- الإعلانات -

عمران کی غریب دوستیاں اور نواز محب ملاقاتیں

محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے میرے بہت ہی پرانے تعلقات اور دوستی ہے‘ باہمی احترام و اعتماد کا ایک رشتہ ہے اور رابطے واسطے بھی ہیں ۔ محترمہ ڈاکٹر صاحبہ پی پی کے دورِ حکومت میں وفاقی وزیرِ اطلاعات تھیں اور ’’الحمدللہ‘‘ ‘ ’’الحمدللہ‘‘ آج بھی صوبائی وزیرِ بیانات ہیں ۔ ایک قربت و اپنائیت کی وجہ سے میری ہمیشہ سے ہی ان کے ارشادات و بیانات پر نظر رہتی ہے ۔ پی پی 38 سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں پی ٹی آئی کے اُمیدوار کی جیت پر خطاب کرتے ہوئے معاونِ خصوصی محترمہ فرماتی ہیں کہ عوام عمرانی نظرئیے کی تائید کر رہے ہیں ‘ ن لیگ نے میرے کارکنوں کو خریدنے کی بھر پور کوشش کی لیکن پی ٹی آئی کے ٹائیگرز نے نوٹ نہیں ووٹ کو عزت دی ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے مزید فرمایا کہ ’’عوام جم کر‘ ڈٹ کر کپتان کے ساتھ کھڑے ہیں کیونکہ تحریک انصاف ایک غریب دوست پارٹی ہے‘‘ ۔ بصد تکریم و احترام محترمہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اس دنیا اور جہان میں کوئی کسی کے ساتھ کھڑا نہیں رہتا اور وقت بدلتا رہتا ہے جس طرح آپ کبھی شیروں کے شکاری آصف زرداری کے ساتھ بیٹھی تھیں آج کپتان کے ساتھ کھڑی ہیں اور لگتا ہے کہ اس بار جم کر اور ڈٹ کر کھڑی ہیں ۔ بےچارے عوام اپنے اپنے غم میں پر نم رہتے ہیں جنہیں غمِ روزگار کی پڑی رہتی ہے ‘ جیسے کشتی کوئی دریا میں کھڑی رہتی ہے ۔ یہ بے سہارا عوام اندر سے سڑے رہتے ہیں مجبوراً حالات‘ واقعات اور وقت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں مگر یہ وقت ٹھہر تا کب ہے ۔ ادب نگر کے پردھان شاعر احمد فراز جی کے الفاظ میں : ۔

آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اُتر جائے گا

وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا

اوراب ملاحظہ فرمائیے میری محترمہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان صاحبہ کی غریب دوست پارٹی کی غریب دوستیاں اور غریب نوازیاں ۔ خبر چھپی ہے کہ حکومت نے آٹا گھی اور چینی کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا‘ یوٹیلٹی سٹورز پر 20 کلو والا آٹے کا تھیلا 800 روپے سے بڑھ کر 950روپے اور دس کلو کا تھیلا 75 روپے اضافے کے ساتھ 475 روپے پر جا پہنچا ہے‘170 روپے کلو والا گھی بڑھا کر 260 روپے اور چینی 68 روپے سے بڑھاکر 85 روپے کلو ہو گئی‘‘ ۔ غریب عوام روتے دہائی دیتے ہیں کہ مہنگائی کے اس سونامی طوفان میں دو وقت کی روٹی بھی ’’اُوکھی‘‘ ہو گئی ہے تبدیلی سرکار نے تو ہماری زندگی ہی مشکل کر دی ہے ۔ بقول شاعر: ۔

