- الإعلانات -

نور مقدم کیس کی تفتیش ان زاویوں پر کی جائے عزیر احمد خان کا تکلف برطرف

اس وقت اسلام آباد میں نور مقدم قتل کیس ہائی پروفائل مقدمہ ہے ، ہر شخص اپنے تئیں تجزیے پیش کررہاہے ، مشورے دے رہا ہے ، انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس حوالے سے گفتگو فر ما رہی ہیں لیکن اس نقطے کی جانب کوئی نہیں آرہا، ظاہر جعفر کوئی معمولی آدمی نہیں، اس کے والدین بھی دولت کے اعتبار سے ایک خاص مقام رکھتے ہیں، حیران کن بات یہ ہے کہ نور مقدم کے قتل میں کئی گھنٹے لگے ، تشدد ہوا مار پیٹا گیا ، مقتول نے اوپر سے نیچے چھلانگ لگائی پھر ظاہر جعفر اسے اوپر لے کر گیا ، والدین سے رابطہ ہوا، کہانی اتنی لمبی اور گھمبیر ہے کہ اس کو مختصر الفاظ میں مقید کرنا ممکن نہیں ، بات یہ ہے کہ ابھی تک ان لوگوں کو تفتیش میں کیوں نہیں لیا گیا جو ظاہر جعفر کے مکان کے گرائونڈ فلور پر رہائش پذیر تھے ، خبروں کے مطابق کہا جا رہا ہے کہ ظاہر جعفر کی بہن نیچے مقیم تھیں، یہ سارا کھیل چلتا رہا ، سب سے پہلے تو والدین نے ہی نہیں روکا ، اگر ظاہر جعفر کے والدین اس کے فون پر فوراً ایکشن لیتے تو شاید ایسا وقوعہ پیش نہ ہوتا، پھر نیچے رہنے والے لوگ کیسے خاموش رہے ، وہ بھی اگر بروقت پولیس کو اطلاع کر دیتے تو بھی یہ بہیمانہ قتل نہ ہوتا ، اب بات یہ ہے کہ سیکیورٹ گارڈز کو اور دیگر اور لوگوں کو زیر تفتیش لایا گیا ہے تو نیچے رہنے والے باسی جن کا ظاہر جعفر سے خونی رشتہ ہے ان کو ابھی تک تفتیش میں کیوں نہیں شامل کیا گیا، نو ر مقدم اور ظاہر جعفر کے ہونے والے کیس کے دوران تھانہ چونترہ کے علاقے میں بھی ایک ایسی نوعیت کا قتل ہوا، ماں کے سامنے پہلے بچے کو خنجر سے گود کر مارا گیا اس بچے کی عمر صرف چودہ ماہ تھی، پھر اس کی ماں کو بھی ہوس کا نشانہ بنانے کے بعد شدید زخمی کر دیا گیا ، چھری کے واروں سے بعدازاں وہ بھی مر گئی ، وہ کیس دب گیا ، کیونکہ وہ کوئی غریب عورت تھی، گو کہ قاتل پکڑا گیا اس نے اعتراف جرم بھی کر لیا لیکن نور مقدم کا کیس پوری دنیا کے سامنے فوکس ہوا،اسلام آباد کے پوش علاقوں میں بھی پولیس اس حوالے سے مزید تحقیقات کرے تو بہت سے گیسٹ ہائوسز میں اس طرح کے معاملات برآمد ہونگے ، کتنے منشیات کے گڑھ بھی ملیں گے ، حتیٰ کہ وفاقی دار الحکومت کے تعلیمی ادارے بھی منشیات فروشوں کیلئے جنت بنے ہوئے ہیں، پولیس اس جانب کیوں نہیں تفتیش کر رہی ، اس سے پہلے بھی اسلام آباد میں اس نوعیت کے ماضی میں کیس ہوئے لیکن تحقیقات ہونے کے بعد بھی کوئی نتائج نہ نکل سکے ، ہمیشہ اسمبلیاں بل پاس کرتی ہیں قانون بنتے ہیں، زینب نور کیس آپ کو یاد ہو گا اس کے بعد کتنے اسے دل ہلا دینے والے واقعات ہوئے ، وزیر داخلہ فرماتے ہیں کہ وہ نور