- الإعلانات -

مسلح افواج کی تیاریاں قابل تعریف

200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ مغربی زون کی بارڈر مینجمنٹ کے لیے ہمارے بروقت اقدامات کی وجہ سے ;200;ج چیلنجز کے باوجود پاکستان کی سرحدیں محفوظ ہیں ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق پارلیمانی کشمیر کمیٹی، سینٹ اور قومی اسمبلی کی دفاعی کمیٹیوں پر مشتمل وفد نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا ۔ وفد نے ;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ایک مکمل انٹرایکٹو سیشن کیا ۔ وفد کو سکیورٹی انوائرمنٹ سمیت سرحدوں کی صورت حال اور امن و استحکام کے لیے پاک فوج کی کوششوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے قوم کے تعاون سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال کامیابیاں حاصل کی ہیں ۔ ;200;رمی چیف نے خطے کی پائیدار ترقی کے لیے افغانستان میں امن کی بحالی کی اہمیت کو اجاگر کیا اور کشمیر کاز اور کشمیری عوام کے لیے پاک فوج کی حمایت اور عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے بغیر امن اور استحکام خواب رہے گا جب کہ ہم کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پارلیمنٹ کی کشمیر اور دفاعی کمیٹیوں کے وفد سے ملاقات خوش آئند ہے ۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایک طرف افغانستان میں حالات تیزی سے بدل رہے ہیں تو دوسری طرف بھارت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف ہے ۔ سیاسی سطح پر بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کرنے میں یہ بریفنگ مددگار ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ پارلیمنٹیرینز کا دفاعی اعتبار سے باخبر رہنا ضروری ہے تاکہ وہ دنیا کے سامنے بہترین انداز میں پاکستان کا موقف پیش کر سکیں ۔ وفد کو سرحدوں کی صورتحال اور پاک فوج کی امن و استحکام کی کوششوں پر بریفنگ دی گئی ۔ افغانستان میں تیزی سے بدلتی صورتحال اور افغان سرزمین سے پاکستانی فورسز پر حملوں اور خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر سیاسی و عسکری شخصیات کے مابین مسلسل رابطہ ضروری ہے تاکہ اعتماد سازی بھی ہوتی رہے اور پارلیمنٹیرینز تازہ ترین حقائق سے بھی باخبر ہوں ۔ گزشتہ چند برسوں میں افواجِ پاکستان نے سرحدوں کو محفوظ بنانے کےلئے بہت کام کیا ہے جبکہ دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے اور ملک میں امن بحال کرنے کےلئے بھی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے ۔ حقائق جاننے کے بعد سیاستدانوں کو سیاسی رواداری کےلئے کام کرنا چاہیے ۔ ملک سے دہشت گردی ختم ہوئی ہے تو امن و امان کی بہتر صورت حال سے حاصل ہونے والے فوائد کو عام آدمی تک پہنچانا سیاست دانوں کی ذمہ داری ہے ۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن کےلئے کوششیں کر رہا ہے ۔ کشمیر اور افغانستان کے مسائل حل ہونے تک خطے میں امن نہیں ہو سکتا اور اگر خطہ پرامن نہیں رہتا تو دنیا یاد رکھے کہ سب خطرے میں ہوں گے ۔ مسئلہ کشمیر کا حل ضروری ہے ۔ پاکستان افغانستان میں بھی امن کےلئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے تو مسئلہ کشمیر حل کرنے کےلئے دنیا کو ذمہ داریوں کا احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ اگر مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو دنیا ہر وقت ایٹمی جنگ کے خطرے میں رہے گی ۔ بلاشبہ پاکستان کی مسلح افواج کی تیاریاں اور چیلنجز سے نمٹنے کے اقدامات قابل تعریف اور تسلی بخش ہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارت خطے کے امن و سلامتی کے در پے ہے اور وہ مسلسل ایسی کوششوں میں لگا رہتا ہے جو خطے میں اس کی چودھراہٹ قائم کرنے میں مددگار ثابت ہوں ۔ پاکستان بارہا بین الاقوامی برادری کے سامنے اس حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کررچکا ہے ۔ خطے کا تھانیدار بننے کی بھارتی سوچ ہی اس کی ہزیمت کا سبب ہے ، وہ اپنی جعلی اور کھوکھلی چودھراہٹ کے لیے افغانستان میں بھی سازشوں کے تانے بانے بننے میں مصروف ہے ۔ پاکستان کی سوچ افغانستان کی بہتری ہے ۔ بلاشبہ پاکستان افغانستان کی بہتری اور تعمیر و ترقی کو ترجیح دے رہا ہے ۔ ہمسائیگی علاقائی اور عالمی صورتحال کا تقاضا بھی یہی ہے ۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان نے جانی ، مالی قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی ہے ، لہٰذا بھارت کو بھی چاہیے کہ وہ خطے میں امن کے لیے اپنی پرانی سوچ ، غیر ذمہ دارانہ رویہ ترک کرے ۔

