- الإعلانات -

صدارتی نظام کی جانب پیش رفت۔۔۔۔۔۔

پاکستان کا سیاسی منظر نامہ کس طرف بڑھ رہا ہے؟ کیا چیزیں اسی طرح چلتی رہیں گی یا اصلاح احوال کے لیے کسی اور پہلو پر کام ہو رہا ہے یا یوں کہیے کہ ہونا چاہیے؟
میرے خیال میں تین امکانات موجود ہیں۔جن میں سے آخری امکان صدارتی نظام ہے اور مجھے بات اسی طرف بڑھتی نظر آ رہی ہے۔
پہلا امکان یہ ہے کہ سیاسی ڈھانچہ اسی شکل میں رہے لیکن اس کے کھلاڑیوں میں کچھ نئے چہروں کا اضافہ کر لیا جائے۔یعنی پارلیمانی نظام تو اسی طرح چلتا رہے لیکن اس میں شراکت اقتدار کا کوئی ایسا فارمولا آ جائے جس میں پاکستان پیپل پارٹی کو بھی ایڈ جسٹ کیا جائے۔ ویسے تو پاکستان پیپلز پارٹی اب بھی ایڈ جسٹ ہے اور سندھ جیسے اہم صوبے میں اس کی حکومت ہے۔ پھر یہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبے کی حکومت اب کوئی معمولی بات نہیں رہی ۔ اختیارات کے اعتبار سے صوبائی حکومت کے پاس اب بہت کچھ ہوتا ہے۔ البتہ نئے امکان میں شاید ایسا ہو کہ کہ پیپلز پارٹی کااسٹیک صرف سندھ تک نہ رہے بلکہ وفاقی بندو بست میں بھی اس کو شامل کیا جائے۔ اس کی کئی شکلیں ہو سکتی ہیں۔ بطور اتحادی بھی اور کسی دوسری شکل میں بھی۔لیکن ہر صورت میں پیپلز پارٹی کا اقتدار میں شیئر بڑھ سکتا ہے۔
اگر ایسا نہیں ہوتا کسی بھی وجہ سے۔ یعنی عمران خان کے آئیڈیلزم کی وجہ سے یا کسی اور وجہ تو اس صورت میں مجھے یہ لگ رہا ہے کہ پھر اٹھارویں ترمیم کا خاتمہ ناگزیر ہو جائے گا۔ سندھ کے معاملات ٹھیک طریقے سے نہین چل رہے۔ اقتدار کے مقتدر ایوانوں میں یہ تاثر عام ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد حالت یہ ہو گئی ہے کہ وفاق عملا ایک بے بس اکائی بن کر رہ گئی ہے اور صوبے کچھ زیادہ ہی طاقتور ہو گئے ہیں۔یہ طاقت انتظامی ڈھانچے کے مسائل کی وجہ سے مسائل پیدا کر رہی ہے۔صوبوں نے اختیارات تو لے لیے لیکن انفراسٹرکچر اور اہلیت ابھی اتنی ہے نہیں۔ پھر یہ کہ ریونیو اور وسائل تو صوبے لے لیتے ہیں لیکن قرض کی ساری ادائیگی وفاق کے ذمے ہے اس میں صوبے بوجھ نہیں اٹھا رہے۔ وفاق کہاں سے قرض ادا کرے۔ پھر اس بندوبست سے عالمی مالیاتی ادارے بھی کچھ یادہ خوش نہیں ہوں گے کیونکہ اٹھارویں ترمیم کے مالیاتی مسائل بہت زیادہ ہیں اور ڈونر ادارے ان مسائل کو کیسے نظراندا کر سکتے ہیں۔
اس بات کا امکان بھی ہے کہ یہ دونوں امکانات ایک ساتھ ہی حقیقت بن جائیں۔ یعنی پیپلز پارٹی اٹھارویں ترمیم میں با معنی ترامیم کے لیے قائل ہو جائے اور بدلے میں حکومت کے ساتھ اس کا با معنی اشتراک اقتدار ہو جائے۔ اور آئینی اور انتظامی پیچیدگیاں ایک ساتھ حل ہو جائیں۔
تیسرا امکان یہ ہے کہ ملک صدارتی نظام کی طرف چلا جائے۔ پارلیمانی نظام کے بارے میں یہ رائے تقویت پکڑتی جا رہی ہے کہ یہ افراتفری کا باعث بنتا ہے اور ہر وقت تنائو اور تنازعات کی سی کیفیت کو پیدا کرتا رہتا ہے۔اس لیے صدارتی نظام کو اختیار کرنے کی سوچ دن بدن بڑھتی جا رہی ہے۔
صدارتی نظام کو لانے میں اگر چہ عملی مسائل موجود ہیں ۔ کیونکہ ایک تو پاکستان کا آئین پارلیمانی نظام کی بات کرتا ہے اور اگر پارلیمانی نظام سے صدارتی نظام کی طرف جانا ہے تو اس کے لیے آئین میں ترمیم ضروری ہے۔آئین میں ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہے۔ اس وقت حکومت کو دو تہائی اکثریت حاصل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی بلاوجہ یعنی کسی بڑے سیاسی مفاد کے بغیر ایسی کسی ترمیم کا ساتھ نہیں دے گی۔ کیونکہ وہ خود کو پارلیمانی نظام کی خالق جماعت سمجھتی ہے کہ تہتر کا آئین اس نے دیا۔ اس سے پیچھے ہٹنا اس کے لیے کتنا آسان اور کتنا مشکل ہو گا اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔
ایک اور امکان یہ ہے کہ عدالت اس بارے میں کوئی فیصلہ دے دے۔ قصوری صاحب کی پیٹیشن سماعت کے لیے فکس ہو گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کیا ہوتا ہے۔ لیکن عدالت بھی آئین کی تشریح تو کر سکتی ہے لیکن آئین میں تبدیلی نہیں کر سکتی۔ آئین میں تبدیلی کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے دو تہائی اکثریت کے ساتھ بذریعہ پارلیمان۔ تو شاید وقت سے پہلے ایک الیکشن ہو جائے جس میں کچھ نئے حلیف ہوں اور وہ جیت کر ایسا کچھ کر دیں۔ یہ سب دیکھنے کی بات ہے اور وقت بتائے گا۔
لیکن ایک راستہ یہ بھی تو ہے جس کی درخواست کی گئی ہے۔ پیٹیشنرز احمد رضاقصوری وغیرہ نے درخواست یہ نہیں کی کہ عدالت صدارتی نظام کا فیصلہ سنا دے۔ بلکہ درخواست یہ کی گئی ہے کہ عدالت اس بارے میں ریفرنڈم کرانے کا حکم دے۔اب جب یہ درخواست سماعت کے لیے جناب جسٹس عمر عطا بندیال صاحب کے سامنے فکس ہو چکی ہے تو اگر عدالت ریفرنڈم کا حکم دے دیتی ہے اور ریفرنڈم میں صدارتی نظام کے حق میں رائے آ جاتی ہے تو پھر صدارتی نظام آ بھی سکتا ہے۔
اٹھارویں ترمیم کے مسائل پر خود میری ایک پیٹیشن عدالت میں ہے۔ اس پر دیکھیں عدالت کیا فیصلہ دیتی ہے۔ ساتھ ہی قصوری صاحب والی پیٹیشن بھی ہے۔ سب نظریں عدالت کی طرف ہیں۔ دعا ہے کہ جو ہو ملک وقوم کے لیے اچھا ہو۔