- الإعلانات -

?بھٹو غدار تھا

النسل وزیر خارجہ کو کھری کھری سنانے والا جی دار لیڈر بھٹو ہی تھا اسی جر ات پر وہ غدار ہے ۔ مجھے راولپنڈی کے راجہ بازار کا وہ واقعہ بھی یاد ہے جب اس نے ایک کاغذ لہراتے ہوئے عوام کو بتایاتھا کہ امریکہ اس کے خون کا پیاسا ہے ۔ اس میں سیاسی بصیرت خداداد تھی اپنے تجربے اور دنیا کے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ روس افغانستان پر حملہ کرے گا ، ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے آثار ہیں ۔ پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی بڑھنے کے بارے میں بھی اس نے اشارے دیئے تھے ۔ سب کچھ ویسے ہی ہوا ۔ وہ غدار تھا کہ سیاسی بصیرت کے حامل ہونے کی وجہ سے وہ مستقبل کی نبض پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا ۔ اس نے سیاست میں غلطیاں بھی کیں ۔ 1970کے عام انتخابات کے نتیجے میں اگر شیخ مجیب الرحمن کو حکومت بنانے دیتا تو شاید پاکستان دو لخت نہ ہوتا اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش نہ بن سکتا ۔ اسے غریبوں کا درد تھا ، روٹی کپڑا اور مکان اس کا منشور تھا ، آسائیشوں میں آنکھ کھولنے والا بھٹو کرپٹ نہیں تھا ۔ اس نے قومی دولت کو لوٹنے کا عمل نہ کیا ، اسی وجہ سے وہ غدار تھا ، ایٹم بم جسے مغرب اور امریکہ نے اسلامی بم کا نام دیا اس کیلئے وسائل ماحول اور اعلیٰ ترین ٹیم اسی نے تشکیل دی ، ملک کے دفاع کو مضبوط ترین کرنے پر وہ غدار تھا ۔ وہ اس لئے بھی غدار تھا کہ اس نے ملک کو متفقہ آئین دیا ،نادیدہ قوتوں نے دائیں بازو کی طاقت کو مضبوط کرکے اور کچھ بائیں بازو کی طاقت کو یکجا کرکے اسے اقتدار سے محروم کیا گیا ۔ وہ اس لئے غدار تھا کہ پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالنے کو ترجیح دی ۔ اس نے جان بخشی کیلئے کسی سے بھیک نہیں مانگی ۔ وہ ایک ذہین شخص تھا جس کی شخصیت میں مقناطیسی کشش تھی ۔ عرب دنیا میں وہ مقبول ہوچکا تھا ، امریکہ کو خوف تھا بھٹو کہیں اسلامی دنیا کا الگ بلاک نہ بناڈالے اور عرب ممالک اس کی گرفت سے آزاد نہ ہوجائیں ۔ وہ غدار ہی تو تھا کہ اس نے لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس کر ڈالی جس میں سعودی عرب کے فرمانروا سے لیکر یاسر عرفات تک موجود تھے ۔ اس کانفرنس نے امریکہ کو جھنجوڑ کر رکھ دیا اور اسکے حواری تلملا اٹھے ،اسے سزا تو ملنا تھی دنیا کے نامور حکمرانوں نے درخواست کی کہ بھٹو کو جلا وطن کردیا جائے ،ہم اسے اپنے ہاں قیام کیلئے کہیں گے لیکن امریکہ جا دو ہمیشہ ہی سر چڑھ کر بولا ہے ۔ بھٹو اس لئے غدار ہے کہ اس نے اپنے ملک کا مقدمہ یواین او میں بھر پور انداز میں پیش کیا ۔ اسکے کارنامے غدار بننے کےلئے کافی ہیں ۔ ہم ایسی قوم ہیں جو ماضی میں جھانکتی ہے تو اپنے دل ودماغ میں نہ بسنے والوں کو غدار کہتی ہے اور باقیوں کو داغدار، ہم چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے لوگ ہیں ۔ سورج نے تو ڈھلنا ہوتا ہے، دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن ،یہ قدرت کا اصول ہے ۔ آج کے چہرے ماضی بنیں گے ، ان چہروں کے بخیئے بھی ادھیڑے جائیں گے ۔ وقت کسی کی مٹھی میں بند نہیں رہتا ۔ یہ ریت کی طرح بند مٹھیوں سے سرکتا رہتا ہے ، صابن کی ٹکیہ کی طرح اپنے ہی ہاتھوں میں گھل جاتا ہے ۔ ہم ایسی احسان فراموش قوم ہیں کہ جوش میں قبروں سے مردے اکھاڑنا شروع کردیتے ہیں ۔ اگر ہوش میں ہوں تو ہوش مندی کی باتیں کریں لیکن خمار میں رہنے والوں کا سارا منظر دھندلا نظر آتا ہے ۔ یہ صرف نظر کا قصور ہوتا ہے ۔ چاند پر تھوکنے سے چاند پر دھبہ نہیں پڑتا بلکہ اپنی کثافت اپنے ہی منہ پر آگر تی ہے ۔ کاش پیپلز پارٹی اپنے رہنما کے نظریات کو پوری طرح سمجھتی ۔ وہ پیدائشی امیر زادہ تھا وہ واقعات حالات کے چور دروازوں سے مسند اقتدار پر براجمان نہیں ہوا تھا ۔ میرے ملک میں سیاسی زوال دیکھنے کو مل رہا ہے اسی وجہ سے کہ ناپختہ ذہن اقتدارکے نشے میں تکلیف دہ باتیں کرتے ہیں ۔ سیاست میں بازاری پن آچکا ہے ۔ وہی زبان اور طور طریقے دل اور دماغ کو بوجھل کررہے ہیں ۔ نواب زادہ نصر اللہ مرحوم جیسے باکردار لوگ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہے ۔ اب تو یونیورسٹی یا کالج کی کتابیں چھوڑ کر براہ راست سیاست کے میدان میں اترنے والے ذہنی طور پر نابالغ چھیل چھبیلے عوامی جلسوں میں ایسی ایسی باتیں کرتے ہیں کہ باتوں سے خوشبو کی بجاے بدبو آنے لگتی ہے ۔ انہیں سن کر بے ساختہ یہ کہنا پڑتا ہے، شیخ جی زمانہ نازک ہے ۔ دونوں ہاتھوں سے تھامئیے دستار کہ اب دستار اتاری نہیں جاتی بلکہ پاؤں میں گر اکر ٹھڈے مارے جاتے ہیں جو زیادہ تذلیل کرے وہ پاپولر رہنما کہلوانا پسند کرتا ہے ۔ کیا ہی اچھا ہواگر سیاسی پارٹیوں کے رہنما اپنے نورتنوں کو محفل کے آداب بھی گوش گزار کردیا کریں جن سیاسی رہنماؤں کیخلاف نیب کے مقدمات ہیں انہیں بھی ملک سے بے وفائی کا تمغہ دینے کے بعد غدار کہنے میں عجلت پسندی کا ظہار کیا جاتا ہے ۔ یہ ٹاءٹل دینے سے پہلے آئین کی شق نمبر 6کو ضرور ایک بار پڑھ لینا چاہیے تاکہ ہائی ٹریژن سے آشنائی ہوجائے کہ یہ چیز کیا جس کا ذکر تفصیل سے آئین میں کیا گیا ہے اور کیا اس کی آج تک صحیح تشریح اور تعبیر کی جاسکتی ہے ۔ غدار کہنا آسان ہے لیکن ثابت کرنے میں بڑے پاپڑ بیلنے پڑیں گے ۔ ہوش مندی کا تقاضا ہے کہ عوامی جلسوں میں مہذب زبان استعمال کی جائے غیر ضروری حالات واقعات اور موضوع زیر بحث لانے کی روایت جو چل نکلی ہے اس سے اجتناب کیا جانا چاہیے ۔ عوامی مسائل کا ذکراور ان کے حل کیلئے تجاویز زیر بحث ہونی چاہیں ۔ ذاتیا ت کی سیاست کو خیرآباد کہنا اس لئے ضروری ہے کہ اخلاقی حدود کی تمام سرحدیں پار ہوجاتی ہیں ۔ وقتی واہ واہ اور زندہ آباد کے نشے میں انسان بہکی بہکی باتیں کرنا شروع کردیتا ہے ۔ مردوں کو ذاتی ملازم اور خواتین کو تفریح کا ذریعہ سمجھنے والے ادب آداب سے پہلو تہی کرتے ہوئے زبان کو بے لگام کردیتے ہیں جوش میں اور تالیوں کی گونج میں انہیں ہوش ہی نہیں رہتا کہ کیا بات کرنی چاہیے اور کس بات کے کہنے سے ان کی شخصیت کابت پاش پاش ہوسکتا ہے ۔ پھر سو منات کے مندر پر متعدد حملے کرنے والے آج کے نام نہاد محمود غزنوی چاروں طرف سے یلغار کردیتے ہیں کسی نے سچ کہا ہے ‘‘پہلے تو لو پھر بولو‘‘ لیکن یہاں تو معاملہ یہ ہے کہ بولو اور مزید بولو اور بے تکہ بولو، کوئی پوچھنے والا نہیں کوئی حدود و قیود نہیں ۔