عوام کو بہرصورت حقیقی ریلیف ملناچاہیے

وزیراعظم عمران خان نے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے ۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت بنیادی اشیائے ضروریہ کی طلب و رسد اور ان کی قیمتوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا ۔ اجلاس میں وزیراعظم کو ملک میں چینی اور گندم کے موجود سٹاک کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس میں خوردنی تیل کی قیمتوں میں واضح کمی لانے کے حوالے سے کیے جانےوالے اقدامات سے بھی اجلاس کو ;200;گاہ کیا گیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عام ;200;دمی کا تحفظ موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے، بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے عام ;200;دمی متاثر ہوتا ہے لہٰذا چیف سیکرٹریز بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام خصوصا منڈی اور پرچون میں غیر منطقی فرق کو ختم کرنے کے حوالے سے ہر ممکنہ انتظامی اقدام کو یقینی بنائیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ محض انتظامی افسران کے خلاف کارروائی ناکافی ہے، مہنگائی کم کرنے کے حوالے سے انتظامی اقدامات کے نتاءج سامنے ;200;نے چاہئیں تاکہ عوام کو ریلیف میسر ;200;ئے ۔ یقینا اس حکومت کے دور میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں تسلسل کے ساتھ اضافہ کیا جا رہا ہے جو پریشان کن امرہے ۔ ایک طرف وزیراعظم مہنگائی کے بڑھنے اور غریب عوام کی پریشانیوں پر متفکر نظر ;200;تے ہیں لیکن ساتھ ہی غریب غربا کے روزمرہ استعمال کی چیزوں کے بے رحمی سے نرخوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے ۔ اشیائے ضروریہ کی موجودہ قیمتوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ غریب ;200;دمی کن مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ روز افزوں مہنگائی میں اضافہ کرکے عوام کے صبر کا امتحان لیا جا رہا ہے ۔ تین سالہ حکومتی کارکردگی میں صرف طفل تسلی کے سوا عوام کو اب تک کچھ نہیں دیا گیا ۔ حکومت کو اگلے دو سال میں مہنگائی کا خاتمہ کرکے عوام کو بہرصورت حقیقی ریلیف دینا چاہیے ۔

طالبان کو اپنے وعدے ایفا کرنا ہوں گے

20سالہ جنگ کے بعد افغانستان سے امریکا کا انخلاء مکمل اورطالبان کا پھر دور شروع ہوگیا، طالبان نے کابل ایئرپورٹ کا مکمل کنٹرول سنبھال لیاہے،5طیارے اپنے شہریوں اور اہلکاروں کو لیکر کابل کے حامد کرزئی ایئرپورٹ سے روانہ ہوگئے،جس پر طالبان نے خوشی میں ہوائی فائرنگ بھی کی ۔ ادھرداعش کی جانب سے کابل ایئر پورٹ پر 5راکٹ حملے بھی کئے گئے تاہم امریکی حکام کا موقف ہے کہ ہوائی اڈے پر داغے جانیوالے راکٹ ڈیفنس سسٹم نے تباہ کر دیئے ،ادھر امریکی صدر بائیڈن کاکہناتھاکہ افغانستان سے انخلا میں بد نظمی کے ذمہ دارجوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی ہیں ، کابل ایئر پورٹ استعمال کرنے کا مشورہ فوج نے دیا، دوسری جانب پینٹاگون نے کہا کہ کابل ایئرپورٹ کو خطرہ حقیقی ہے اور ہم خطرناک وقت سے گزر رہے ہیں ۔ اب آخری افغان علاقہ بھی طالبان کے کنٹرول میں آگیا ۔ ترجمان افغان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد داعش کے حملے رک جائیں گے ۔ طالبان نے امریکی ڈرون حملے میں شہریوں کی ہلاکت کی مذمت کی ہے ۔ بلاشبہ طالبان نے یقین دہائی کرائی ہے کہ وہ غیر ملکیوں اور ان افغانوں کو جن کے پاس سفری دستاویزات ہیں کو امریکی انخلا کے بعد بھی بلاروک ٹوک سفر کی اجازت دیں گے ۔ اگر طالبان عالمی برادری سے تعلقات کا قیام چاہتے ہیں تو انہیں اپنے وعدے ایفا کرنا ہوں گے ۔ ادھر پنج شیر میں طالبان اور مخالف اتحاد کے مذاکرات جاری ہیں ۔ طالبان اور مخالف اتحاد کے مذاکرات میں ڈیڈ لاک نہیں مگر پیش رفت کم ہے ۔ طالبان کا محاصرہ جاری ہے بڑا قافلہ پنج شیر کے مضافات اور مالنگ ٹنل پر موجود ہے ۔ طالبان نے پنج شیر کی چوکی پر حملہ کر دیا ۔ احمد مسعود کی مزاحمتی فورسز نے طالبان کا حملہ پسپا کر دیا ۔ پنج شیر کے مضافات میں طالبان اور مزاحمتی فورسز کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں ۔ طالبان نے پنج شیر میں ٹیلی کام سروس معطل کر دی ۔