- الإعلانات -

آزاد کشمیر میں نیاز مندانہ تبدیلی

زیراعظم عمران خان کے ساتھ بغض مخالفت یا تنقید پاکستان ایک معروف صحافی کا معمول کا مشغلہ سا لگتا ہے ہم صحافی رائے عامہ ہموار کرنے والے لوگ ہیں ہ میں کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے سلیم صحافی کا ایک ٹیوئیٹ سامنے ;200;یا ہے جس میں انہوں نے ;200;زاد کشمیر کے وزیراعظم عبدالقیوم نیازی کو وزیراعظم عمران خان کے ہم قبیلہ پختوان قرار دیا ہے اور اس کی مزمت بھی کر ڈالی ہے اور خطرہ ظاہر کیا ہے ۔ وزیرامور کشمیر کشمیر کمیٹی کے چیئرمین چیف سیکریٹری ;200;زاد کشمیر پختون اور اب وزیراعظم ;200;زاد کشمیر عمران خان کا ہم قبیلہ ہونے کی وجہ سے امریکی ایجنڈے کے مطابق کشمیریوں کو جان بوجھ کر متنفر کیا جارہا ہے ،کشمیر پر حکمرانی کشمیریوں کا حق ہے بحیثیتِ پختوان وہ حکومتی رویے کی مذمت کرتے ہیں ۔

;200;ئیے جانتے ہیں اس دعوئے کی حقیقت کیا ہے کیا ہے ۔ ;200;زاد کشمیر کے نئے وزیراعظم سردار عبدالقیوم نیازی اس وقت اہل پاکستان و ;200;زاد کشمیر کے لوگوں میں پوری طرح متعارف ہوئے جب باغ ;200;زاد کشمیر میں وزیراعظم عمران خان نے پی ٹی ;200;ئی کے امیدواروں کا اعلان کرنا شروع کیا تو جب عبدالقیوم نیازی کا نام اعلان کیا تو انکی حیرانگی اس وقت نمایاں ہو گئی اور بے ساختہ بول اٹھے نیازی ادھر ;200;زاد کشمیر میں کہاں سے ;200;گئے پھر سوچ کر بولے کہ ہمارے نیازی ہرجگہ چھا گئے ہیں ۔ تحریک انصاف الیکشن جیت گئی قیوم نیازی بھی ۔ پھر فیورٹ گھوڑوں کی دوڑ شروع ہو گئی، وزارت عظمیٰ کے دو بڑے امیدواروں بیرسٹر سلطان محمود اور سردار تنویر ایک دوسرے کے ناموں پر اتفاق رائے قائم نہ کرسکے تو قرعہ فال سردار عبدالقیوم نیازی کے نام کا نکل ;200;یا ۔ اب لوگ عمران خان کو یہ طعنہ دے رہے ہیں کہ وزیراعظم نے برداری ازم کیا اور اپنے قبیلے کے بندے کو وزیراعظم منتخب کروایا ،کوئی کہتا ہے لفظ عین کی وجہ سے وہ وزیراعظم بن گئے یعنی عین سے عمران، علوی عثمان اور عبدالقیوم جتنے منہ اتنی باتیں قصہ کچھ یوں ہے کہ سردار عبدالقیوم خان نیازی دولی قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں یہ خاندان مغل قوم کی ذیلی شاخ ہے ۔ نیازی ان کا تخلص ہے جس سے ایک دلچسپ کہانی جڑی ہے ۔ 90 کی دہائی کے اوائل میں سردار عبدالقیوم خان نیازی ضلع کونسل پونچھ کے ممبر تھے اور مسلم کانفرنس کے سربراہ سردار عبدالقیوم خان ;200;زاد کشمیر کے وزیر اعظم تھے دونوں کا نام یکساں ہونے کی وجہ سے ان کے اخباری بیانات اور سرکاری احکامات میں تمیز مشکل ہو جاتی تھی اور ضلع پونچھ کی انتظامیہ کئی مرتبہ ضلع کونسل کے ممبر کے احکامات کو وزیر اعظم ;200;زاد کشمیر کے احکامات سمجھ کر ان پر عملدر;200;مد کر دیتی تھی ۔ اس پر مسلم کانفرنس کے سربراہ اس وقت کے وزیر اعظم ;200;زاد کشمیر سردار عبدالقیوم خان نے ان کو اپنے نام کے ساتھ کوئی دوسرا نام لگانے کی تجویز دی اور انہوں نے یوں اپنے نام کے ساتھ نیازی لکھنا شروع کر دیا ،واضح رہے نیازی ان کا خاندانی نام نہیں ہے یہ ان کا تخلص ہے ۔ ان کے خاندان کا کوئی دوسرا شخص اپنے نام کے ساتھ نیازی نہیں لکھتا یہاں یہ قصہ تمام ہوا ۔

