- الإعلانات -

وزیر اعظم انڈس ہائی وے کی تعمیر نو کا حکم صادر فرمائیں

وزیر اعظم پاکستان محترم عمران خان سے مودبانہ گذارش ہے کہ وہ انڈس ہائی وے پر آئے روز رونما ہونے والے حادثات کا نوٹس لیتے ہوئے اس کو فوری طورپر کشادہ کرنے اور بالخصوص ڈیرہ غازیخان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان اس کی انتہائی خستہ حالت بہتر بنانے کےلئے متعلقہ حکام کواحکام جاری فرمائیں ۔ ڈیرہ غازیخان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان آئے دن حادثات ہوتے رہتے ہیں جن میں بے شمار افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں ۔ انڈس ہائی وے چاروں صوبوں خیبر پختونخواہ، پنجاب، سندھ اور بلوچستان کو ملانے والی واحد شاہراہ ہے اس لئے وفاقی حکومت کو اس ہائی وے کی تعمیر و مرمت اور کشادگی کےلئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں ۔ انڈس ہائی وے کی کشادگی اور اس کی مرمت نہ کی گئی تو آئندہ بھی مہلک حادثات ہوتے رہیں گے ۔ ہمارے محترم دوست اور سیاسی رہنما غلام مصطفی میرانی صاحب کا تعلق تونسہ ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے اور انہوں نے راقم الحروف کی توجہ انڈس ہائی وے کی خستہ حالت کی جانب دلائی ہے ۔ اس لئے راقم الحروف کی محترم وزیر اعظم سے درمندانہ درخواست ہے کہ وہ ڈیرہ غازیخان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان سڑک کو کشادہ کرنے اور مکمل طور پر از سر نو تعمیر کرنے کا حکم جاری کریں ۔ غلام مصطفی صاحب نے اس سڑک کی حالت کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں ، اس کے مطابق ملک کی مصروف ترین شاہراہ;34; انڈس ہائی وے;34; کی حالت نہایت افسوس ناک بلکہ شرمناک حد تک خستہ ہے ۔ خصوصا;34; ڈیرہ اسماعیل خان سے ڈیرہ غازی خان تک روڈ ، روزانہ درجنوں حادثات اور انگنت اموات کا سبب بن رہی ہے ۔ لوگ بدترین اذیت کا شکار ہیں ۔ کئی برسوں سے بدحال یہ شاہراہ علاقائی سیاسی قیادت اور انتظامی اداروں کی بے توجہی کا شکار ہے ۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کی طرف سے عدم توجہ اور بروقت تدارک سے تہی رویے کی جتنی مذمت کی جائے، کم ہے ۔ چاروں صوبوں کو ملانے والی یہ عظیم شاہراہ سماجی، سیاسی، عسکری اور جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہم اور قومی یکجہتی کے لحاظ سے ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے ۔ چاروں صوبوں کے درمیان ٹریفک کا موجودہ سارا بوجھ انڈس ہائی وے اٹھا رہی ہے ۔ ممکن ہے کہ انڈس ہائی وے سے دور رہنے والوں کو اندازہ نہ ہو، مگر حقیقت حال یہ ہے کہ بھاری ٹریفک کی بدولت، ڈیرہ اسماعیل خان اور ڈیرہ غازی خان کے درمیان روٹ کے مشاہدے کی حد تک ، انسان آسانی سے روڈ کراس نہیں کر سکتا ۔ اسی انڈس ہائی وے پرعید سے ایک دن قبل مسافر بس اور ٹرالر کے خوفناک تصادم میں 33 افراد موقع پرجاں بحق جبکہ 59 زخمی ہو گئے تھے ۔ سڑک چھوٹی اور خراب ہونے کی وجہ سے بس اوور ٹیک کرتے ہوئے ٹرالر سے ٹکرا گئی تھی ۔ یہاں موٹروے کا مذکورہ مجوزہ منصوبہ بھی ہر لحاظ سے ناگزیر ہے بلکہ بہت تاخیر سے رو بہ عمل لایا جا رہا ہے ۔ ترجیحات میں اسے اولین اہمیت ملنی چاہیئے تھی ۔ ہم جانتے کہ ستر کی دہائی میں سب سے پہلے، انڈس ہائی وے کی صورت میں اس منصوبے پر کام کرنا طے پایا تھا ۔ بھٹو مرحوم کے دور میں کچھ عملی پیش رفت بھی ہوئی تھی مگر بعد میں افغانستان کے خلفشار اور روس کے توسیع پسندانہ اقدامات کے باعث یہ منصوبہ منجمد کر دیا گیا مگر اب حالات بدل چکے ہیں ۔ اب مجوزہ منصوبے کو صرف پشاور سے ڈیرہ اسماعیل خان تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ وسعت دے کر ڈیرہ غازی خان اور اس سے آگے براستہ راجن پور، اسلام آباد;223; لاہور سے کراچی جانے والی موٹر وے سے ملا دیا جائے ۔ ورنہ ڈیرہ اسماعیل خان سے آگے جنوبی پنجاب اور مشرقی بلوچستان کو محروم رکھنے کا یہ رویہ سراسر زیادتی اور استحصالی طرز عمل کا مظہر ہو گا ۔ موٹر ویز کی تعمیر کے منصوبے نہایت مستحسن اور وقت کی ضرورت ہیں مگر یہ بھی ضروری ہے کہ موجودہ شاہراہوں سے چشم پوشی اختیار نہ کی جائے ۔ انڈس ہائی وے کی ابتر حالت کو ٹھیک کریں اور ہنگامی بنیادوں پر اس کی تعمیر اور مرمت کا کام سنبھالیں ۔ دو سال سے الف لیلائی کہانیاں سنائی جا رہی ہیں کہ جلد تعمیر و مرمت کا کام شروع ہو جائے گا ۔ دو رویہ سڑک بنائی جائے گی ۔ ٹینڈر کھولے جا رہے ہیں وغیرہ وغیرہ مگر عملا;34; ڈھاک کے وہی تین پات ۔ کہیں کہیں اگر کچھ مرمت کا کام ہو بھی رہا ہے تو نہایت غیر معیاری اور وہ بھی چیونٹی چال، سلگتا سوال یہ ہے کہ مجوزہ موٹر وے کے متوازی، انڈس ہائی وے کی حالت زار سے چشم پوشی کا سبب کیا ہے ;238; حکمرانوں کو بلا تاخیر اس شاہراہ کی طرف فوراً توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق عمدہ اور قابل استعمال رکھنے کیلئے مسلسل اور موثر دیکھ بھال کو یقینی بنایا جائے جس طرح کہ ملک کے دیگر مقامات پر موٹر ویز کے ساتھ ساتھ جی ٹی روڈ کی دوبارہ تعمیر اور توسیع کا کام بھی بسرعت عمل میں لایا گیا ۔ اس سلسلے میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ڈیرہ غازی خان تک اراکین پارلیمان ازراہ کرم اپنا کردار ادا کریں ۔