مقدم کیس کے ملزمان کو نہیں چھوڑا جائے گا، اگر میرا بس چلے تو میں گولی ما ر دوں، بات یہاں گولی مارنے کی نہیں ، ماورائے عدالت کسی کو قتل نہیں کیا جا سکتا، لیکن قانون کو سخت کرنا ہوگا، ظاہر جعفر کے بارے میں مزید بھی معلومات کے حوالے سے آگاہی کرائی جائے گی لیکن ہمارے ملک کا المیہ ہے کہ ایک کیس اٹھتا ہے اور پھر وہ آہستہ آہستہ ختم جاتا ہے،مختاراں مائی کا کیس بھی یاد ہو گا، کتنا اٹھا تھا پھر بعد میں کیا ہوا ، کیسے ہوا یہ ایک علیحدہ کہانی ہے ، اب آپ رنگ روڈ کو دیکھ لیں کتنا شور مچا تھا ، اربوں کھربوں ادھر ادھر ہو گئے سب بچ گئے،ا صل کھانے والے اب بھی آزاد ہیں، یہاں کچھ بھی نہیں ہوتا بس مسائل خبروں کی زینت بنتے ہیں اور پھر ختم ہو جاتے ہیں، عثمان مرزا آپ کو یاد ہو گا وہ اب جیل میں ہے، کس کیس کے کس ساتھ ڈانڈے ملتے ہیں یہ تمام چیزں عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے، ممبران قومی اسمبلی کہتے ہیں کہ ایسے کیسوں کے ملزمان کو سر عام پھانسی دی جائے ، پھر مختلف قوانین آڑے آجاتے ہیں،جب تک تفتیش اور تحقیقات کے زاویے صحیح طرح متعین نہ ہوں تو پھر مقدمات کے فیصلے بھی صحیح نہیں ہوتے ، یہ کہاں کا انصاف ہے اگر ایک ارب یا کروڑ پتی قتل کرے تو اس کو وی آئی پی پروٹوکول دیا جائے اور اگریہ ہی جرم کوئی غریب کرے تو پولیس اسے مار مار کر اس کی درگت بنا دیتی ہے ،قانون سب کے لئے برابر ہے، اکثر کہا جاتا ہے کہ قانون کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی اور قانون اندھا ہوتا ہے ، آج ہم یہ بھی وضاحت کردیتے ہیں کہ پٹی بندھے ہونے کا مطلب نظرنہ آنا یا اندھا ہونا نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہوتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں غریب کیلئے اور قانون ، امیر کیلئے اور قانون ، جیل کی سزائیں غریب کیلئے اور اور غریب کیلئے اور، پولیس کی تفتیش امیر کیلئے اور ، غریب کیلئے اور ، ایوان میں بیٹھے لوگوں کی کرپشن کے حوالے سے ترجیحات مختلف ، اپوزیشن میںبیٹھے لوگوں کیلئے ترجیحات مختلف ، یہ ہی ظلم ہے جو آج تک ملک ترقی نہیں کرسکا ، کرپشن ختم نہیں ہوسکی، گناہ ختم نہیں ہوسکے ، ظلم ختم نہیں ہوسکا، مساوات قائم نہیں ہو سکی ، جب تک ایک ہی صف میں کھڑے محمود و ایاز ، نہ کوئی بند رہا نہ بندہ نواز، کے مصداق عمل نہیں ہو گا تو انصاف کا بھی کسی صورت بول بالا نہیں ہو سکتا، نو ر مقدم کیس کی تحقیقات دونوں زاویوں سے کی جائیں ، پیسہ اپنی جگہ ، تحقیقات اپنی جگہ، جس نے بھی ظلم کیا اس کو قرار واقعی سزا ملنا چاہئے ، دولت کے ترازو میں تول کر کسی صورت بھی انصاف حاصل کرنے کی نفی کرنا چاہئے ، اس حوالے سے آئندہ کسی نشست میں مزید انکشافات بھی کیے جائیں گے ۔