- الإعلانات -

بڑا دشمن بنا پھرتا ہے،کرکٹ سے ڈرتا ہے

کشمیر پریمیر لیگ رواں ہفتے 6 اگست سے شروع ہونے جا رہی ہے جو 16 اگست تک مظفر;200;باد میں کھیلی جائے گی ۔ اس لیگ کا فائنل بھی انشا اللہ 16 اگست کو مظفر;200;باد میں ہی کھیلا جائے گا ۔ ابھی یہ لیگ شروع نہیں ہوئی لیکن مودی حکومت کے پیٹ میں مروڑ پہلے ہی اٹھنے لگے ہیں ۔ کشمیر پریمیئر لیگ چھ فرنچائز ٹیموں پر مشتمل ایک ٹی ٹوئنٹی لیگ ہے جسے کاروباری شخصیات چلا رہے ہیں تاہم اسے پاکستان کرکٹ بورڈ کی مشروط منظوری ملی ہوئی ہے ۔ اس لیگ میں چھ ایسے غیر ملکی کھلاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے جو اب کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں ان بیچاروں کےخلاف ہی مودی حکومت اپنی بدنیتی پر اتر آئی ہے ۔ ٹورنامنٹ انتظامیہ کے مطابق ان میں مونٹی پنیسار، میٹ پرائر، فل مسٹرڈ، ٹینو بیسٹ، تلکنارتنے، دلشان اور ہرشل گبز شامل ہیں ۔ اس لیگ کی فرنچائز کے نام ;200;زاد کشمیر کے مختلف اضلاع کے نام پر رکھے گئے ہیں جن میں میرپور، مظفر;200;باد، باغ ، کوٹلی، راولاکوٹ اور ایک اوورسیز واریئر نامی ٹیم شامل ہے ۔ پی سی بی کے ترجمان کے مطابق پی ایس ایل، پی سی بی کا سب سے اہم ٹورنامنٹ ہے، نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ ایک ڈومیسٹک ایونٹ ہے جبکہ کشمیر پریمیئر لیگ ایک پرائیویٹ ٹورنامنٹ ہے ۔ اس ٹورنامنٹ میں صرف کئی سال پہلے ریٹائر ہونےوالے کھلاڑیوں کو شامل کیا جا رہا ہے اور سینٹرل کنٹریکٹ کھلاڑی اس لیگ کا حصہ نہیں ہوں گے کیونکہ ابھی وہ ویسٹ انڈیز میں ہیں جسکے بعد افغانستان اور انگلینڈ کی سیریز بھی ہیں جس کیلئے کھلاڑیوں کا ورک لوڈ بھی دیکھنا ہو گا ۔

