- الإعلانات -

?شہریوں کی چادر اور چار دیوار

نامعلوم ‘‘ کی آنکھیں سب کچھ دیکھتی ہیں تو تھانے کی چادر اور چار دیواری کی حرمت پر میلی آنکھوں پڑ جاتی ہےں ۔ پولیس ہمیشہ ایسی آنکھوں سے بچنے کی کوشش کرتی ہے ۔ جن شریف شہریوں کی چادر اور چار دیواری عدم تحفظ کا شکار ہے انہیں تھانے تحفظ فراہم نہیں کرتے ہیں ۔ ان کی ایف آئی آردرجہ کرنے سے پہلے ان ناموں کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرتے ہیں کہ ان کی قوت خرید کی کیا پوزیشن ہے ۔ اگر با پوزیشن ہیں تو ایف آئی آر میں نام ڈالنے اور نکالنے پر سودا ہوتا ہے ۔ اگر کمزور ہیں ان کے پاس کسی قسم کی پوزیشن اور طاقت نہیں ہے تو تھانے میں ایف آئی آر کی کہانی لے کر آنے والے سے رقم لے کر تھانے کی عظمت اور حرمت کو بچالیتے ہیں ۔ پولیس ایف آئی آر کی طاقت کے بل بوتے پر اپنی رٹ قائم کرتی ہے ۔ ایف آئی آر اتنی اہم دستاویز ہے ۔ جسے پولیس مرتب کرتی اور ترتیب دیتی ہے ۔ یاد رہے کہ پولیس کے اہلکار کی لکھی ایف آئی آر سپریم کورٹ تک وکیلوں کی بھاری فیسوں کا اعزاز پاتی ہے ۔ ایف آئی آر کی پہلی فیس تھانے میں ادا کی جاتی ہے ۔ اگر ادائیگی پر کشش ہے تو اصلی گنہگار کا گناہ تھانے کی چار دیواری کے اندر ہی دم توڑ دیتا ہے ۔ بے گناہ کے اندر ایف آئی آر کو خریدنے کا دم نہیں ہے ۔ تو آخری دم تک اپنی بے گناہی ثابت نہیں کر سکتا ہے ۔ تھانے طاقت ور کے مقابلے میں کمزور کو قانونی طاقت دینے لگ جائیں تو ہر برائی ، ہر جرم ، ہر مجرم ، ہرڈاکو اور ہر طر زکے مافیا کا داخلہ بندہو جاتا ہے ۔ پولیس شہر کے داخلی اور خارجی رستوں کی پہریدار ہے ۔ سارے ناکے دسترس میں ہیں ۔ پولیس کے ہاتھوں کے تعاون اور سہولت کاری کی موجودگی میں جرائم کی دنیا وسیع ہوتی ہے جرائم پیشہ افراد کےلئے پولیس زمین تنگ کرنے کے بجائے کشادہ کرتی ہے ۔ دونوں طرف کی کشیدگی سے اپنے سودے اور مک مکاو کی سودے بازیاں کشیدکرتی ہے ۔ اسی وجہ سے تھانے مجرموں کی محفوظ پناہ گاہیں ہیں ۔ پولیس لا قانونیت کا ’’گیٹ وے ‘‘ ہے تھانوں کے اندر مجرموں کا گیٹ اپ اور میک اپ ہوتا ہے ۔ ہر نوسرباز،جیب کترے اور کالا دھندا کرنے والے کی تھانے میں پیشی ہوتی ہے ۔ حاضری کے ساتھ ’’حاضری ‘‘بھی پیش کرتا ہے ۔ اگر تھانے سے باہر ہے تو اسے اپنی لوکیشن بتانی پڑتی ہے ۔ جائے وقوعہ اور جائے واردات کا پورا نقشہ بتانا ضروری ہے ۔ اب تو آئی ٹی کی حیرت انگیز ترقی نے تھانے کے لئے بے شمار آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔ سوشل میڈیا کا ہر شوروم تھانے سے رابطے میں رہتا ہے ۔ موبائل پر منظر کی حقیقی منظر کشی کرتا ہے ۔ پولیس کے پاس ایسے ایسے باوردی اور بے وردی اینکرز پرسن ہیں جن کی ہر اطلاع، ہر خبر اور کہانی حرف بہ حرف سچی ہوتی ہے کیونکہ پولیس کے نیٹ ورک کا ہر کردار کیمرے کی آنکھ کے سامنے ہوتا ہے اور کسی صورت میں تھانے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے نہیں دیتا ہے ۔ اگر جھوٹ کا سہارا لیتا ہے تو بند گلی میں چلا جاتا ہے ۔ پولیس کے اینکر ہر وقت سول کپڑوں میں ملبوس رہتے ہیں ۔ ایسے بے وردی بھی ہیں جو پولیس کے لیے غیر قانونی کام کرتے ہیں ۔ جو چرس پکڑی جاتی ہے جس سے پکڑی جاتی ہے ۔ اس چرس کو دوبارہ پولیس اپنے نام کےساتھ منشیات فروشوں کے ہاتھوں سے بیچتی ہے ۔ ایسے مافیا کو حراست میں لینا نا ممکن ہے ۔ پولیس کی وردی باوردی ہو ۔ پولیس کی وردی بے وردی ہو تو دونوں صورتوں میں پولیس کا شہر اقتدار محفوظ ہوتا ہے ۔ ڈرگ مافیا پولیس کی نگرانی میں نوجوان نسل کی رگوں میں نشے کا خون اتارتا ہے ۔ جنگل کے قانون کا سب سے زیادہ استعمال پولیس کرتی ہے ۔ پولیس ہر وقت گشت پر رہتی ہے ۔ یہ گشت قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے لیے نہیں ہوتی ہے ۔ فقط نئی ایف آئی آر کی تلاش میں نکلتے ہیں ۔ تھانے کا پہلا جھوٹ;238; پولیس کی پہلی کرپشن;238; پولیس اور تھانے کا رشتہ دار نہیں ہوتا ہے;238;پولیس اور تھانے کی بہت پرانی رشتے داری ہے ۔ اس کے علاوہ دونوں کا کوئی رشتہ دار نہیں ہے ۔ جس کی جیبیں نوٹوں سے بھری ہوں پولیس نے بڑی ترقی کی ہے ۔ ان کی جدید ترین ٹیکنالوجی سے ’’بل گیٹس‘‘ بھی حیران ہے کہ پولیس اتنے رنگو ں میں واردات کی کہانی تیار کرتی ہے کہ کمپیوٹر اپنے سارے رنگوں سمیت بے رنگ ہو جاتا ہے ۔ جب سے دنیا گلوبل ویلج بنی ہے ایک موبائل میں سارے دنیا بند ہے ۔ ہر پرانی چیز کا مکمل ریکارڈ محفوظ ہے کوئی اپنی ویڈیو کو دو نمبر نہیں کہہ سکتا ہے ۔ ’’فیک‘‘ کے ماہرین نے بھی آئی ٹی سے زیادہ ترقی کی ہے مگر جو ترقی یافتہ پولیس میں پائے جاتے ہیں ۔ انہیں ہر نسل کے مجرموں کے ٹھکانوں کا علم ہی نہیں ہوتا ہے ۔ پولیس کو واردات ہونے سے پہلے پتا ہوتا ہے ۔ پولیس کی پہلی کرپشن ہر طرح کی کرپشن کو تحفظ دیتی ہے ۔ پہلا جھوٹ تھانے سے باہر نکلتا ہے اگر پہلی کرپشن اور پہلے جھوٹ کو تھانے میں بلاک کر دیا جائے تو معاشرہ اخلاقی ،سماجی ، معاشرتی اور ریاستی ہلاکتوں سے بچ جاتا ہے ۔ ہر پولیس کے اندر تا حیات خود ساختہ ایف آئی آر ہوتی ہے ۔