- الإعلانات -

کروناکی چوتھی لہربے قابو،احتیاط ضروری

کورونا وبا ء کے پھیلاءو میں ایک بار پھر تیزی آگئی ہے ۔ اموات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے جو بہت زیادہ تشویش کا باعث ہے اس لیے انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے ۔ کرونا وائرس سے اموات کی تعداد 23ہزار تین سوساٹھ ہوگئی جبکہ اس بیماری سے متاثر ہونےوالے افراد کی تعداد دس لاکھ سے زائد ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے میں مکمل لاک ڈاءون نہیں ہوگا ۔ صرف مخصوص شعبوں کو بند کیا جائے گا ۔ ہم نے کچھ چیزوں کھلا رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ 9دن سب نے مدد کی تو پھرصوبہ کھولنے کی طرف جائیں گے ۔ لوگ کہتے ہیں کہ کیا 9 دن بعد یہ وبا ختم ہوجائے گی، نہیں ، یہ وبا ختم نہیں ہوگی، ٹاسک فورس نے مشکل مگر سودمند فیصلے کیے ۔ لاک ڈاءون 8 اگست تک ہوگا اور 9 اگست سے مختلف شعبے کھولنے کی طرف جائیں گے ۔ صحت سے متعلق شعبے کھلے رہیں گے، کریانہ، بیکری، سبزی اور گوشت کی دکانیں شام چھ بجے تک کھلیں گی تاہم ریٹیل کے تمام کاروبار بند رہیں گے ۔ ریسٹورنٹ سے صرف ڈلیوری کی اجازت ہوگی، بینک، ایکسپورٹ کے شعبے، بندرگاہ، پٹرول پمپس اور سٹاک ایکسچینج کھلی رہے گی ۔ ہوٹل میں صرف ڈیلیوری کی اجازت ہوگی، ٹیک اوے بھی نہیں ہوگا ۔ وزیراعلی نے ہونے والے تمام امتحانات ایک ہفتے کیلئے ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا اور کہا کہ امتحانات کو بھی آگے بڑھانے کیلئے کہا ہے، اگلے ہفتے امتحانات نہیں ہوں گے ۔ ادھر نیشنل کمانڈ اینڈ ;200;پریشن سینٹر نے کراچی میں کرونا کی بگڑتی ہوئی صوتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت کو وائرس کے پھیلاو کو روکنے کیلئے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے ٹوئیٹ کرتے ہوئے کہا کہ چند دنوں سے کراچی کے عوام کی جانب سے کرونا ویکسینیشن میں زبردست اضافہ ہوا ہے ۔ لوگوں کا رحجان ظاہر کرتا ہے کہ موبائل سم کارڈ لوگوں کیلئے کتنے اہم ہیں ۔ عوام احتیاط کریں اور ماسک باقاعدگی کیساتھ پہنیں ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چودھری نے سندھ حکومت کی جانب سے لاک ڈاءون کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات کی مخالفت کریں گے جس سے عام ;200;دمی متاثر ہو ۔ وزیراعظم کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ہم ہر ایسے اقدام کیخلاف ہوں گے جس سے عام آدمی کی معیشت شدید متاثر ہو ۔ محکمہ ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے سکولوں کے بعد اعلیٰ تعلیمی ادارے کھولنے کا اعلان کرتے ہوئے اس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے ۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق موسم گرما کے بعد 2اگست سے تعلیمی ادارے کھلیں گے ۔ اعلامیے میں ہدایت کی گئی ہے کہ کورونا ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے ۔ اس کے علاوہ تمام ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف کی ویکسینیشن سو فیصد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے ۔ عملدرآمد نہ کرنےوالے والوں کےخلاف کارروائی ہوگی ۔ خیبر پی کے میں ایک بار پھر کرونا مثبت کیسز کی شرح میں اضافہ ہونے لگا ۔ 7اضلاع میں دو دنوں کے دوران مثبت کیسز کی شرح میں 2 سے 5فیصد تک اضافہ ہو گیا ۔ ویکسین مہم میں بھی ایک دن میں ریکارڈاضافہ ہوا ہے ۔ اب تو ویکسین کے حوالے سے عدم دستیابی کی شکایات کافی حد تک ختم ہو چکی ہیں ، امریکی حکومت کی جانب سے انسداد کووڈ 19ویکسین کی تیس لاکھ خوراکوں پر مشتمل کھیپ حکومت پاکستان کے حوالے کردی گئی ۔ ٹیکوں کی یہ کھیپ کوویکس اور یونیسیف کے اشتراک سے دی گئی ۔ امریکہ کی طرف سے ویکسین کی پہلے25لاکھ اور اب 30لاکھ خوراکیں ملی ہیں ۔ اسی طرح کینیڈین حکومت نے بھی پاکستان کو 162 موبائل وینٹی لیٹرز کا تحفہ پیش دیا ہے ۔ حکومت کی اس وبا پر قابو پانے کےلئے کئے جانےوالے اقدامات اور دوسرے ممالک کی طرف سے ہ میں امداد اور تحفے کے طور پر ملنے والی ویکسین اور طبی سامان ایک حد تک ہی موثر ثابت ہوسکتے ہیں تاہم ایس اوپیز پر عمل ہر صورت یقینی بنایا جانا ضروری ہے ۔ عوام ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ رکھنے کو معمول بنا لیں ۔ کرونا سے بچاءو کےلئے احتیاطی تدابیر کےساتھ ساتھ اللہ کی طرف رجوع میں غفلت اور تاخیر کا مظاہرہ نہ کیا جائے کیونکہ اس خطرناک وائرس کو صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہی شکست دی جا سکتی ہے ۔ لہٰذا ایس او پیز پر سختی سے عملدر;200;مد کرایا جائے، حالات اور وقت کا تقاضا بھی یہی ہے ۔

