- الإعلانات -

جنوبی پنجاب کی بہتری کےلئے وزیر اعلیٰ کے اقدامات

وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان احمد خان بزدار کی زیرصدارت صوبائی کابینہ نے جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کو مکمل خودمختاری دینے کے لئے تاریخ ساز فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب گورنمنٹ رولز آف بزنس 2011 میں ترامیم کی منظوری دی ۔ ساوَتھ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری، سیکرٹریز اور محکموں کے افعال اور اختیارات کو واضح کر دیا گیا ہے ۔

ساوَتھ پنجاب سیکرٹریٹ 3 ڈویژن اور 11 اضلاع پر مشتمل ہوگاجس کی علاقائی حدود میں بہاولنگر، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، خانیوال، لیہ، لودھراں ، ملتان، مظفرگڑھ، رحیم یار خان، راجن پور اور وہاڑی کے اضلاع شامل ہیں اور اس میں سرکاری محکموں کی تعداد 17 ہوگی ۔ جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکرٹری اور سیکرٹریز کو انتظامی طور پر مکمل با اختیار کر دیا گیا;245;ایڈیشنل چیف سیکرٹری جنوبی پنجاب کو اسسٹنٹ کمشنرز سمیت گریڈ 17 کے افسران کے تبادلے کے اختیارات دیئے گئے ہیں ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری کو کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز دفاتر کے بجٹ منظور کرنے اور فنڈز فراہم کرنے کے اختیارات بھی دے دیئے گئے ۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساوَ تھ پنجاب کو جنوبی پنجاب کے محکمانہ سیکرٹریز کی اے سی آر لکھنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ۔ جنوبی پنجاب کے سیکرٹریز کو ترقیوں ، تبادلوں اور بھرتیوں کے وہ تمام اختیار مل گئے جو پنجاب کے سیکرٹریز کو حاصل ہیں ۔

جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے لئے رولز آف بزنس کی منظوری ایک تاریخی اقدام ہے جس پر وزیر اعلیٰ نے پنجاب کابینہ اور جنوبی پنجاب کے عوام کو مبارکباد دی ہے ۔ صوبائی وزیر خزانہ ہاشم جواں بخت کی سربراہی میں قائم وزارتی کمیٹی بھی مبارکباد کی مستحق ہے ۔ اس تاریخی اقدام سے جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے اور انہیں لاہور کے چکر نہیں لگانا پڑیں گے ۔ انہو ں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان جلد ہی بہاولپور میں جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد رکھیں گے ۔

وزیر اعلی عثمان بزدار کا کہنا بالکل بجا ہے کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی دفعہ ساوَتھ پنجاب کیلئے الگ اے ڈی پی بک کا اجراء کیا گیا ہے اور جنوبی پنجاب کے لئے 33 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے جو کہ 190 ارب روپے بنتا ہے ۔ جنوبی پنجاب کے لئے سروس ٹربیونل کے قیام کی بھی منظوری دے دی گئی ہے ۔ ماضی میں زیادہ بجٹ بتا کر جنوبی پنجاب پر کم خرچ کیاجاتا تھا ۔

ماضی میں جنوبی پنجاب کے عوام اور ان کے مسائل کے حل کو نظر انداز کیا جاتا رہا ۔ عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا پی ٹی آئی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کے قیام سے پی ٹی آئی حکومت نے جنوبی پنجاب کے عوام سے کیا گیا وعدہ وفا کیا ہے ۔ جنوبی پنجاب کے لئے علیحدہ سالانہ ترقیاتی پروگرام سے علاقے میں تعمیر و ترقی کا نیا باب روشن ہو گا ۔ اب اختیارات کی منتقلی کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائےگا ۔ موجودہ حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے عملی اقدامات کو جہاں عوام میں بے پناہ پذیرائی ملی ہے وہاں اپنی شناخت کے حوالے سے جنوبی پنجاب کے عوام میں امید پیدا ہوئی ہے ۔

جنوبی پنجاب کو پنجاب ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ ایک طرح سے یہ علاقہ پاکستان کا مرکز ہے جہاں سے چاروں صوبوں کیلئے راستے کھلتے ہیں ۔ جنوبی پنجاب برصغیر میں انگریزوں کی آمد سے قبل تجارتی، سماجی اور سیاسی لحاظ سے بے حد اہمیت کا حامل رہا ہے ۔ ملتان اور اس کے گرد و نواح کے علاقے صدیوں سے تجارت کے نقطہ نظر سے بے حد اہمیت رکھتے ہیں ۔ ملتان سے دہلی کی سڑک کو زمانہ قدیم سے اہم تجارتی گزرگاہ سمجھا جاتا تھا ۔ بہاولپور کو قیام پاکستان سے قبل متحدہ ہندوستان کی اہم ریاستوں میں شمار کیا جاتا تھا اور بہاولپور کے نواب کے قائداعظم کے ساتھ قریبی اور دیرینہ تعلقات تھے اور انہوں نے ان تعلقات کو قیام پاکستان کے بعد نوزائیدہ مملکت کی مالی معاونت کرکے نبھایا ۔ ون یونٹ بننے سے قبل بہاولپور کو پاکستان میں خودمختار ریاست کا درجہ حاصل تھا ۔ ون یونٹ ختم ہونے پر صوبوں کو تو علیحدہ کر دیا گیا لیکن بہاولپور کو ریاست یا صوبے کی حیثیت نہ دی گئی ۔

جنوبی پنجاب کے عوام کی محرومیوں اور پسماندگیوں کے ازالے کے لئے اس خطے کو علیحدہ صوبہ قرار دینے کا مطالبہ کئی دہائیوں پرانا ہے اور ماضی میں نئے صوبے کے قیام پر محض سیاست چمکائی گئی ۔ عوام سے خوش نما وعدے کئے گئے ۔ انہیں رنگارنگ خواب دکھائے گئے مگر کسی خواب کی تعبیرشاید ان کے نصیب میں نہ تھی ۔ 2018 کے الیکشن سے قبل صوبے کے قیام کو یقینی بنانے کیلئے ساوَتھ پنجاب صوبہ محاذ تشکیل دیا گیا اور اس محاذ کے مطالبے کو عوامی پذیرائی بھی ملی ۔ جنوبی پنجاب محاذ نے الیکشن سے قبل پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی اور جنوبی پنجاب صوبے کے قیام کو پورا کرنے کے مطالبے پر الیکشن لڑا ۔ عوام نے پذیرائی بخشتے ہوئے انہیں بھاری مینڈیٹ سے نوازا ۔

وزیر اعلیٰ پنجاب خاموش طبع مگر انتہائی مستعد اور لگن سے کام کرنے والی عوامی شخصیت ہیں ۔ صوبے میں قانون کی عملداری کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدام کر رہے ہیں ۔ پنجاب میں سنگین جرائم کے کیسز کو ٹریس کر کے خود ایسے کیسز کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کو ہدایات دیں اور بعض پولیس افسروں کو عہدوں سے ہٹایا بھی ہے ۔ وہ ہیلی کاپٹر کو سرکاری فراءض کی ادائیگی کے لئے استعمال کرتے ہوئے پنجاب کی ہر تحصیل اور ضلع کا دورہ کرتے ہیں اور لوگوں کے مسائل موقع پر جا کر حل کرتے ہیں ۔

;232232232232232;