- الإعلانات -

افغانستان کے مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے

افغانستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے سر پر کوئی بیرونی طاقت کو برداشت نہیں کیا ۔ چاہے ایسی جنگ میں ان کی کئی دہائیاں بیت جائیں اس کی مثال دنیا کے سامنے ہے کہ جب روس شکست کھاکر افغانستان سے نکلا تو ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا ۔ اس کے بعد امریکہ نے افغانستان پر چڑھائی کی ،ڈیزی کٹر بم مارے ،بی 52طیارے حملوں کیلئے استعمال کئے گئے ، جدید ترین اسلحہ کا تجربہ کیا گیا ،دنیا کی بہترین افواج افغانستان کیخلاف متحد ہوکر اس ملک پر چڑھ دوڑیں لیکن آخر کیا ہوا، افغان قوم نے امریکہ ،نیٹو اور ان تمام اتحادیوں کو شکست سے دو چار کردیا ۔ آج شکست خوردہ امریکہ افغانستان سے نکل رہا ہے ۔ پاکستان نے ہمیشہ کہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں سیاسی ہے ۔ افغان صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہمیشہ سے یہی موقف رہا ہے کہ افغان مسئلے کا حل عسکری نہیں ، دنیا کی عظیم فوجی اتحادنیٹوکوڈیڑھ لاکھ فوج کےساتھ افغانستان میں ناکامی ہوئی، ہم نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ فوجی کارروائی کی ہرگزحمایت نہیں کریں گے، امریکا ہم پردباو ڈالتا رہا کہ شمالی وزیرستان میں طالبان کے ٹھکانے ہیں ، بالاخرہم نے کارروائی کی اور10لاکھ لوگ شمالی وزیرستان سے بے گھرہوئے، ہم یقین رکھتے ہیں کہ افغانستان کوباہر سے کنٹرول نہیں کیاجا سکتا تھا، افغانوں کی تاریخ ہے کہ وہ ہمیشہ سے ;200;زادی پسند رہے ہیں ۔ افغانستان میں غلط تاثر موجود ہے کہ پاکستان کو عسکری ادار ے کنٹرول کرتے ہیں ، فوج میری حکومت کے ہر اقدام کی حمایت کررہی ہے، پاکستان کو افغان بحران کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی افسوسناک ہے، طالبان جو کر رہے ہیں اس کا ہم سے کیا تعلق ہے، ;200;پ کو طالبان سے پوچھنا چاہیے، پاکستان میں لاکھوں مہاجرین ;200;بادہیں ہم کیسے چیک کر سکتے ہیں کہ اِن میں طالبان کون ہیں ، پاکستان نے افغان حکومت سے مذاکرات کیلئے طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کی، چند طالبان رہنماوں کے خاندان یہاں مقیم ہونے سے ہم صرف طالبان کومذاکرت پرمجبورکرسکتے ہیں ۔ بھارت نے 5اگست کو یو این قراردادوں کی خلاف ورزی کی اور یکطرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی،،5اگست کے اقدام کی واپسی تک بھارت سے بات چیت ممکن نہیں ، بھارت امن نہیں چاہتا کیونکہ وہ ;200;ر ایس ایس نظریے کے زیر تسلط ہے، ;200;ر ایس ایس بھارت میں اقلیتوں کیساتھ برا سلوک کررہی ہے ۔ پاکستان کیلئے افغان عمل میں انڈیا کی شمولیت قبول کرنا ممکن نہیں ،پاکستان کی مستقبل کی تمام معاشی حکمت عملیوں کا انحصار افغانستان میں امن پر ہے، پاکستان کی کوششوں کی تائید امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی،ادھر گزشتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان سے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے ملاقات کی جس میں اٹارنی جنرل نے وزیرِ اعظم کو مختلف عدالتی امور، نظام انصاف کے حوالے سے جاری اصلاحات اور ;34; واٹر کمیشن رپورٹ;34;پربریفنگ دی ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے واٹر کمیشن رپورٹ کے حوالے سے جسٹس شاہد کریم کی کاوشوں کو سراہا ۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پانی کا مسئلہ انتہائی اہم معاملہ ہے ۔ اس اہم قومی معاملے میں جسٹس شاہد کریم کی خصوصی دلچسپی اور کاوشیں لائق تحسین ہیں ۔ گز شتہ روز وزیرِ اعظم عمران خان کی زیرِ صدارت راوی سٹی اور لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ پر پیش رفت کا جائزہ اجلاس بھی ہوا جس میں بتایا گیا کہ راوی سٹی میں ماحولیاتی تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے قائم کیا جانے والا 24 ہزار کنال پر محیط جھوک فاریسٹ پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا جنگل ہوگا جس کی نگرانی سمارٹ سینسرز کے ذریعے کی جائے گی منصوبے میں تکنیکی معاونت کیلئے ہواوے کمپنی سے اشتراک کیا گیا ہے مزید منصوبے میں 150 ایکڑ پر قائم کیا جانے والا نالج پارک اس کا ایک اہم حصہ ہے ۔ راوی سٹی میں اربن فاریسٹ کی جامع حکمتِ عملی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت منصوبے میں نا صرف موجودہ جنگلات کا تحفظ اور نالج پارک کا قیام شامل ہے بلکہ پبلک پارکس، بوٹینیکل گارڈنز، برڈ سینکچریز، بٹرفلائی پارکس اور باغات بھی قائم کئے جارہے ہیں ، بٹر فلائی پارکس کو بین الاقوامی طرز پر ماہرین سے مشاورت سے تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ راوی سٹی میں 2000 ایکڑ پر قائم کئے جانے والے پاکستان کے پہلے قابلِ تجدید صنعتی زون میں ایک ہزار کے قریب صنعتیں قائم ہونگی،صنعتی زون میں آئی ٹی پارک، کولڈ سٹوریج، لینڈ فل ساءٹس، کم آلودگی والی;223; گرین انڈسٹری، گرین ریزرو اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ شامل ہیں ،اسکے علاوہ منصوبے میں فُضلے سے بجلی بنانے کا پلانٹ بھی لگایا جائے گا ۔ وزیرِ اعظم نے دونوں منصوبوں کو قومی سطح پر اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں منصوبے لاہور شہر کے مسائل کے تدارک اور خصوصاً معاشی سرگرمی کے فروغ کے ضمن میں کلیدی کردار اداکرینگے