- الإعلانات -

وزیراعظم آن لائن، عوام کے سوالوں کے جوابات

وزیراعظم عمران خان نے ٹیلی فون پرعوام کے چبھتے ہوئے سوالات کے جوابات انتہائی متانت اور صبروتحمل سے دیتے ہوئے قوم کو بتایا کہ کرونا اورلاک ڈاءون کے کیا نقصانات ہیں کیونکہ پاکستان کسی صورت بھی مکمل لاک ڈاءون کامتحمل ہوہی نہیں سکتا اسی وجہ سے حکومت نے سمارٹ لاک ڈاءون کو متعارف کرایا ۔ تاہم سندھ حکومت نے مکمل لاک ڈاءون کرکے غریب عوام کے لئے مسائل پیدا کئے گوکہ انہو ں نے نرمی بھی اختیار کی لیکن اس کے باوجود وہاں پر لاک ڈاءون کے نتاءج معاشی اعتبارسے خطرناک برآمدہورہے ہیں کیونکہ پہلے ہی دووقت کی روٹی کاحصول مشکل ہوچکاہے ۔ لاک ڈاءون سے غریب کو نقصان اور معیشت ڈوب جاتی ہے، حکومت کےلئے سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے جس پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں ۔ سندھ حکومت کو پیغام ہے آپ مکمل لاک ڈاءون کر کے لوگوں کو بھوکا رکھیں گے ۔ لاک ڈاءون لگانا ہے تو ہ میں دوسری طرف بھی دیکھنا ہے ۔ اگر لاک ڈاءون ہو تو دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ کہاں جائے گا ۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری معیشت اوپر جارہی ہے ۔ ہم نے درست فیصلے کرکے اپنی معیشت اور عوام کو بچایا ہے ۔ کسی صورت لاک ڈاءون کرکے اپنی معیشت کو تباہ نہیں کر سکتے ۔ قیمتیں کم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، تنخواہ دار طبقے کےلئے واقعی یہ مشکل وقت ہے ۔ روپے کی قدر میں کمی ;200;ئی تو ساری چیزیں مہنگی ہوگئیں ۔ ہمارے ملک میں کسان کو کم پیسے ملتے ہیں اور یہ بازاروں میں مہنگے داموں بکتی ہیں ۔ پاکستان سب سے سستا ملک ہے ۔ بدقسمتی سے ہ میں پیٹرول مہنگا کرنا پڑتا ہے ۔ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ عالمی سطح پر تیل مہنگا ہونے کی وجہ سے ہے ۔ اس کے باوجود تیل در;200;مد کرنے والے تمام ملکوں سے سب سے سستا پیٹرول اور ڈیزل ہمارے ملک میں ہے ۔ اس بارپاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ ٹیکس اکٹھا کیا ہے ۔ جس طرح ٹیکسوں کی صورت میں ;200;مدنی بڑھتی جائے گی ہم تنخواہ دار طبقے کی مشکلات کو حل کریں گے ۔ ریاست مدینہ کے راستے پر چل رہے ہیں ۔ مدینہ کی ریاست کا پہلا اصول نچلے طبقے کو اوپر اٹھانا تھا ۔ ;200;پ کو سمجھنا ہوگا ریاست مدینہ میں 5 سال تک حالات بہت برے تھے ۔ 40فیصد خاندانوں کو فوڈ ;200;ءٹمز پر سبسڈی دیں گے ۔ 2خاندانوں نے ایک جانب پیسے لوٹے اور دوسری طرف انہوں نے ادارے تباہ کئے، انہوں نے نیب میں اپنا ;200;دمی بٹھا کر ملک کو بے دردی سے لوٹا، پہلی دفعہ نیب نے بڑے بڑے ناموں کو پکڑا ہے، اب اسی نیب کے ہوتے ہوئے ان کی چیخیں نکل رہی ہیں ۔ کرپٹ معاشرہ کبھی ترقی نہیں کرسکتا ۔ ہم قانون کی حکمرانی کی جنگ لڑرہے ہیں ۔ یہ لوگ بلیک میل کرتے ہیں کہ اگر ان پر ہاتھ ڈالا گیا تو وہ حکومت گرا دیں گے ۔ ماضی میں سیاسی بھرتیاں کرکے ملک کو تباہ کیا گیا ۔ کرپشن ایک ایساناسورہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے ملک کو کینسر کی طرح چاٹ رہاہے، وزیراعظم عمران خان کرپشن کے خاتمے کےلئے انتہائی پرعزم ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے زیروٹالرنس پالیسی اپنارکھی ہے، کرپشن کوئی بھی کرے اس کو کسی نہ کسی صورت انصاف کے کٹہرے میں آناہی پڑتاہے یہی حکومت کاخاصا ہے کہ جوبھی قومی خزانے کو نقصان پہنچارہاہے اس کو قرارواقعی سزاسے دوچار کیاجارہاہے ۔ وزیراعظم کاکہناتھا کہ ;200;زاد کشمیر میں جو سیاسی بھرتیاں کی گئیں اس پر نظرثانی کریں گے ۔ یہ پہلی حکومت ہے جو کہہ رہی ہے الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم لایا جائے ۔ الیکٹرک ووٹنگ مشین سے انتخابات میں دھاندلی کا مسئلہ ہوسکتا ہے ۔ اس سے فوری رزلٹ سامنے ;200;جائے گا لیکن اپوزیشن نہ خود کوئی تجویز دیتی ہے اور نہ وہ ہماری بات مانتے ہیں ۔ ;200;زاد کشمیر الیکشن میں تمام ٹیم اپوزیشن کی تھی تو دھاندلی کیسے ہوگئی، وزیراعظم ہاءوس میں بیٹھ کر وزیراعظم آزاد کشمیر نے دھاندلی کا الزام لگایا ۔ نظام کو تباہ کرنے میں وقت نہیں لگتا لیکن اسے ٹھیک کرنے میں وقت لگتا ہے، قانون کو توڑنے والے اور قانون کی بالادستی سے ڈرنے والے سربراہان ;200;زاد میڈیا سے ڈرتے ہیں ، اگر میں نے لندن میں فلیٹ بنائے ہوں تو سارا وقت ;200;زاد میڈیا سے ڈروں گا، ;200;زادی رائے اس ملک کےلئے بہت بڑی نعمت ہے، میڈیا سے تب اختلاف ہوتا ہے جب غلط خبریں پھیلائی جاتی ہیں ۔ معذور افراد کو تمام محکموں میں کوٹہ ملنا چاہیے، 18ویں ترمیم کے بعد زیادہ تر محکمے صوبوں کے پاس ہیں ، صوبوں کو ہدایات دوں گا کہ ہر محکمے میں معذوروں کےلئے کوٹہ مختص کریں ۔

