- الإعلانات -

ایف سی چیک پوسٹ پردہشت گردی کا افسوسناک واقعہ

ایف سی چیک پوسٹ پردہشت گردی کا افسوسناک واقعہ

کوءٹہ کے علاقے مستونگ روڈ پر سونا خان تھانے کے قریب واقعہ فرنٹیئر کور بلوچستان کی چیک پوسٹ پر موٹر سائیکل سوار خود کش بمبار نے خود کو دھماکے سے اڑالیا جس کے نتیجے میں چار ایف سی اہلکار شہید جبکہ 16ایف سی اہلکاروں سمیت 20 افراد شدید زخمی ہوگئے ۔ زخمیوں میں بعض کی حالت تشویشناک ہے جبکہ جائے وقوعہ سے خود کش بمبار کے جسمانی اعضا سمیت دیگر شواہد اکٹھے کرنے کے بعد واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے ۔ دھماکہ خودکش تھا ۔ دھماکے کی ذمہ داری کالعدم ٹی ٹی پی نے قبول کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے خودکش حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی قوتوں کی ایما پر بننے والے دہشت گردی کے منصوبے خاک میں ملا کر ہ میں محفوظ بنانے والے سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ ایک بیان میں وزیراعلی جام کمال خان نے کہا کہ صوبے کی عوام دہشت گردی کی عفریت کے خلاف اپنے سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے ۔ وزیر داخلہ شیخ رشید احمد، پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف ،ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری ،وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،سابق صدر ;200;صف زرداری، سپیکر بلوچستان اسمبلی ،امیر جماعت اسلامی سراج الحق و دیگر رہنماءوں نے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے ۔ ایف سی چیک پوسٹ پر دھماکے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ، افواج پاکستان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اوریہ بہادر سپوت ملک و قوم کو دہشت گردی کی دلدل سے نکالنے کےلئے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں ۔ پوری قوم افواج کی قربانیوں کی معترف ہے یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا ;200;ج قوم کے کل پر نچھاور کر رہے ہیں ۔ قوم دہشت گردی کیخلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ، سکیورٹی فورسز کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی ۔ دہشت گرد بزدلانہ کارروائیوں سے ہماری فورسز کے حوصلے پست نہیں کر سکتے ۔ یہ وہی دہشت گرد ہیں جو دشمن کے ایما پر اپنی ہی دھرتی ماں کے بدن کو نوچنے پر تلے ہوئے تھے ۔ بلوچستان میں دشمن قوتوں کو امن بھاتا ہوا ہضم نہیں ہورہا، وقفے وقفے سے ہونےوالی دہشت گردی کی وارداتوں سے لگتا ہے کہ وہاں دہشت گرد ایک بار پھر سر اٹھا رہے ہیں ۔ ایف سی کی چیک پوسٹ پر خودکش دھماکہ معلوم ہوتا ہے کہ شدت پسند عناصر اپنی محفوظ پناہ گاہوں میں چھپے ہوئے ہیں اور یہ سہولت کاروں کی بدولت اچانک کہیں نہ کہیں کارروائی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ۔ ہمارے سکیورٹی اداروں کو قدم قدم پر قوم کا اعتماد اور تعاون حاصل ہے اور قوم اپنی غیور مسلح افواج کی کامیابیوں کےلئے دعا گو بھی رہتی ہے ۔ پاک فوج نے اپنے وطن کے دفاع اور سلامتی کے اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لا کر ملک دشمن قوتوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور دشمنوں اور شر پسند عناصر کی تمام سازشوں کو خاک میں ملا یا ۔ دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں امن و امان قائم کرنے کےلئے پاک فوج نے قربانیوں کی لازوال تاریخ رقم کی، اسی وجہ سے امن دشمن طاقتیں اپنے مذموم مقاصد کےلئے گاہے گاہے سازشیں اور شرارتیں کرتی رہتی ہیں ۔ امن دشمن کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کا مقصد خطے میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے اور اس سلسلے میں ہمارے ازلی دشمن ہمسایہ ملک بھارت کے منفی کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں اور سہولت کاروں کا خاتمہ کیا جائے تاکہ یہ ناسور جڑ سے ختم ہو ۔ دشمن پاک فوج، پولیس اور دیگر سکیورٹی کے اداروں کے اہلکاروں پر حملے کراتا ہے مگر ان کے دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کو متزلزل نہیں کیا جاسکتا ۔ دہشت گرد کبھی پورے ملک کے نظام کو یرغمال بنانے کیلئے کوشاں تھے ۔ ان کو امن کی طرف لانے کی کوشش کی گئی تو یہ بپھر گئے ۔ اس پر ان کیخلاف ;200;پریشن کا فیصلہ کیا گیا جس میں بڑی تعداد جہنم واصل کردی گئی کئی فرار ہوکر افغانستان چلے گئے کچھ پاکستان میں ہی روپوش ہوگئے ۔ بھارت پاکستان کیخلاف افغان سرزمین اور پاکستان میں اپنے ایجنٹوں اور پالتوءوں کو استعمال کرتا ہے ۔ پاک فوج دہشت گردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کیلئے پُرعزم ہے ، دہشت گردوں کی کثیرتعداد کو ہلاک کیا جاچکا ہے، ان کے ٹھکانے تباہ کئے جاچکے ہیں ۔ ان کی سہولت کاری کے تمام ذراءع و راستے مسدود کردیئے گئے ہیں تاہم بچے کھچے دہشت گرد موقع ملنے پر ڈسنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ امید ہے کہ سکیورٹی فورسز اپنی تمام تر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ناقابل شکست جذبہ جہاد کے ساتھ دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی، پوری قوم کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں ، وطن کی ہوائیں ،وفا کی تصویروں اور وطن کے جانثاروں کو سلام پیش کرتی ہیں ۔