آرمی چیف سے افغان صحافیوں کے وفدکی ملاقات

چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمر نے کہا ہے کہ میڈیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان سماج اور ثفافت کے فروغ اور دونوں ممالک کے عوام سے عوام کے رابطہ میں پل کا کردار ادا کر سکتا ہے ۔ آرمی چیف نے یہ بات افغانستان کے میڈیا کے 15رکنی وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جس نے ان سے جی ایچ کیو میں ملاقات کی ۔ یہ میڈیا اور عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کو تباہ کرنے والوں کی نشاندہی کریں اور ان کو شکست دیں ۔ افغانستان میں امن پاکستان کی دلی خواہش ہے کیونکہ دونوں ملکوں کا امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے اور دشمنوں کو امن کے عمل کو ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کے جامع سرحدی مینجمنٹ نظام کا حوالہ دیا اور کہا کہ سرحدوں کی سکیورٹی پاکستان اور افغانستان کے بہترین مفاد میں ہے ۔ بلاشبہ افغانستان میں طاقت کے استعمال سے پہلے کوئی مسئلہ حل ہوا ہے نہ اب ہوگا ۔ پاکستان کیلئے یقینا اپنے مفادات مقدم ہیں لہٰذا کسی بھی قسم کی ممکنہ صورتحال سے نبرد;200;زما ہونے کی مکمل تیاری رکھنا ہوگی ۔ ملکی دفاع کےلئے پاک فوج کی تیاریاں لائق تحسین ہیں ۔ اس وقت پاک افغان سرحد پر نظر رکھنے کی زیادہ ضرورت ہے کیونکہ نہ صرف افغانستان میں بگڑتے ہوئے حالات کا پاکستان کے سرحد سے ملحق علاقوں پر منفی اثر پڑنے کا امکان ہے بلکہ ان حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارتی خفیہ اداروں سمیت کئی امن دشمن عناصر پاکستان میں تخریب کاری کی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ ادھرحالات افغان حکومت کے قابو سے نکلتے جارہے ہیں ۔ افغان صدر اور نائب صدر بغیر کچھ کیے محض بیانات اور الزام تراشی کے ذریعے ملک کے حالات سدھارنا چاہ رہے ہیں ۔ انہیں چاہیے کہ غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے حالات کو مزید بگاڑ کی طرف لیجانے کی بجائے بین الاقوامی برادری کی مدد سے طالبان سے مذاکرات کر کے اپنے ملک کے امن و استحکام کےلئے راستہ ہموار کریں ۔

پٹرول کی قیمتوں میں ناقابل برداشت اضافہ

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گل نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں ایک روپے71 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ ٹویٹر پر ٹوءٹ پیغام میں انہوں نے کہا کہ 26 جولائی کے اعدادو شمار کے مطابق دنیا میں 27 ممالک میں پٹرول کی قیمت پاکستان سے کم اور 140 ممالک میں پاکستان سے زیادہ ہے، دنیا میں پٹرول کی اوسط قیمت 1;46;19 ڈالر فی لیٹر لیکن پاکستان میں پیٹرول کی قیمت 0;46;72 ڈالر فی لیٹر ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ 47 فیصد پاکستان میں 11فیصد ہوا ۔ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے عام ;200;دمی اور کسان زیادہ متاثر ہوتا ہے اس لئے ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری مسترد کردی گئی ہے ۔ قیمتوں کا اطلاق یکم اگست سے ہو گا ۔ ایل پی جی کی قیمت میں 10روپے فی کلو کا اضافہ کردیا گیا ۔ چیئرمین ایل پی جی ڈیلرز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے قیمت میں اضافے کا اعلان کیا ۔ ایل پی جی پر 10روپے فی کلو اضافے کے بعد قیمت 180روپے فی کلو ہو گئی ۔ پٹرولیم منصوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہاہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ تین برس کے دوران مہنگائی کی شرح میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے عام آدمی کے مسائل بہت بڑھ گئے ہیں ۔ اشیا خوردونوش کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ عوام کی قوت خرید مسلسل کم ہوتی جا رہی ہےصورتحال اتنی گھمبیر ہوچکی ہے کہ دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں ۔ بجٹ کے بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جارہی ہیں جس کے اثرات روزمرہ اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑے ہیں ۔ حکومت کو بہرصورت اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا اور عوام کے غربت مہنگائی بے روزگاری کے مسائل حل کرنے کا سوچنا ہوگا ۔ بصورت دیگر اس کیلئے ;200;ئندہ انتخابات میں عوام کے پاس جانا مشکل ہو جائیگا ۔ اب بھی حکومت کے پاس وقت ہے کہ مہنگائی پرجلدازجلدقابوپائے ۔