- الإعلانات -

موجودہ حالات میں سائبر سکیورٹی ناگزیر

روزنامہ پاکستان اپنا اداریہ بعنوان ;3939;جاسوسی ٹیکنالوجی، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے تحفظات;3939;رقم طراز ہے کہ بھارت کی جانب سے جاسوسی کےلئے اسرائیلی کمپنی کے سافٹ ویئر کے استعمال سے متعلق رپورٹس پر صحافیوں ، سماجی رضا کاروں اور سربراہان نے مملکت عالمی حقوق انسانی کے بحران کو بے نقاب کیا ہے، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا ہے کہ جاسوسی کےلئے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کی فروخت اور اس کے استعمال پر پابندی لگائی جائے ۔ پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ سائبر سکیورٹی ہے کیا;238;سادہ الفاظ میں سائبر سکیورٹی کا مطلب اپنے موبائل فون، لیپ ٹاپ، کمپیوٹر میں موجود ڈیٹا، اپنے سوشل میڈیا اکاونٹس اور ای میل کے پاس ورڈ اوربینک اکاونٹس کی تفصیلات کی حفاظت کے مختلف طریقے ہیں جن پر عمل کر کے ہم انٹرنیٹ پر اپنی موجودگی کافی حد تک محفوظ بنا سکتے ہیں ۔ سائبر سکیورٹی اب صرف دفاعی اور حساس اداروں کی ہی ضرورت نہیں رہی بلکہ یہ ہر ادارے کےلئے ناگزیر ہو چکی ہے کیونکہ اِس میں ہمارے حریف دوسری ریاستیں ہی نہیں بلکہ ایسے غیر ریاستی آلہ کار بھی ہیں جو موبائل فون یا کمپیوٹر کو ہیک کر کے ڈیٹا کی خریدو فروخت کرتے ہیں ۔ 2017 میں بھی ایسے ہی اہم انکشافات سامنے آئے کہ کس طرح ہمارے موبائل فون کے ذریعے ہماری جاسوسی کی جا سکتی ہے اور ہمارا سائبر ڈیٹا محفوظ نہیں ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کے جاری کردہ ایک بیان میں خبردار کیا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق پر اسپائی ویئر انڈسٹری کے تباہ کن اثرات پڑ رہے ہیں ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور فرانسیسی میڈیا نے میڈیا کمپنیوں کے ایک گروپ کے ساتھ مل کر تقریباً 50 ہزار موبائل فون نمبرپر مشتمل فہرست کا جائزہ لیا اور اس کی اشاعت کی ۔ ایمنسٹی کے سیکرٹری جنرل ایگنیس کالامارڈ نے ایک بیان میں کہا اس سے نہ صرف غیر قانونی طور پر ان افراد کو نشانہ بنائے جانےوالے خطرات اور نقصان بے نقاب ہوئے بلکہ عالمی سطح پر انسانی حقوق اور ڈیجیٹل ماحول کی سلامتی پر بھی انتہائی عدم استحکام پیدا ہوگیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جاسوسی کا سافٹ ویئر تیار کرنے والی اسرائیلی کمپنی این ایس او صرف ایک کمپنی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک خطرناک صنعت ہے جو کئی عرصے سے قانونی حیثیت میں فعال ہے اور اسے جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہ میں فوری طور پر سائبر نگرانی کی صنعت پر زیادہ سے زیادہ قواعد و ضوابط، انسانی حقوق کی پامالیوں اور پامالیوں کے لیے جوابدہی اور اس صنعت پر زیادہ سے زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے ۔ خیال رہے کہ اس معاملے پر پاکستان کی جانب سے سخت مذمت کی گئی تھی ۔ بھارت کی جانب سے حکومتی سرپرستی میں بڑے پیمانے پر خفیہ نگرانی اور کارروائیوں کےلئے اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس کا استعمال کیے جانے پر سخت مذمت کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان نے کہا تھا کہ بھارت کا یہ رویہ عالمی قواعد اور ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا تھا جب کچھ روز قبل ہی 17 میڈیا اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ بھارت کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو دنیا بھر میں اسرائیل کے جاسوسی سافٹ ویئر کا استعمال کرتے ہوئے صحافیوں ، سرکاری افسران اور انسانی حقوق کے رضاکاروں کے اسمارٹ فونز کامیابی سے ہیک کرتے رہے ہیں ;245; بھارت میں ایک فون پر پیگاسس سافٹ وئیر نصب کرنے کی لاگت اور اسکا لائسنس خرچہ ایک لاکھ 35ہزار ڈالر یعنی ایک کروڑ بھارتی روپے کے لگ بھگ ہے ۔ 2017 میں ہی نیشنل سکیورٹی کونسل سیکریٹریٹ کے بجٹ میں ہوشربا اضافہ کرکے 33 کروڑ روپے سے بڑھا کر 333 کروڑ روپے کر دیاگیا تھا اور سائبر سکیورٹی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے نام سے الگ ادارہ قائم کیا گیا تھا ۔ آثار و قرائن بتا رہے ہیں کہ اسی رقم سے اور اسی ادارے کے ذریعے صحافیوں ، حقوق انسانی کے کارکنان و سیاستدانوں و افسران کی جاسوسی کرنے کا آغاز کیا گیا تھا ۔ قانونی طور پر اسکے لئے سیکرٹری داخلہ کی اجازت لازمی ہے ۔ نگرانی کی مدت دوماہ طے کی گئی ہے، جسے 6ماہ سے زیادہ نہیں بڑھایا جاسکتا ۔ ہیکنگ کی اجازت صرف اسی صورت میں ہے جب قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو;245; 2011 میں فرنٹ لائن جریدہ میں صحافی پروین سوامی نے لکھا تھا کہ آئی بی کو سرینگر میں اعلیٰ تکنیکی آلات مہیا کئے گئے ہیں جن سے وہ تمام تر قسم کے سیلولر و لینڈ لائن فون، ریڈیو فریکونسی اور انٹر نیٹ پر نظر رکھ سکتی ہے ۔ برطانوی مصنفین ایڈرین لیوی اور کیتھی اسکاٹ اپنی کتاب دی میڈوز میں سرینگر میں موجود ایک خفیہ محکمہ کے اہلکار کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ ’’ہمارا طریقہ کار ایسا ہوتا تھا کہ مختلف عسکری اور مذہبی گروپوں کے درمیان کنفیوژن پیدا ہو تاکہ کوئی ایک گروپ مضبوط نہ ہونے پائے ۔ ہمارا گیم اس سے بھی آگے بڑھ گیا تھا ۔ ہم کسی ایک کے منہ سے کوئی بات کہلواتے تھے، جس سے دوستی، دشمنی میں تبدیل ہوتی تھی ۔ ہم نے جھوٹی اور مصنوعی تنظی میں قائم کرکے ناقابل بیان جرائم کی پشت پناہی کی ۔ ہم نے نوجوان جوڑوں کی تنہائی میں کی گئی باتیں ریکارڈ کیں اور پھر ان کو بلیک میل کیا ۔ ہم نے اخلاقیات کا جنازہ نکال کر رکھ دیا تھا ۔ اس فعل کی کوئی سرحدیں نہیں تھیں ۔ احساس جرم تب ہوا، جب ہم اس گیم سے باہر آچکے تھے اور ان کو یاد کرکے اب نفسیاتی گرداب میں پھنس گئے ہیں ۔ ‘‘ بھارت کی داخلی سلامتی اور سب سے طاقتور خفیہ تنظیم انٹیلی جنس بیورو یعنی آئی بی کے ایک سابق سینئر افسر کے مطابق ٹیلیفون کے ذریعے یا ڈیٹا کو ٹریک کرکے معلومات حاصل کرنا اتنا مشکل نہیں ہے، جتنا اس کا بعد میں تجزیہ کرنا اور اسکو قابل عمل انٹیلی جنس بنانا ۔ خفیہ اطلاعات کے حصول کیلئے حکومت سے رقوم حاصل کرنا بھارت میں خفیہ تنظیموں کا وطیرہ رہا ہے مگر بعد میں ان معلومات کو قابل عمل انٹیلی جنس میں تبدیل کرنے میں وہ اکثر ناکام رہے ہیں ;245; دفتر خارجہ نے بھارتی ریاست کی پشت پناہی میں جاری جاسوسی کی کارروائیوں کو ایک ذمہ دار ریاست کے طرز عمل کی عالمی اقدار کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہاسرائیلی ’سپائی وئیر ۔ پیگاسیس‘ کے استعمال کی رپورٹس پر اقوام متحدہ متعلقہ اداروں سے تحقیقات کرائے، مرتکب بھارتیوں کا احتساب کرے ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے بھارت کی جانب سے صحافیوں ، ججوں ، سفارتکاروں ، حکومتی عہدیداروں ، انسانی حقوق کے کارکنوں اور وزیر اعظم عمران خان سمیت عالمی رہنماءوں کے فون اور کمپیوٹر ہیک کرنے کیلئے اسرائیلی سافٹ ویئر کے استعمال پر صحافیوں کے سوالوں کے جواب میں بیان میں کہا کہ ہم نے بین الاقوامی میڈیا کی ان حالیہ رپورٹوں کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے جن میں بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے ہی شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی اسرائیلی جاسوسی کے سافٹ ویئر کے ذریعے باضابطہ جاسوسی کی کارروائیوں کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ ترجمان نے کہا کہ مخالفت کی آوازوں پر پوشیدہ کارروائی کرنا راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ اور بھارتیہ جنتا پارٹی سرکار کی ایک دیرینہ چال ہے جس کے تحت وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کے مظالم کے مرتکب ہو رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف گمراہ کن معلومات کا پروپیگنڈا کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال یورپی یونین کی ڈس انفولیب اور بھارتی کرونیکل کی رپورٹس منظر عام پر آنے کے بعد دنیا نے بھارت کی نام نہاد جمہوریت کا اصل چہرہ دیکھ لیا ہے ۔ ہم ان انکشافات کا بغور جائزہ لے رہے ہیں اور بھارت کی جانب سے کی گئی ان زیادتیوں پر مناسب عالمی پلیٹ فارم پر توجہ مبذول کرائیں گے ;245;اِس فیلڈ میں ہ میں اپنے ماہرین تیارکرنا ہوں گے جس طرح دیگر ممالک اب سائبر سکیورٹی کے لئے اپنے الگ ادارے بنا رہے ہیں ، ہ میں بھی ایک ایسا ادارہ قائم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ پاکستان میں آئی ٹی کے شعبے میں نمایاں ٹیلنٹ موجود ہے لیکن اِسے درست سمت میں استعمال کرنے کے لئے ہ میں محنت کرنا پڑے گی جس میں یونیورسٹیاں اور آئی ٹی سیکٹر ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے ۔ اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد ہم دیگر برآمدات کی طرح اِس ہنر کو بھی برآمد کر سکتے ہیں ۔ اِس وقت ضروری ہے کہ ہم سائبر سکیورٹی کے حوالے سے قومی سطح کی ایسی پالیسی بنائیں جسے تمام اداروں میں یکساں راءج کیا جائے ۔ اِس حوالے سے ہ میں سائبر سکیورٹی آڈٹ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پاکستانیوں کا جو ڈیٹا ہے یا پاکستان کے جو اہم سسٹم ہیں اُن کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے ۔ سائبر سکیورٹی کو اب ایک اہم ترجیح بنانا ناگزیر ہو چکا ہےورنہ ہم اِس دوڑ میں دیگر ملکوں سے جتنا پیچھے رہیں گے، خود کو محفوظ کرنے کےلئے ہ میں اُتنا ہی زیادہ وقت، پیسہ اور محنت درکارہوگی ۔