- الإعلانات -

وزیراعظم اور شجرکاری

زیرا عظم عمران خان نے کہا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے کیلئے شجرکاری بہت ضروری ہے،چاہتاہوں کہ شجرکاری مہم میں تمام پاکستانی حصہ لیں ،گلوبل وارمنگ سے بچنے کےلئے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے ہوں گے،ہر پاکستانی اگر ایک درخت لگا دے تو انقلا ب آجائے گا ۔ تفصیلات کے مطابق وزیرا عظم عمرا ن خان نے ٹین بلین شجرکاری مہم کا آغاز کردیا ۔ شجرکاری مہم کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرا عظم کا کہنا تھا کہ برسات میں شجرکا ر ی مہم کررہے ہیں ،خواہش ہے کہ ہر پاکستانی شجرکاری میں حصہ لے،ہمارے 10ارب درختوں کے ٹارگٹ کودنیانے سراہاہے ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ماضی میں کسی نے درخت لگانے پرتوجہ نہیں دی الٹا جو شجرکار ی کی گئی تھی اسے بھی تباہ کردیا، مجھے یاد ہے جب میں بڑا ہو رہا تھا تو ہمارے ملک میں ماحولیاتی مسئلہ نہیں تھا،یہاں انگریزوں نے بھی اپنے دور اقتدار میں زیادہ سے زیادہ درخت لگائے ۔ عمرا ن خان نے کہا کہ میں نے تمام ڈپٹی کمشنرز اور دیگر انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ پاکستان کے تمام شہروں میں زیادہ سے زیادہ شجرکاری کی جائے، شہروں میں کوئی ایسی جگہ نہ ہو جہاں درخت نہ لگے ہوں ۔ ہمارے درخت لگانے کامقصد یہ ہے کہ ہماری آنے والی نسلیں ماحولیاتی مسائل سے محفوظ رہیں اور انہیں ایک بہتر پاکستان ملے;245;درختوں کے حوالے سے ایک بڑی دلچسپ تحقیق سامنے آئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو درختوں کے قریب جانے دیجئے کیونکہ وہاں وقت گزارکران کی دماغی نشوونما میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جس طرح درختوں کی شاخیں بڑھتی ہیں عین اسی طرح بچوں کے دماغ میں شاخ درشاخ عصبی خلیات (نیورون) بھی تشکیل پاتے ہیں ۔ لندن میں کئے گئے مطالعے میں 9 سے 15 برس کے 3568 بچوں کا جائزہ لیا گیا ۔ ان میں سے جن بچوں نے درختوں میں وقت گزارا تھا ان میں اکتسابی صلاحیتیں بہتر ہوئیں اور دماغی صحت بھی اچھی تھی ۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ سبزہ بھرے میدان، دریا اور جھیلوں جیسے فطری مقامات سے دماغ پر ویسے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوئے ۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ درختوں پر گزارا گیا وقت بلوغت کی عمر تک پہنچنے والے بچوں کے دماغ کیلئے بہت مفید ہوتا ہے ۔ لیکن یہ درختوں اور انسانی دماغ کے درمیان دنیا کی پہلی تحقیق نہیں ۔ اس سے قبل امریکہ اور ڈنمارک میں بھی ایسے کئی سروے ہوئے ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوا ہے کہ درختوں کی موجودگی دماغ کو فعلیاتی اور نفسیاتی طور پر تندرست رکھتی ہے اور عمر بڑھنے پر بھی دماغ تروتازہ رہتا ہے ۔ لیکن اب تک یہ معمہ ہی ہے کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے;238; بعض افراد کا خیال ہے کہ شجربھرا قدرتی ماحول انسانی دماغ کی تشکیل میں مدد دیتا ہے اور بالخصوص نوعمر بچوں کے لیے تو بہت ہی مفید ثابت ہوتا ہے ۔ ایک تحقیق بتاتی ہے کہ درختوں کی پیچیدہ اشکال بھی دماغ پر اثرانداز ہوتی ہے ۔ کچھ تحقیق اس جانب اشارہ کرتی ہیں کہ سبزہ اور درخت دماغی افعال پر اثرانداز ہوتے ہیں جن میں دماغ کا سفید اور بھورا مادہ اور ایمگڈالا کی بڑھوتری شامل ہے ۔ لیکن تازہ برطانوی تحقیق درختوں کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے ناکہ محض گھاس پھوس کی جانب اشارہ کرتی ہے ۔ 2019 میں شاءع شدہ ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ سبزے میں پرورش پانے والے بچے اپنے ہم منصبوں کے مقابلے میں دماغی ٹیسٹ بہتر طور پر انجام دے سکتے ہیں ۔ یہ تحقیق بتاتی ہے کہ اگر آپ کے پڑوس میں بھی درخت اور سبزہ ہو تو اس کے بھی مفید اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ماحولیات اور نباتات کے ماہر ڈاکٹر ایس کے جین کے مطابق ایک اوسط سائز کا درخت دوخاندانوں سے خارج شدہ کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کرکے ہوا میں کافی آکسیجن پیدا کردیتا ہے ۔ اس کے علاوہ درخت دن میں کافی رطوبت ہوا میں شامل کرتے ہیں ، جس سے درجہ حرارت کم اور ماحول خوش گوار ہوجاتا ہے ۔ بڑے بڑے سر سبز وشاداب علاقے بڑے شہروں اور صنعتی علاقوں کی ہوا میں شامل ۷۰فی صد سلفرڈائی آکسائیڈ اور ناءٹرک ایسڈ کو جذب کرلیتے ہیں ۔ ’ناسا‘ کی تحقیق کے مطابق چھوٹے پودوں کے گلدستے گھر میں رکھنے سے اندرونی فضا صاف ہوتی رہتی ہے ۔ تحقیق کے مطابق آلودگی ہمارے گھروں میں مختلف ذرراءع سے پھیلتی ہے ۔ ان میں سگریٹ، گیس سے چلنے والے آلات، مصنوعی ریشے سے بنے ہوئے کپڑے، قالین، پردے ریفریجرٹر وغیرہ بھی کمرے کی ہوا کو آلودہ کرتے ہیں ۔ ان سے کمرے کی ہوا میں ناءٹروجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی گیسوں کا تناسب بڑھ جاتا ہے ۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے، ایسے کمروں میں اسپاءڈر پلانٹ نامی پودوں کے گملے رکھنے سے ۲۴ گھنٹوں کے اندر اندر ہوا میں ان گیسوں کے تناسب میں زبردست کمی آجاتی ہے ۔ ایک اوسط گھر میں آلودگی سے بچاوکے لیے ایسے ۸ سے۱۵ پودوں کی موجودگی ضروری ہے اور پودوں کے مقابلے میں اسپاءڈر پلانٹ زیادہ موثر پودے ثابت ہوئے ہیں ۔ پودے اور نباتات صرف فضا کو صاف نہیں رکھتے بلکہ جسم و ذہن کےلئے بھی نہایت مفید ہیں ۔ ماہرین کے مطابق ایک گھنٹہ باغ بانی کرکے جسم کے ۳۴۵حرارے جلائے جاسکتے ہیں ۔ اس محنت سے ہڈیوں کو مضبوطی ملتی ہے اور ذہن پر بھی اس سے اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ذہنی دباوکم ہوتا ہے اور دیگر ذہنی الجھنوں سے چھٹکارا ملتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کئی مغربی ممالک میں ذہنی و جسمانی مریضوں کے علاج کےلئے باغبانی اور شجر کاری سے بھی مدد لی جاتی ہے ۔ کچھ لوگوں نے تو دفتر سے لوٹنے کے بعد باغبانی کو اپنا معمول بنا لیا ہے ۔ موجودہ سائنس شجر کاری کی جس اہمیت و افادیت کی تحقیق کررہی ہے، قرآن و احادیث نے چودہ سو سال قبل ہی آگاہ کردیا تھا ۔ قرآن کریم میں مختلف حوالے سے شجر(درخت) کا ذکر آیا ہے ۔ ایک جگہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے اس کا ذکر اس طرح کیا وہی تمہارے فائدے کےلئے آسمان سے پانی برساتا ہے جسے تم پیتے بھی ہو اور اسی سے اُگے ہوئے درختوں کو تم اپنے جانوروں کو چراتے ہو ۔ اسی سے وہ تمھارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اور ہر قسم کے پھل اُگاتا ہے ۔ بے شک ان لوگوں کےلئے تو اس میں بڑی نشانی ہے جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ (النحل) ایک جگہ تمام مظاہرِ قدرت کو آرایش کائنات قرار دیا گیا اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے نسل اور کھیتی باڑی کو تباہ کرنےوالوں کی مذمت کی ہے جب وہ لوٹ کرجاتا ہے تو زمین میں فساد پھیلانے کی اورکھیتی اور نسل کی بربادی کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور اللہ تعالی فساد کو ناپسند کرتا ہے ۔ احادیث نبویہ;248; میں شجرکاری کے حوالے سے صریح ہدایات موجود ہیں ۔ ایک روایت میں شجر کاری کو صدقہ قرار دیتے ہوئے آپ;248; نے فرمایا جو مسلمان درخت لگائے یا کھیتی کرے اور اس میں پرندے، انسان اور جانور کھالیں تو وہ اس کےلئے صدقہ ہے اس کی اہمیت کا اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے کہ جس میں آپ;248; نے فرمایا قیامت قائم ہورہی ہو اور کسی کو شجر کاری کا موقع ملے تو وہ موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دے اگر قیامت قائم ہورہی ہو اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں قلم ہو اور وہ اس بات پر قادر ہوکہ قیامت قائم ہونے سے پہلے وہ اسے لگا لے گا تو ضرور لگائے یہی وجہ ہے کہ آپ;248; نے درخت وغیرہ جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچتا ہے، کانٹنے یا برباد کرنے سے سختی سے منع کیا ہے ۔ حدیث نبوی ;248;ہے:جو بیری کا درخت کاٹے گا اللہ اسے اوندھے منہ جہنم میں ڈالے گا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حالت جنگ میں بھی قطع شجر کو ممنوع قرار دیا ہے ۔ آپ;248; لشکر کی روانگی کے وقت دیگر ہدایات کے ساتھ ایک ہدایت یہ بھی فرماتے تھے کہ ً کھیتی کو نہ جلانا اور کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے دورِ اقتدار میں باغبانی اور شجرکاری میں گہری دلچسپی دکھائی ہے، اسے علوم و فنون کی شکل دی اور دنیا میں فروغ دیا ۔ خوش کن امر یہ ہے اللہ نے ہ میں ایسا وزیراعظم دیا ہے جو شجر کاری کے حوالے سے خصوصی بصیرت رکھتا ہے اور پاکستان کی بقا کےلئے اسے ناگزیر سمجھتا ہے اللہ تعالیٰ حامی و ناصر ہو ۔