دوسری جانب اب بیرسٹر سلطان محمود چوہدری کے شہر میرپور سے میں اپنے استاد محترم پروفیسر رفیق بھٹی صاحب کا ایک مراسلہ کالم کا حصہ بناتا ہوں جنہوں تبدیلی کے حوالے ایک بالکل مختلف و شاندار دوسری رائے دی ہے جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ;200;زاد کشمیر میں واقعی تبدیلی کیسے رونما ہوئی ۔ مراسلہ ملاحظہ فرمائیں ،شیراز خان صاحب میرے علم اور مشاہدے کے مطابق ;200;زاد کشمیر میں جب کبھی کسی با اختیار عہدے پر کسی فرد کی تعیناتی ہوتی ہے تو لوگ اکثر پوچھتے ہیں یہ کس برادری کا ہے، اسی طرح جب کوئی معزز جج تعینات ہوتا ہے تو یہی سوال پوچھا جاتا ہے اور جب کسی سیاسی منصب پر کوئی براجمان ہوتا ہے تو برادری کا تذکرہ زبان زدِ عام ہوتاہے کبھی کسی نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ زیر بحث شخص کتنا باکردار صاحبِ عقل ودانش یا شریف النفس ہے، ;200;ج یہ خواص کمزوری بلکہ نالائقی تصور ہوتے ہیں قبیلہ برادری اور خاندان کو اہلیت اور شرافت ودیانت کو نا اہلی سمجھا جاتا ہے ;200;ج تک ;200;زاد خطے میں خاندانی وراثتی جمہوری اقتدار کا معیار رہا ہے ۔ یہ تبدیلی سرکار کا کمال ہے کہ پہلے پنجاب میں ایک غیر معروف شخص عثمان بزدار کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بنا کر سابق سیاسی کلچر کا خاتمہ کیا گیا اور اب ;200;زاد کشمیر میں اس عمل کو دہرا کر تبدیلی کو سچ کر دکھایا ہے ۔ اگر ایمانداری غیر جانبداری اور نیک نیتی سے سوچا جائے تو یہ بہت بڑی تبدیلی ہے جس طرح ;200;ج تک کچھ مفاد پرست اور ابن الوقت لوگ عثمان بزدار کو کمزور و ناکام وزیرِ اعلی ثابت کرنے میں ناکامی سے دو چار ہیں اسی طرح عبدالقیوم نیازی کو بھی ایک کمزور وزیرِ اعظم کہنے کی باتیں بنانے لگے ہیں ۔ یہ اس سیاسی کلچر کا حصہ ہے جس میں وراثتی خاندانی جمہوریت پروان چڑھتی رہی ہے ابھی عبدالقیوم نیازی نے حلف نہیں اٹھایا تھا لیکن کمزوری اور ناکامی کا واویلا شروع کر دیا گیا یاد رہے نہ تو عمران خان کی مرکزی حکومت کمزور و ناکام ہے اور نہ ہی عبدالقیوم نیازی کی حکومت نا کام ہو گی ۔ یہ بڑی بد قسمتی کی بات ہے کہ ہمارا سیاسی کلچر شرافت اور دیانت کی بجائے سیاسی موقع شناسی ابن الوقتی اورخاندانی وراثتی جمہوریت کا مجرمانہ حد تک عادی ہو چکا ہے البتہ ہم وزیراعظم عمران خان اور وزیر عبدالقیوم نیازی یہ توقع رکھیں گے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے سیاسی تشخص اور جغرفیائی سالمیت کوئی ;200;نچ نہیں ;200;نے دیں گئے اور اس مشن کی تکمیل کو حتی الامکان یقینی بنائیں گے جس کےلئے لاکھوں کشمیریوں نے قربانیاں دی ہیں ۔ وزارت عظمیٰ کےلئے سیاسی بلیک میلنگ کرنے کےلئے نامور کھلاڑی اپنے ڈھول دھمکے دریائے نیلم یا جہلم میں بہا کر ہی واپس گھروں کو لوٹیں گئے ٹاں ٹاں فش ۔

سواد ہی ;200;گیا شیراز جی

گھوڑے ببج کر سونے کا جی چاہتا ہے