سلامتی کونسل کی قراردادوں پرعملدرآمدبھارت کی ذمہ داری

بھارت نے ایک مہینے کیلئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال لی ہے جس پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ انگریزی حروف تہجی کے حساب سے ہر رکن ملک سلامتی کونسل کی صدارت کی ذمہ داری ایک ماہ کے لیے سنبھالتا ہے ۔ صدر سلامتی کونسل اجلاس کو قواعد و ضوابط کے مطابق چلانے کا پابند ہوتا ہے، سلامتی کونسل کے صدرکی ذمہ داری اجلاس کا انتظام کرنا ہوتا ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے مسئلے پر سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں پر عملدر;200;مد کی ذمہ داری یاد کروائیں گے ۔ زاہد حفیظ چوہدری نے امید ظاہر کی کہ بھارت سلامتی کونسل کی صدارت کے لیے قواعد اور اقدار کی پاسداری اور احترام کرے گا ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مودی سرکار کے مکروہ عزائم سے پردہ چاک کیا اور اسے آئینہ دکھایا کہ اس کے ملک میں انسانی حقوق کی کس قدر خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں ۔ نیزپاکستان نے کینیڈا کے سابق وزیر کرس الیگزینڈر کے غیر ضروری تبصرے کی مذمت کی ہے ۔ ترجمان دفتر خارجہ زاہد حفیظ نے کہا کہ کرس الیگزینڈر کی افغان امن عمل میں پاکستان کے کردار سے متعلق معلومات گمراہ کن ہیں ۔ ریمارکس زمینی حقائق سے لاعلمی پر مبنی ہیں ۔ افغان تنازعہ کا کوئی فوجی حل نہیں ، کینیڈین حکومت سے مذموم بیان کا نوٹس لینے کا کہا ہے ۔ پاکستان غیر ضروری بیان کی مذمت کرتا ہے ۔ پاکستان کی کوششوں سے افغانستان میں امن عمل آگے بڑھا ۔

پاکستان مزید افغان مہاجرین کابوجھ برادشت نہیں کرسکتا

قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے کہا ہے کہ بے گھر افغانیوں کو پاکستان میں دھکیلنے کے بجائے ان کے ملک کے اندر رکھنے کے انتظامات کیے جائیں ۔ پاکستانی سفارتخانے میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہا ہے کہ افغانستان میں کشیدگی مزید خونریزی کا باعث نہ بنے ۔ لیکن اگر کوئی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو یہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان کے اندر ایک محفوظ علاقہ بنائے ۔ پاکستان مزید مہاجرین کو برادشت کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ پاکستان تحریک انصاف حکومت کی امریکی پالیسی کو حقیقت پسندی اور اور غیر معذرت خواہانہ لیکن گھمنڈ پر مبنی رویہ قرار نہیں دیا ۔ بات چیت تعلقات کی تعمیر نو کی طرف جاری رہے گی لیکن ;200;پ کو وہی احساس نہ ہو جو ;200;پ نے بڑی ملاقاتوں ، بڑی تصویروں اور سرخیوں کےساتھ ماضی میں کیا تھا، یہ مذاکرات اب نتیجہ پر مبنی ہوں گے ۔ پاکستان پر امریکی دباءو کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے معید یوسف نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی پریشانیاں غیر ضروری ہیں ، اگرچہ تنقید جائز ہے، ہاں ، لیکن پاکستان کے پاس فوجی باقی ہیں ;238; کیا یہ منطقی ہے;238;انہوں نے نشاندہی کی کہ بھارتی وزیر خارجہ نے بھی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس پر اثر انداز ہونے کا اعتراف کیا، ہم ان مسائل کو اٹھاتے اور ان پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے ۔ یقینا افغانستان سب سے اہم اور فوری مسئلہ ہے لیکن یہ بات چیت اس بات پر مرکوز ہے کہ کئی مسائل پر کیسے ;200;گے بڑھا جائے، رواں ہفتے کے اجلاس دراصل اس عمل کا جائزہ لینے کےلئے تسلسل ہیں ۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اتار چڑھا ;200;ئے ہیں لیکن ہ میں ;200;گے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