- الإعلانات -

کوٹلی میں فارمولہ دودھ کی فیکٹریاں

میرے آبائی شہر کوٹلی (وطن) کے سارے اہل دانش کوٹلی کے حلقے کی سیٹ کی جیت کو جیب میں ڈالے پھرتے ہیں لیکن شہری زندگی جس آلودہ آب و ہوا میں رہتی ہے اس طرف کسی کا دھیان نہیں ہے ۔ سارے اپنے اپنے ووٹ بینک کی دولت کا حساب لگانے میں مصروف ہیں ۔ سٹی کی سیٹ کے ووٹروں کا شجرہ نسب کتنے قبائل میں تقسیم ہے ۔ راجہ، جٹ، گجر، سردار اور اقلیتی برادریوں کے ووٹوں کی کل تعداد کتنی ہے ۔ کوٹلی منشیات کے دھوئیں میں کس قدر خوشحال ہے ۔ سفید پوڈر پینے والے پوڈریوں ، چرس کو اپنی صاف و شفاف رگوں میں اتارنے اور نشہ آور ٹیکے لگانے والوں میں ہر روز کتنا اضافہ ہورہا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ نے غیر قانونی دھندا کرنے والوں کیلئے کوٹلی کی زمین تنگ کر دی ہے لیکن مزید کشادہ ہو رہی ہے ۔ منشیات کا زہر قسط وار جانیں لیتا ہے مگر ملاوٹ شدہ اشیائے خوردونوش لاعلاج موذی امراض کا سرچشمہ ہوتی ہیں ۔ ویسے تو کوٹلی فرض شناس اور قابل تحسین انتظامیہ کی وجہ سے بہت مشہور ہے جو دودھ بچوں ، نوجوانوں ، بیماروں اور بوڑھوں کو توانائی فراہم کرتا ہے وہ ناقص سے بھی زیادہ خطرے ناک ہے ۔ قدرتی دودھ میں پانی ملانا بھی مضر صحت ہے اس سے غذائی قلت تو دور نہیں ہوتی ہے البتہ ملاوٹ شدہ دودھ کے زمرے میں آتا ہے ۔ کوٹلی فارمولہ دودھ میں خود کفیل ہے اس دودھ کی فیکٹریاں کوٹلی میں عام پائی جاتی ہیں ۔ انسانی جان کے لیے مہلک کیمیکل سے تیار کیا جاتا ہے ۔ پانی کو دودھ کی سفیدی دی جاتی ہے اور فارمولہ دودھ قدرتی دودھ کی شکل و صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ سویرے سویرے ہر بازار، ہر سڑک اور ہر گلی کوچے میں دودھ کے بڑے بڑے ٹینکی نما ڈرم گھوم رہے ہوتے ہیں جس سے شہری سفید موت (ہیروئن) سے مر رہے ہیں ۔ کیمیکلز سے فارمولہ دودھ تیار کرنے والوں کو جس اتھارٹی نے پوچھنا ہے وہ بے خبر ہیں یا باخبر ہونے کے باوجود اپنی شہرت کو نقصان پہنچانا نہیں چاہتے ہیں کہ سول سوساءٹی کی نامور شخصیات ناراض ہو جائینگی کہ غریب لوگ ہیں ۔ روزی روٹی کی خاطر محنت مزدوری کرتے ہیں ۔ آئندہ ایسی غلطی کے مرتکب نہیں ہونگے ۔ انتظامیہ اپنی کرسیوں کو کسی طرح کے احتجاج سے متاثر نہیں کرنا چاہتی ہے ۔ پبلک پرائس کنٹرول کمیٹی کس حال میں ہے ۔ کہاں ہے، کوئی پتا نہیں ہے ۔ ہر سال رمضان المبارک سے تین دن پہلے اس کمیٹی کا ظہور ہوتا ہے اور روزے اور روزے داروں کے احترام میں دکاندار ہر چیز کے ریٹس بڑھا دیئے جاتے ہیں ۔ فوڈ اتھارٹی کا دفتر کہاں واقع ہے یا اس اتھارٹی کے فیض سے آزاد خطہ محروم ہے ۔ فارمولہ دودھ کا چیک اپ کون سی لیب کرتی ہے ۔ آج تک مہلک دودھ آزادی کے ساتھ فروخت ہو رہا ہے ۔ کبھی اس ٹیم کو کسی شہری نے نہیں دیکھا ہے ۔ دودھ کو تلف کرنے کی بجائے انسانی زندگیاں تلف کی جا رہی ہیں ۔ دونمبر مشروبات کے ڈبے تو بڑے زور و شور سے بک رہے ہیں جو جوس ننھے فرشتوں کو پلایا جاتا ہے اس سے ان کے والدین کو سخت پریشانی ہے ۔ نونہالوں کی صحت کو سخت خطرہ لاحق ہے ۔ بیکریوں کا سامان شوکیسوں میں لشکارے مارتا ہے ۔ یہ کہاں پر تیار ہوتا ہے جس گھی، چینی اور دیگر اشیاء سے بنایا جاتا ہے ان کا کیا معیار ہے ۔ جس کارخانے سے سج دھج کر دکان پر آتا ہے ۔ اس کی صفائی و ستھرائی کا کیا عالم ہے ۔ سویٹ ہاءوس کا ہاءوس (کارخانہ) حفظان صحت کے مطابق بھی ہے یا عوام کو میٹھے زہر سے بیماریوں کا مجموعہ بنایا جاتا ہے ۔ کام کرنے والے برتنوں کا کس قدرخیال رکھتے ہیں ۔ کارخانے کا ماحول محکمہ ماحولیات کی طرح ہے یا اس سے کچھ بہتر ہے ۔ معیار کو چیک کرنا سرکار کا کام ہے اور سرکار کو کون بتائے اور سمجھائے سارے سمجھ دار انتظامیہ کی سمجھ کے ساتھ ہیں ۔