افغانستان اورعلاقائی استحکام کےلئے وزیراعظم کے اہم روابط

وزیراعظم عمران خان کے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر محمد بن زید اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے ٹیلی فونک رابطے ہوئے ہیں ۔ جن میں افغانستان کی صورتحال اور دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ افغان عوام کے ساتھ کھڑی ہو اور معاشی طور پر ان کی مدد کرے ، افغانستان میں فوری نوعیت کی انسانی ضروریات پورا کرنے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کےلئے اقدامات کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کےلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔ وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ تاریخی برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا اور سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کےلئے پاکستان کی طرف سے حمایت کا اعادہ کیا ۔ وزیراعظم نے حال ہی میں سعودی ولی عہد کی جانب سے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی انحطاط کے منفی اثرات سے نمٹنے کےلئے اعلان کردہ دو تاریخی اقدامات پر ولی عہد کا شکریہ ادا کیا ۔ وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور علاقائی استحکام کےلئے نہایت ضروری ہے ۔ دونوں رہنماءوں نے افغانستان میں ایک جامع سیاسی حل کی اہمیت پر اتفاق کیا جبکہ دونوں رہنماءوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ عالمی برادری کو کسی بھی انسانی اور پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کےلئے اپنی مصروفیات کو بڑھانا چاہئے ۔ وزیراعظم اور سعودی ولی عہد نے تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور ملکرکام کرنے پر اتفاق کیا ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے قطری امیر سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار دہائیوں کے تنازعہ اور عدم استحکام کے بعد افغانستان میں پائیدار امن قائم کرنے کا موقع ملا ہے، عالمی برادری اس اہم موڑ پر افغان عوام کی معاشی اور تعمیر نو میں مدد کرے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے ۔ عالمی برادری اس اہم موڑ پر معاشی اور تعمیر نو میں مدد کرے ۔ وزیراعظم عمران خان کا ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید سے بھی ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماءوں کے مابین افغانستان کی صورتحال اور دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ عمران خان نے کہا کہ پر امن اور مستحکم افغانستان پاکستان سمیت خطے کے مفاد میں ہے، صرف جامع سیاسی تصفیہ کے ذریعے ہی افغانستان کے لوگوں کو تحفظ اور امن فراہم کیا جاسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں ٹوءٹر پر پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ بھارتی قابض افواج کی جانب سے ایک انتہائی قابل احترام اور با اصول کشمیری لیڈر 92سالہ سید علی گیلانی کی لاش چھیننا اور پھر ان کے خاندان کے خلاف مقدمہ کا اندراج انتہائی شرمناک اقدام ہے ۔ اس اقدام کے ذریعے نازی ازم سے متاثرہ آر ایس ایس اور بی جے پی کی فاشسٹ بھارتی حکومت نے ریاستی تشدد کی ایک اور شرمناک مثال قائم کی ہے ۔ وزیراعظم نے ٹویٹ میں ٹائمز آف انڈیا کی وہ خبر بھی شیئر کی جس میں شہید سید علی گیلانی کے اہلخانہ کے خلاف بڈگام پولیس سٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کی تفصیل درج ہے ۔ بھارت کی فسطائی ریاست علی گیلانی سے اتنی خوفزدہ ہے کہ گھر پر دھاوا بول دیا ۔