- الإعلانات -

ٹی ٹی پی کی حوصلہ افزائی ۔ ۔ نئی سازش

یک ایسے وقت میں جب جلد بازی میں کئے گئے نیٹو افواج کے انخلا کی وجہ سے افغانستان دوراہے پہ ;200;ن کھڑا ہوا ہے اور کسی نئے کشت و خون کے خدشات بڑھ چکے ہیں ، ایک دہشت گرد اور کالعدم ;200;رگنائزیشن کے سربراہ نور ولی محسود کا پہلی دفعہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر انٹرویو نشر ہونا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے ۔ نور ولی 2018 میں ملا فضل اللہ کے مرنے کے بعد کالعدم ٹی ٹی پی کا سربراہ بنا تھا ۔ امریکی ٹی وی پر دہشت گرد تنظیم کے سرغنے کا انٹرویو پاکستان میں دوبارہ عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کے مترادف ہے ۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ انٹرویو کسی بڑے اہتمام کے بغیر ممکن نہیں تھا، اس کے پیچھے مقاصد بھی یقینا بڑے ہونگے ۔ ٹی ٹی پی پر امریکہ نے پابندی لگائی تھی جبکہ دوسری جانب اس کے دہشت گرد رہنما امریکی ٹی وی سی این این کو ہی انٹرویو دے رہے ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس، را اور سی ;200;ئی اے کا تعاون انہیں حاصل ہے وگرنہ سی این این کی ٹیم کی اس دہشت گرد تک رسائی نہیں ہو سکتی تھی ۔ سی این این جو سی ;200;ئی اے کا اڈہ ہے نے متنازعہ انٹرویو کے ذریعے اس تنظیم کو افغان طالبان کے برابر لانے کی کوشش کی ہے ۔ ٹی ٹی پی پاکستان میں نہتے شہریوں اور مسلح افواج کیخلاف حملوں میں ملوث رہی ہے ۔ ان حملوں میں بچوں اور خواتین سمیت معصوم پاکستانیوں کو نشانہ بنایا گیا جس سے ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا ۔ کمانڈ الیون جو کہ ایک اوپن سورس انٹیلی جنس تھنک ٹینک ہے جسے انسداد دہشت گردی، شورش اور انتہا پسندی کے حوالہ سے تحقیقی کام کرنے کی شہرت حاصل ہے، کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی ایک دہشت گرد گروپ ہے جو اب انڈین سکول ;200;ف پبلک پالیسی (;200;ئی ایس پی پی) کی سرپرستی میں دوبارہ سرگرم ہونے کیلئے کوشاں ہے ۔ تحریک طالبان پاکستان کے سرغنےکے انٹرویو نے ;200;رمی پبلک سکول پشاور پر کئے گئے بہیمانہ حملہ کی یاد تازہ کر دی ہے جس میں سکول کے 134 بچوں سمیت 150 افراد شہید ہو گئے تھے ۔ سوال اٹھتا ہے کہ کیا سی این این نے اس سے قبل اقوام متحدہ کی طرف سے عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دی گئی تنظیموں کو بھی کبھی اپنے ٹی وی پر وقت دیا ہے یا یہ صرف ٹی ٹی پی کے لئے خصوصی اہتمام و انصرام کیا گیا ۔ ٹی ٹی پی کو عالمی میڈیا کی طرف سے ایک پرامن اور انسانی حقوق کا خیال رکھنے والی تنظیم کے طور پر ابھارنے کرنے کی کوشش خطہ کیلئے تباہ کن نتاءج کی حامل ہو سکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی اینالیٹیکل اور مانیٹرنگ ٹیم کی 27ویں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی بہت سے دہشتگرد گروہوں کو اپنی چھتری تلے متحد کرنے کے بعد طاقت پکڑ چکی ہے جس کے نتیجہ میں خطہ میں دہشت گرد حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اس میں 100 سے زائد ایسے حملے بھی شامل ہیں جو پاکستان میں کئے گئے ۔ ٹی ٹی پی 2007 میں پاکستان کے افغانستان سے ملحقہ شمال مغربی سرحدی علاقہ میں کئی مقامی انتہا پسندوں کی تنظیم کے طور پر سامنے ;200;ئی تھی ۔ یہ تنظیم پاکستان کے نہتے عوام اور سکیورٹی فورسز پر 2014 تک بڑے پیمانے پر درجنوں خودکش حملوں میں ملوث رہی مگر جب پاکستانی افواج نے شمالی وزیرستان میں اس کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی تو اس میں بہت سے دہشت گرد ہلاک ہو گئے جبکہ بچے کھچے دہشت گردوں نے افغانستان کی طرف فرار ہو کر پناہ لے لی تاہم افغانستان میں بدلتی صورتحال میں ٹی ٹی پی دوبارہ سرگرم ہو چکی ہے جس کے بعد شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز اور قبائلی عمائدین پر حملوں میں اضافہ دیکھنے میں ;200;یا ہے ۔ انسداد دہشت گردی کے ادارہ کی طرف سے گرفتار دہشت گردوں کے ذریعے انکشاف ہوا کہ انہیں بھارت اور افغانستان کے خفیہ اداروں کی طرف سے مالی مدد مل رہی ہے ۔ ایک بھارتی مصنف اوی ناش پلیوال نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان کی سرحد سے ملحقہ افغانستان میں بھارتی قونصلیٹ بلوچ دہشتگرد گروپوں اور ٹی ٹی پی کو بھرپور مدد فراہم کر رہے ہیں اور دبئی کے ذریعے بھارتی خفیہ ایجنسی ;3939;را;3939; انہیں فنڈز فراہم کر رہی ہے ۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ;3939;ٹی ٹی پی;3939; اور ;3939200;ئی ایس کے پی;3939; 6 ہزار سے زائد دہشت گرد جن میں عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دیئے گئے کمانڈر نور ولی اور خراسانی شامل ہیں افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں میں موجود ہیں ۔ ٹی ٹی پی اپنے بیانیہ کو پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)کے بیانیہ کے ساتھ جوڑ کر اپنے ;200;پ کو منوانے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اب اس کے مطالبات میں پشتونوں اور بلوچوں کے حقوق کی بات کی جا رہی ہے جس کا مقصد اپنے دہشت گرد حملوں پر پردہ ڈالنا ہے، بدقسمتی سے بہت سے معصوم پشتون ان علاقوں میں ٹی ٹی پی کے ظلم کا نشانہ بنتے رہے ہیں مگر اب وہ نئے بہروپ میں ان کے ہمدرد بن رہے ہیں ۔ ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کی صف بندی اس انداز میں ہو رہی ہے کہ سابق فاٹا کے علاقوں میں ریاست کی رٹ کے خلاف دونوں گٹھ جوڑ کر کے اپنے لئے ہمدردیوں کے حصول کے سلسلہ میں مخاصمانہ سرگرمیوں کے حامل ریاست بیانیے کو فروغ دے رہے ہیں ۔ پاکستان ٹی ٹی پی کو ختم کر کے انتہا پسند بغاوت کو شکست دینے والا پہلا ملک ہے لیکن ایک بار پھر اسے متحرک کرنے کوششیں قابل مذمت ہیں ۔ یہ بات نوٹ کرنے والی ہے کہ یہ انٹرویو ایسے وقت میں ;200;یا ہے جب امریکہ افغانستان سے انخلا کر رہا ہے ۔ اس سارے معاملے کو دیکھا جائے تو یہ سی این این کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ امریکی افواج کے جانے کے بعد پاکستان اور خطے میں عدم استحکام چاہتا ہے ۔ مغربی میڈیا کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ ٹی ٹی پی اور افغان طالبان الگ الگ تنظی میں ہیں ،جن کے مقاصد بالکل مختلف ہیں ۔