کوٹلی کے ہوٹلوں کا برا حال ہے ۔ بالٹی گوشت کا بکرا سرعام آلودگی اور گرد سے گل سڑچکا ہوتا ہے ۔ اس کی رنگت دیکھ کر خوف آتا ہے ۔ گوشت کا ذائقہ بڑھانے کا عمل جاری ہے ۔ گندے برتنوں کا کردار ہر لحاظ سے قابل مذمت ہے ۔ میونسپل کارپوریشن کوٹلی کے اعلیٰ حکام کا دورہ صحت و صفائی برے طریقے سے ناکام اور بدنام ہو جاتا ہے ۔ تجاوزات ہٹانے کی لہر سارے شہر میں دوڑ جاتی ہے جونہی بلدیہ کوٹلی کا عملہ دفتر کا رخ کرتا ہے تو دکاندار اپنے اپنے سامان کا رخ موڑ دیتے ہیں اور تجاوزات اپنی اصلی حالت میں آ جاتا ہے ۔ فٹ پاتھ سج جاتے ہیں ، فٹ پاتھ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ عوام کے ’’فٹس‘‘ کی ملکیت ہوتے ہیں تاکہ پیدل چلنے والوں کو ریلیف ملے اور تیز رفتار گاڑیوں کی رفتار سے محفوظ رہیں ۔ منگلا جھیل کی ’’مہاشیر‘‘ مچھلی کی ساری تازگی ریڑھیوں پر سوار ملتی ہے ۔ سالم مرغ روسٹ کرنے والے بھی کھانے والوں کو اچھے طریقے سے ’’روسٹ‘‘ کرتے ہیں جس تولیے سے سری پائے، مچھلی کباب اور بالٹی گوشت کھانے والے ہاتھ صاف کرتے ہیں ۔ اس تولیے کی شکل بری طرح سے مسخ ہو چکی ہوتی ہے بلکہ تولیہ سلامت کو تلاش کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ دیوار، تولیے اور شاور ایک ہی بدبودار سیاہی میں ملتے ہیں ۔ ان تینوں میں فرق کرنا بہت ناممکن ہوتا ہے ۔ کوٹلی کے بازاروں میں کراچی سے لے کر ممبئی گوجرانوالہ سے لے کر درہ خیبر تک کی بریانی کی خوشبو کی پرواز کھانے والوں کے ذوق و شوق کا پورا پورا خیال رکھتی ہے ۔ ایس او پیز کے ماحول میں سب کا ماحول صحت مند ماحول کی طرح رواں دواں ہے ۔ شہری اعلیٰ انتظامیہ کے صاف ستھرے دفتروں ، دیدہ زیب کرسیوں ، خوشبودار پرفیوم سے بھری گاڑیوں ، خوش خوراک اور خوش لباس پہننے اور تناول فرمانے والوں سے ایک ہی بات کرتے اورکہتے ہیں کہ ہ میں کوٹلی پیرس کی طرح نہیں چاہیے لیکن اپنی سہولیات اور مراعات کے صدقے لوگوں کو تھوڑا سا صاف و شفاف ماحول ہی فراہم کیا جائے ۔ دکانوں ، دکانداروں کو سیاسی نہ بنائیں کہ راجہ صاحب، جٹ بہادر اور گجر سرکار ناراض ہو جائے گی ۔

ضلعی انتظامیہ اور کارپوریشن کے ایک نمبرافسران سرکار کی طرف سے ملنے والے صاف و ستھرے ماحول سے تھوڑی دیر کےلئے دور ہو جائیں اورجو فارمولہ دودھ کی موبائل فیکٹریاں ہر سو پھیلی ہےں انہیں ہر روز چیک کیا جائے ۔ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوٹلی میں ایک کروڑ سے زیادہ مالیت کی ;806782; لیب کا قیام عمل میں لایا گیا ہے تاکہ کورونا کا ٹیسٹ جدید ترین لیب سے کیاجائے مگر جو کوٹلی شہر کے اندر ہو رہا ہے کہ ہر جگہ ایس او پی کی خلاف ورزیاں عام ہوتی ہیں ۔ ڈی ایچ او آفس سے ہر روز کورونا خبرنامہ جاری ہوتا ہے کہ آج پچاس میں سے ایک کا ٹیسٹ پازیٹیو آیا ہے جس وجہ سے احتیاط کو ہر قدم پر روندا جاتا ہے ۔ شاید سب کو بھیانک انجام اور دہشت زدہ ماحول کا انتظار ہے ۔ محلے سیل ہوں ، پولیس کے ناکے لگیں اور مساجد تالے بندی کا شکار ہوں سب سے مہلک ترین فارمولہ دودھ کی گاڑیاں ، فیکٹریاں اور ڈرموں کا شہر میں داخلہ بند کیا جائے اور روزانہ کی بنیاد پر سفید زہر کو تلف کیا جائے ورنہ یوم حساب کا ریاضی دان حساب برابر کر دے گا