امن اور شانتی کی دشمن مودی انتظامیہ کو کھیلوں سے بھی چڑ ہے ۔ وہ ہٹ دھرمی اور پاکستان دشمنی کے ہاتھوں اتنی مجبور ہے کہ اسے کھیل کے میدان بھی خصوصاً کرکٹ ہضم نہیں ہو پا رہی ۔ بھارت نے پہلے پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کےخلاف سازشوں میں اپنی تمام توانائیاں خرچ کر دیں مگر ہمارے سیکیورٹی اداروں نے اسے ناکام کر دکھایا تو اب کشمیر پریمیئر لیگ کی راہ میں روڑے اٹکانا شروع کرتے ہوئے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں کہ’’ کے پی ایل‘‘ میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں پر بھارت میں داخلہ بند ہو جائے گا ۔ اس ضمن میں سابق جنوبی افریقی پلیئر ہرشل گبز کا ٹوءٹر پر بیان سامنے ;200;یا ہے ۔ ہرشل گبز کشمیر پریمیئر لیگ میں اوورسیز واریئرز کی ٹیم کا حصہ ہیں ۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں بتایا ہے کہ بی سی سی ;200;ئی کی جانب سے مجھے دھمکایا جا رہا ہے کہ انڈیا میں کرکٹ سے متعلق کسی بھی کام کے سلسلے میں انہیں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا جو کہ مضحکہ خیز ہے ۔ انہوں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیساتھ اپنا سیاسی ایجنڈا درمیان میں لاتے ہوئے مجھے ’’کے پی ایل‘‘ میں کھیلنے سے روکنے کا اقدام انتہائی افسوسناک عمل ہے ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس کوشش کی مذمت کی ہے جبکہ دفتر خارجہ کا بھی مذمتی بیان سامنے ;200;یا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے ٹوءٹر پر جاری بیان میں کہا کہ کرکٹ پربھارت کی سیاست کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے، کشمیری نوجوانوں کو ڈریسنگ روم میں بڑے ناموں کیساتھ بیٹھنے سے محروم کرنا افسوسناک ہے ۔ دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بھی بھارت کو ;200;ڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے اپنے ٹویٹ میں کہاکہ یہ پہلاموقع نہیں کہ مودی حکومت نے کرکٹ کو مذموم سیاست کی بھینٹ چڑھایا ہو ۔ ہرشل گبز پر کشمیر لیگ میں حصہ نہ لینے کا دباوَ اس پرانی روش کا تسلسل ہے، ہم ان اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد کو ایسے اقدامات سے نقصان نہیں فائدہ ہی ہوگا ۔ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین شہریار ;200;فریدی نے بھی کہا ہے کہ بھارت کاغیرملکی کھلاڑیوں کو ’’کے پی ایل‘‘ سے روکنا قابل مذمت ہے ۔ ادھرپاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی کرکٹ بورڈ نے متعدد ممالک کو بلا کر انھیں اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں حصہ نہ لینے پر مجبور کیا ہے ۔ بی سی سی ;200;ئی نے ;200;ئی سی سی کے متعدد ممبران کو وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنے ریٹائرڈ کرکٹرز کو کشمیر پریمیئر لیگ میں شرکت سے روک کر کھیل کو بدنام کیا ہے ۔ پی سی بی کا یہ کہنا بجا ہے کہ بھارتی بورڈ نے ایک بار پھر نہ صرف ;200;ئی سی سی ممبران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے بلکہ بی سی سی ;200;ئی کے رویے سے کھیل کے سپرٹ کو نقصان پہنچا ہے ۔

پاکستان اور بھارت دونوں ممالک میں کروڑوں کرکٹ کے شائقین موجود ہیں لیکن بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث پچھلے ;200;ٹھ دس سال سے پاکستان اوربھارت کے درمیان کرکٹ معطل ہے ۔ دونوں کرکٹ ٹیموں کے مابین دو ہزار بارہ تیرہ میں ہونیوالی ٹی ٹوئنٹی اور ون ڈے سیریز کے بعد سے اب تک کوئی میچ نہیں کھیلا گیا ۔ دہشت گردی جو کہ ایک بین الاقوامی مسئلہ بنا ہوا ہے بھارت اس کی ;200;ڑ لے کر پاکستان سے کرکٹ کھیلنے سے انکاری چلا ;200; رہا ہے ۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس نے اس حوالے سے کئی سازشیں بھی رچا رکھی ہیں جنکے باعث پاکستان میں کرکٹ کئی سال تک معطل رہی اور یہاں کوئی انٹرنیشنل میچ نہ ہو سکا ۔ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے دن رات کی محنت کے بعد بھارتی سازشوں کو ناکام بنایا،جس سے اب پاکستان میں کھیل کے میدان ایک بار پھر ;200;باد ہو چکے ہیں اور بین الاقوامی کرکٹ بھی بحال ہے ۔ کشمیر پریمیئر لیگ کے خلاف بھارت کی مذموم کوششیں انشا اللہ ماضی کی طرح ناکام ہوں گی ۔ ;200;ئی سی سی اگر جنوبی ایشیا میں کرکٹ کے فروغ میں سنجیدہ ہے تو پھر اسے بھارت کے ان اقدامات کانوٹس لینا چاہئے ۔ کھیل کے میدانوں کو سیاست سے دور رکھنا چاہئے ۔ ;200;ئی سی سی کی خاموشی سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی انتظامیہ کسی چمک کا شکار ہے ۔