کردی جبکہ کسی کو بھی مسجد مسمار کرنے کی سزا نہیں دی گئی ۔ اس سے حوصلہ پا کر متشدد سنگھ پریوار کے غنڈوں نے اپنی نفرت انگیز مہم کو مزید تیز کر دیا ہے جس میں بنیادی طور پر مسلم ;200;بادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ 2014 میں لوک سبھا انتخابات میں سنگھ پریوار کے کارکنوں نے ووٹروں کو ہندوازم کی بنیاد پر متحرک کیا جبکہ غیر ہندو ووٹروں کےلئے انہوں نے حالات ہی ایسے بنا دیئے کہ انکے پاس بی جے پی کو ووٹ دینے کے علاوہ چارہ نہیں تھا ۔ کامیابی کے بعد بی جے پی نے نریندر مودی کو ملک کا وزیر اعظم بناڈلا ۔ انکے اقتدار کے میں 2014 سے لے کر ;200;ج تک’’ ہندو ہاءپر نیشنل ازم‘‘ کے خطرناک رجحان میں شدت آ گئی ۔ ;200;ج بھارت میں ناقدین کو ملک دشمن قرار دیا جاتا ہے ۔ محض گائے کا گوشت کھانے سے روکنے کےلئے ہندو غنڈوں کی ٹی میں گشت کرتی ہیں ۔ اسلامی شخصیات اور مسلم دور کے شہروں ، چوکوں ، بازاروں اور اداروں کے ناموں کی جگہ ہندو شخصیات کے ناموں سے بدلا جا رہا ہے ۔ ہندوستان کی مسلم دور کی حکمرانی کو تاریخ کی کتابوں سے ختم کرنے کی سوچ بچار جاری ہے ۔ مودی کا انتخابی نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس ، چمکتا ہوا ہندوستان سب الٹ گئے ہیں ۔ اب یہ ہندہندو کا میں دل گئے ہیں ۔ جن لوگوں نے مودی کو ووٹ نہیں دیا ان کو پاکستان جانا چاہئے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں ۔ بہار سے بی جے پی کے امیدوار گیرراج سنگھ نے انتخابی مہم 2014 کے دوران جھارکھنڈ میں ایک ریلی کو بتایا ۔ بی جے پی چین سے مسلمانوں کی داڑھیاں منڈھوانے کےلئے مشینیں لائے گی اور بعد میں انہیں ہندو مذہب اپنانے پر مجبور کرے گی ۔ یہاں تک کہا گیا اگر ;200;پ مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو بی جے پی کے حق میں ووٹ کاسٹ کریں ۔ اسی طرح بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ مسلمان بائیو ٹیررازم کو پھیلانے میں ملوث ہیں ۔ اس سب کچھ کے باوجود امریکہ اب بھی مودی کو کسی طرح کی شٹ اپ کال دینے کو تیار نہیں ۔ اپنے ہی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس پر خاموش رہتا ہے کیوں کہ خطے میں اسے ایک نیا اسرائیل چاہئے جو مسلم کشی میں اسکا ساتھ دے ۔