- الإعلانات -

خوشحالی و ترقی کےلئے پُرامن افغانستان ناگزیر

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے واضح طور پرکہا ہے کہ میرا ہمیشہ سے یہی ماننا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل ممکن نہیں ہے ۔ پاکستانی فوج بھی میرے اقدامات کی حمایت کر رہی ہے ۔ ساری دنیا سے بڑھ کر پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے ۔ اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پڑیں گے ۔ افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں دو راستے تھے ۔ 20 سال سے فوجی حل کے ذریعے افغانستان میں امن لانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ ناکام ہو گیا ۔ اب آپ پر منحصر ہے یا تو امریکی حمایت کے ساتھ فوجی حل کی تلاش جاری رکھیں ۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ طالبان کو حکومت کا حصہ نہیں ہونا چاہیے لیکن سب کو پتا ہے یہ ناممکن ہے ۔ دوسرا حل یہ ہے کہ طالبان اور افغان حکومت مل کر ایک مشترکہ حکومت بنائیں یہی واحد حل ہے ۔ طالبان جو کرتے ہیں اس سے سے ہ میں کوئی سروکار نہیں ہم بس چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن ہو ۔ افغانستان کا امن پاکستان کے مفاد میں ہے ۔ پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں ۔ وہ تقریباً تمام پشتون ہیں اور ان کی اکثریت طالبان کی ہمدرد ہیں ۔

اشرف غنی ہم پر الزام لگاتے ہیں کہ پاکستان دہشت گرد افغانستان بھیج کر دہشت گردی کرا رہا ہے ۔ ہم یہ کیسے چیک کر سکتے ہیں کہ کون افغانستان میں لڑنے جا رہا ہے جبکہ 25 سے 30 ہزار لوگ روزانہ افغانستان جاتے ہیں اور پھر واپس آتے ہیں ۔

پاکستان کا مستقل اصرار رہا تھا کہ اگر تمام افغان مہاجرین اپنے ملک واپس چلے جائیں تو تب آپ ہ میں ذمہ دار ٹھہرا سکتے تھے لیکن جب 30 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں تو ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ چند سو لوگ افغانستان میں جنگ کے لیے گئے تو پھر ان کی لاشیں واپس لائی گئیں ۔ پاکستان کو کیسے مورد الزام ٹھہرایا جا سکتا ہے جبکہ مہاجرین کے بعض کیمپوں میں پانچ لاکھ افراد مقیم ہیں اور بعض میں ایک لاکھ افراد، پاکستان کیسے مہاجرین کے کیمپ میں جا کر پتہ کر سکتا ہے کہ کون طالبان کے حامی ہیں اور کون نہیں اس لیے یہ ممکن نہیں ۔

حالیہ دنوں تک افغانستان اور پاکستان کے درمیان برائے نام سرحد تھی ۔ ڈیورنڈ لائن کو خیالی سرحد خیال کیا جاتا تھا، سرحد پارآنے جانے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان نے سرحد پر باڑ لگائی جس پر بہت خرچہ آیا ہے ۔ تقریباً 90 فی صد سرحد پر باڑ لگ چکی ہے ۔ یہ باڑ پہلی دفعہ لگائی گئی ہے ۔ ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ سرحد پر نقل و حرکت کو کنٹرول کیا جائے ۔

صدر اشرف غنی چاہتے تھے کہ ہم سرحد پار سے نقل وحرکت کو روکنے کی کوشش کریں ۔ ہم نے انہیں بتایا کہ ہم مشترکہ جائزہ لیں گے اور آپ ہ میں بتائیں گے کہ جہاں لوگ سرحد پار کرتے ہیں اور ہم کارروائی کریں گے ۔ ہم نے ان کو اس بارے میں یقین دہانی کرائی ۔ اگر آدھے افغانستان پر طالبان کو کنٹرول حاصل ہے تو وہ پاکستان میں آکر کیا کریں گے ۔ افغانستان کی ایک تاریخ ہے اور تاریخ میں افغان ہمیشہ آزاد رہے ہیں ۔ ہماری حکومت کی پالیسی ہے کہ افغان عوام جس کا بھی انتخاب کریں پاکستان اس سے اچھے تعلقات رکھے گا ۔

حالیہ دنوں میں جہاں ایک جانب افغان امن عمل کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی سطح پر تیزی سے اہم ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہیں ملک کے اندر طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ایک اندازے کے مطابق اب وہ تقریباً آدھے سے زائد ملک پر دوبارہ قبضہ کر چکے ہیں ۔ تاہم جس دن طالبان کا ایک اعلی وفد چین کے دارالحکومت میں ملاقاتیں کر رہا تھا، اسی دن افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے طالبان کو خبردار کیا گیا کہ ’اگر طالبان تلوار استعمال کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو افغان افواج بھی تلوار کے ذریعے ہی جواب دیں گی ۔ ‘

اشرف غنی کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت کسی ایسے منصوبے کو نہیں مانے گی جس کو ’بیرونِ ملک موجود نیٹ ورکس‘ نے تیار کیا ہو ۔ اگرچہ انھوں نے اپنے بیان کی وضاحت نہیں کی لیکن بظاہر ان کا اشارہ طالبان کے ساتھ طے ہونے والے امریکی امن منصوبے کی طرف تھا ۔ اپنے خطاب میں افغان صدر نے اس بات کا اعادہ کیا کہ موجودہ تنازعے کی اسلامی قانون میں کوئی حیثیت نہیں ہے اور طالبان کی جنگ کا مقصد صرف اقتدار پر قبضہ کرنا ہے ۔ طالبان نے کہا ہے کہ وہ صدر غنی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ہی صلح کریں گے ۔

پاکستان کا کردار تمام ہی کلیدی پلئیرز کے نزدیک اہم ہے ۔ ماسکو فارمیٹ میں اسلام آباد کی شمولیت نہ صرف اس کردار کو باضابطہ تسلیم کیا جانا ہے بلکہ یہ روس سے بڑھتے تعلقات کی بھی عکاس ہے ۔ پاکستان کے لیے یہ بات مزید تقویت کا سبب ہے کہ اس فارمیٹ میں بھارت کی حیثیت محض ایک ایسے تماشائی کی سی ہے جو دوسروں کو مرکزی کردار نبھاتا دیکھ کر جلتے ہیں ۔