بھوک پھرتی ہے میرے دیس میں ننگے پاءوں

رزق ظالم کی تجوری میں چھُپا بیٹھا ہے

آزاد کشمیر الیکشن میں ن لیگ کا فوج مخالف بیانیہ ہارا ہے صرف شکست نہیں ہوئی بہت ہی بُری شکست ہوئی ہے ۔ ن لیگ نام کی سیاسی جماعت تو ایک ہے لیکن اس کے بیانیے کئی ایک ہیں جو بدلتے ہی رہتے ہیں ۔ سنا ہے کہ ’’شوباز‘‘ شدید ناراض ہیں کہ میری مفاہمتی سوچ بیانیہ نہیں اپنایا گیا جس کی وجہ سے آزاد کشمیر میں ہم اس طرح ہارے ہیں کہ پیپلز پارٹی سے بھی پیچھے چلے گئے ہیں ۔ موصوف اپوزیشن لیڈر ہیں اور پارٹی صدر بھی لیکن پارٹی میں ان کی چلتی نہیں ہے ۔ ’’آر پار‘‘ اور آزاد کشمیر میں ہار کے بعد محترمہ مریم نواز نے ایک اور دھمکی لگائی ہے‘ یہ دھمکی دھاندلی کے خلاف دھرنا دینے کی ہے لیکن یہ محض ایک دھمکی ہی رہے گی ۔ کاش یہ ظالم سیاستدان بے حیائی‘ غربت اور مہنگائی کے خلاف بھی ایک ہو کر لانگ مارچ کرتے اور دھرنے دیتے ۔ آزاد کشمیر میں گزشتہ الیکشن بھی اسی سسٹم کے تحت ہوئے تھے ‘ تب جیت ن لیگ کی ہوئی تھی‘ میرے محترم بزرگ بلکہ برادر اکبر راجہ فاروق حیدر وزیرِ اعظم بنے تھے‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے اس وقت میں چیئرمین مسلم لیگ محترم راجہ محمد ظفر الحق صاحب کے ساتھ تھا جب راجہ فاروق حیدر کے وزیرِ اعظم آزاد کشمیر بننے کی خوشخبری آئی تھی لیکن اس وقت کسی ن لیگی نے دھاندلی کا نام نہیں لیابس جشنِ فتح منارہے تھے ۔ بد قسمتی سے ہمارے ہاں چلن ہی یہی رہا ہے کہ ہر ہارنے والا فریق مخالف پر دھاندلی کا الزام دھرتا ہے لیکن ان ’’آر پار‘‘ والوں نے تو ساری ہی حدیں پار کر دی ہیں ‘ ایل اے 35 سے ن لیگی اُمیدوار اسماعیل گجر کو اب تو ن لیگ نے بھی شوکاز نوٹس جاری کر دیا ہے کیونکہ اسماعیل گجر نے پولنگ کے دوران ضلعی انتظامہ کو یہ دھمکی دی تھی کہ اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو میں بھارت سے مدد طلب کر لوں گا ۔

معروف قانون دان چودھری اعتزاز احسن نے بار بار یہ سوال اُٹھایا کہ ن لیگ اور نواز کی زبان پر کبھی بھی کلبھوشن یادیو کا نام نہیں آتا کیوں ۔ ;238;ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بھی اس ضمن میں اہم سوال کیا ہے کہ نواز شریف نے کبھی مودی کے مظالم کی مذمت نہیں کی‘ مودی کے خلاف کبھی بیان نہیں دیا اس کی کیا وجہ ہے ۔ ;238; افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب کی میاں مفرور سے ملاقات کے بعد ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے کہ تین بار وزیرِ اعظم پاکستان رہنے والے نواز شریف کو ایک پاکستان دشمن سے نہیں ملنا چاہیے تھا جسے وزارت ِ خارجہ ناپسندیدہ قرار دے چکی ہے اور حکومت پاکستان اسے را کا ایجنٹ اور بھارت نواز بول رہی ہے ۔ ملکی و بین الاقوامی دانشور و تبصرہ نگار‘ غیر جانبدار تجزیہ کار اس ملاقات کو مشکوک قرار دے رہے ہیں ۔ سوچنا آخر یہ ہے کہ نواز شریف اس طرح کی ملاقاتوں سے کیا تاثر دینا چاہتے ہیں اور کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