- الإعلانات -

آزاد کشمیر انتخابات اور مریم نوز کا المیہا

گزشتہ سے پیوستہ

چنانچہ یہی کچھ ہوا مسلم لیگ ن کی حکومت ، ن لیگ حمایت یافتہ الیکشن کمیشن اور انتخابی حلقوں میں ن لیگ کے حامی اسٹاف ممبروں کی تعیناتی کے باوجود مریم نواز کے حمایتی صرف چھ سیٹیں ہی حاصل کر سکے ہیں ۔ مریم نواز کے ایک مشیر خاص پرویز رشید جنہیں نواز شریف دورِ حکومت میں ہی ریاستی امور کی سنگین خلاف ورزی پر وزارت سے سبکدوش کر دیا گیا تھا ، اپنے ایک ٹویٹ میں تحریک انصاف کے حاصل کردہ چھ لاکھ ووٹوں اور چھبیس سیٹوں کو تسلیم کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی حاصل کردہ سیٹوں سے مسلم لیگ ن کی سیٹوں کا تقابلی جائزہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے ساڑھے تین لاکھ ووٹ حاصل کئے اور گیارا سیٹیں حاصل کیں جبکہ ن لیگ نے پانچ لاکھ ووٹ حاصل کئے تو اُنہیں صرف چھ سیٹیں ہی ملی ہیں ۔ پرویز رشید اتنے بھولے بادشاہ نہیں ہیں ، پہلی بات تو یہ ہے کہ جس الیکشن میں پانچ بڑی سیاسی جماعتیں اور سینکڑوں آزاد اُمیدوار حصہ لے رہے ہوں وہا ں پر ہار جیت محض چند درجن یا چند سینکڑہ ووٹو ں سے ہی ہوتی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی انتخابی مہم کو جذباتی انداز میں چلا کر بلاول بھٹو زرداری تو الیکشن سین سے غائب ہو گئے تھے البتہ شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی نے پہلی مرتبہ ;200;زاد کشمیر کی سیاست میں مسئلہ کشمیر پر سنجیدہ گفتگو کرتے ہوئے ن لیگ سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے کے مقصد کو پا لیا تھا جبکہ ن لیگ بیشتر سیٹوں پر تیسرے نمبر پر ہی ;200;ئی ۔ جہاں تک تحریک انصاف کی کامیابی کا تعلق ہے د ر حقیقت، وزیراعظم عمران خان کی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تراڑکھل کوٹلی کی گہری سوچ بچار پر مبنی فکر انگیز تقریر ;200;زاد کشمیر الیکشن میں گیم چینجر ثابت ہوئی جس کا اثر بیشتر فکر و نظر رکھنے والے کشمیری خاندانوں پر ہوا چنانچہ ;200;زاد کشمیر کے تمام سنجیدہ حلقوں نے تحریک انصاف کے حق میں ووٹ کا سٹ کیا ۔ حیرت ہے کہ مسلم لیگ ن کے وزیراعظم ;200;زاد کشمیر راجہ فاروق حیدر اور ہم خیال ;200;زاد کشمیر الیکشن کمیشن کی موجودگی میں وہ کونسی انتخابی دھاندلی ہے جس نے ;200;زاد کشمیر الیکشن کو داغدار کیا ہے ۔ مریم نواز تو الیکشن سے قبل ہی الیکشن ہارنے کی صورت میں دھاندلی کی بات کرتی رہی ہیں اور اب اُنہوں نے اپنی ہی ;200;زاد کشمیر حکومت کے دور میں الیکشن نتاءج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ دھاندلی کے باوجود اُن کی پارٹی نے پندرہ میں سے گیارا سیٹیں حاصل کرکے میدان مار لیا ہے محض غیر سنجیدہ سیاسی بیان ہی لگتا ہے ۔ مسلم لیگ ن گوجرنوالہ سے کشمیر مہاجر سیٹ سے الیکشن لڑنے والا اُمیدوار دعویٰ کرتا ہے کہ الیکشن ہارنے کی صورت میں وہ دشمن ملک بھارت سے مدد حاصل کریگا ۔ جبکہ وزیرا عظم ہاءوس ;200;زادکشمیر میں بیٹھ کر راجہ فاروق حیدر مسلم لیگی عمائدین بشمول شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال کے ہمراہ دعویٰ کرتا ہے کہ ن لیگ کو عالمی سازش سے ہرایا گیا ہے جس پر شدت پسندی سے احتجاج کیا جائیگا ۔ کیا لندن میں بیٹھے ہوئے مفرور سزا یافتہ نواز شریف اِس عالمی سازش کا حصہ ہیں کیونکہ اِس سے قبل بظاہر بھارتی سیکیورٹی چیف اجیت کمار ڈول کی ہدایت پر افغان سیکیورٹی چیف حماد اللہ محب نواز شریف سے ملاقات کرنے کے بعد بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے پاکستان فوج اور انٹلیجنس پر الزامات کی بوچھاڑ کر چکے ہیں جبکہ افغان بادڑ سیکیورٹی چیک پوسٹوں کا انتظام کرنے میں ناکامی پر افغان سیکیورٹی عملہ یکے بعد دیگرے بارڈر پر موجود پاکستانی فوج کی مدد سے جان بچا کر افغان حکومت کے حوالے کئے جا ر ہے ہیں ۔ درحقیقت عوام کو جان لینا چاہیئے کہ ن لیگ قائدین ;200;زاد کشمیر الیکشن میں مریم نواز کی ناکامی کا ملبہ تحریک انصاف پر ڈالنے کےلئے جھوٹ کپٹ اور خوبصورت دھوکہ دہی کے اقدامات میں مصروف ہیں جس کی تحقیقات ;200;نے والی ;200;زاد کشمیر حکومت کو بخوبی کرکے ;200;زاد کشمیر ن لیگی حکومت کے ذمہ داران کو مثالی سزا دینی چاہیے ۔ (خم شد)