- الإعلانات -

کرونا ،تعلیمی ابتری اور حکومتی غفلت

کرونا نے ویسے تو معاشرے کے ہرفرد کو ہی متاثرکیاہے مگر تعلیم وتعلم کےلئے تو یہ باقاعدہ یہ عذاب کی شکل اختیار کرگیاہے ۔ اتنا بڑا اور برا تعلیمی تعطل تو جنگ عظیم دوئم میں بھی نہیں ;200;یا تھا ۔ جس امت کو گھٹی ہی;34;اقرا;34; کی ملی تھی ۔ اس پر یہ وقت ;200;گیا ھے ڈیڑھ سال سے زیادہ عرصہ ہونے کو ہے اس قوم کے بچوں پہ تعلیمی اداروں کے دروازے بند ہیں ۔ کرونا وبا اور اسکی ہلاکت خیزی کا انکار نہیں ہے مگر پاکستان جیسی ایٹمی اور مضبوط ریاست میں ڈیڑھ سال سےاس حوالے سے کوئی ٹھوس لاءحہ عمل تیار نہ ہونا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ حکومت کرنا چاہتی تو بہت سے متبادل حفاظتی اقدامات ہوسکتے تھے ۔ کم ازکم چھوٹے بچوں کی پرائمری تعلیم کا سلسلہ اب تک ضروربحال ہونا چاہئے تھا ۔ کسی قوم کی سیاسی،معاشی تہذیبی، اخلاقی روایات کی بنیاد تعلیمی روایت سے جڑی ہوتی ہیں ۔ تعلیمی اداروں کی مکمل بندش سے ہماری نئی نسل کا تعلیمی مستقبل بالکل تباہ ہو چکا ہے ، آن لائن تعلیم کے نام پہ بہت سے بچے بگڑ چکے ہیں ،نئی نسل کی اکثریت اخلاق باختہ ہوچکی ہے جس کی ایک جھلک پوری دنیا نے مینار پاکستان اور رکشہ چھیڑخانی والے واقعات میں دیکھ لی ہے ۔ ;200;ج کے بچے کل کے تنا;200;ور درختوں کی قل میں ہیں ،کوئی مانے نہ مانے ہم کرونا کی ;200;ڑ میں ہم تعلیم گریز بن گئے ہیں ۔ شاید ہمارے ارباب اقتدار نے یہ طے کرلیا ہے کہ اب قوم میں غزالی، رومی، فارابی، رازی، شاہ ولی اللہ اور علامہ اقبال جیسے اہل علم وقلم کی ضرورت نہیں ہے ۔ قوموں کی تعمیر و ترقی کا رازسنگ وخشت سے نہیں علم و فن میں ہے ۔ یونانی قوم ہو یا امت کا ماضی مرحوم ،ایران ہو یا روم،;200;ج کا مغرب،امریکہ یا پھرچین ہو یہ سب ممالک اور قو میں علم کے زور پر ہی ;200;گے گئے ہیں ،خیرو شر کا فرق علم کے بغیر ممکن ہی نہیں ۔ شومئی قسمت پاکستان جیسی ایٹمی قوت اور مضبوط ریاست کے حکمرانوں نے اس ڈیڑھ سال میں کرونا بچا کا بس ایک ہی حل تلاش کیا ہے کہ بس اسکول اور تعلیمی ادارے بند رکھو ہر باشعور شہری کا حکمرانوں سے سوال ہے کہ احتیاطی تدابیر اور مناسب حفاظتی انتظامات مجوزہ ایس اوپیزکے تحت اگرفلاءٹس چلائی جا سکتی ہیں ۔ بنک، مارکیٹیں ، کاروباری مراکز ، بازار منڈیاں ، اورنج ٹرین،میٹرو بس سمیت دیگر ٹرانسپورٹ چل سکتی ہے ۔ تمام سرکاری وغیر سرکاری دفاتر اوپن ہوسکتے ہیں ۔ بعض ضروری پابندیوں کے ساتھ ہوٹل اور ریسٹورنٹ ،شادی ہالز، کھول دئیے گئے ہیں مگر تعلیمی ادارے مسلسل بند پڑے ہیں ۔ حالانکہ سب سے زیادہ ایس او پیش کی پابندی تعلیمی اداروں کے پڑھے لکھے ماحول میں کروائی جاسکتی ہے ۔ ماہرین تعلیم اور اساتذہ کے مطابق اگر کوئی طالب علم ایک دن مکتب اور کلاس سے غیرحاضر ہو تو چالیس دن پڑھائی میں پیچھے چلا جاتا ہے تو جس قوم کے بچے تقریباً پونے دوسال سے گھروں میں کھیل کود اور موبائل شکنجے اور انٹرنیٹ کے رحم وکرم پہ ہوں اس قوم کے تاریک مستقبل کا اندازہ لگانا کوء مشکل نہیں ۔ کسی وباومصیبت سے نمٹنے کےلئے;46;پونے دوسال تھوڑے نہیں ہوتے ۔ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ قوم کے بچوں کا باقاعدہ تعلیم وتعلم سے دور رہنا ایک قومی المیہ ہے ۔ اس قومی المیے اور تاریخی تعلیمی نقصان کے ازالے اور تعلیمی سلسلے کی بحالی کےلئے ایک بھی کوئی سنجیدہ حکومتی کدوکاوش ۔ میٹنگ یا اجلاس کے نمایاں اثرات نظر نہیں آئے ۔ این سی او کے ذمہ داران تھوڑا بڑے شہروں کے چند اہم بازاروں اور مارکیٹوں کا خود وزٹ کریں تو پتہ چلے گا کہ کرونا پھیلاءو کا بڑاباعث کون اور اصل سبب کیاہے ۔ حکمران اگر اپنے ملک وقوم کے خیرخواہ ہوتے ،ں انھیں نونہالان ملت کے تعلیمی مستقبل کاتھوڑا سا بھی احساس ہوتا تو اور کچھ ہوتا نہ ہوتا تعلیمی سلسلہ کی بحالی کا ضرور کوئی حل نکالا جاتا ۔ اب بھی حکومت ماہرین تعلیم، اساتذہ اور قوم کے دانشوروں کو بلائے اور قومی اسمبلی کا جوائنٹ سیشن کرے اور سنجیدگی سے اس مسئلہ پہ سوچے ،اس حوالے سے چند اہم تجاویز پہ عمل پیرا ہوکر ہم اپنی نئی نسل کا تعلیمی مستقبل محفوظ کرسکتے ہیں ۔ 1 ۔ سخت حفاظتی انتظامات اور ایس اوپیز کے تحت کم ازکم پرائمری لیول کے تعلیمی ادارے ضرور کھولے جائیں تاکہ بچوں کی تعلیمی بنیاد تو خراب نہ ہو ۔ 2 ۔ جسمانی فاصلے کو یقینی بنانے کےلئے اسکولوں میں ڈبل شفٹ میں کلاسز لگائی جائیں ۔ 3 ۔ یا ;200;دھے بچے ایک دن اور ;200;دھے دوسرے دن بلائے جائیں ۔ 4 ۔ رکشہ،وینز اورپک اینڈ ڈراپ والے اسٹاف اور والدین کو سختی سے ایس اوپیز کا پابند بنایا جائے ۔ 5 ۔ اب موسم بہتر ہورہا ہے چھوٹی اور تنگ بلڈنگ والے اداروں کو حکومت مناسب سہولیات کے ساتھ پارکوں اور کھلے میدانوں میں کلاسز لگانے کی اجازت دے ۔ 6جو تعلیمی ادارے ایس اوپیز پہ عمل در;200;مد نہ کریں صرف انہیں ہی ازالے کے طور پر ایک ہفتہ کےلئے بند کیا جائے ۔ 7قوم کی ایک بڑی اکثریت یہ بھی مطالبہ ہے کہ اب اگر تعلیمی ادارے لمبے عرصے کےلئے بندہوتے ہیں تو پھر سرکاری اسکولوں کے اساتذہ، وزرائے تعلیم کی تنخواہیں بندکی جائیں جو کہ کام کے بغیر سرکای خزانے پہ بہت بڑا بوجھ ہے ۔ 8 ۔ سب سے بڑھ کر ہنگامی بنیادوں پہ ویکسینیشن کے عمل کو مکمل کیا جائے ۔ 9 ۔ گھروں میں پڑھیں لکھی خواتین اورتعلیم یافتہ نوجوانوں کو سرکاری ٹیچرز کادرجہ دیکر گھروں میں بچوں کو نصاب کے مطابق باقاعدہ پڑھایا جائے تاکہ بچوں کو کتاب اور پڑھائی سے ناطہ جڑا رہے ۔ بہرحال حکومت اگر سنجیدگی سے نء نسل کے تعلیمی مستقبل کو تباہ وبربادی سے بچانے میں تھوڑی سی بھی مخلص ہو تو تعلیمی سلسلہ ہرحال میں بحال رکھا جاسکتا ہے ۔ مناسب حفاظتی اقدامات ضرور کئے جائیں مگر بحیثیت ایک مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ زندگی ،موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ وفاقی وزیر تعلیم کہتے ہیں کہ ہ میں بچوں کی جان بڑی عزیز ہے تو کیا بچوں کے والدین کی جان عزیز نہیں ہے، بچوں کی جان کے ساتھ ساتھ حکومت کا فرض اول ہے کہ وہ قوم کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کی بھی فکرکریں ۔ آپ مارکیٹیں اور دیگر دفاتر وبازار اور ورنج ٹرین بیشک بند کردیں مگر قوم کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کو ہرحال میں بچائیں ۔ مجھے تو ڈر لگتاہے یہ سوچ کرہم اگلے دس سال تک کہاں سے لائیں گے اچھے ڈاکٹرز ، ماہرانجینئرز اور مایہ ناز اساتذہ،ڈیڑھ سالہ تعلیمی لاک ڈاءون سے بچے سب کچھ بھول چکے ہیں ۔ آن لائن تعلیم وتعلم کی اول تو سب بچوں کو سہولت ہی میسر نہیں اور جو ان لائن پڑھ رہے ہیں اس کا وہ رزلٹ نہیں ہے جو بچے اسکولوں میں باقاعدہاپنے اساتذہ کی زیرنگرانی پڑھتے ہیں ، خداحکومت اورپوری قوم کو اس بارے فکرمند ہونا چاہئے تمام تر ضرورحفاظتی اقدامات کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے بھی مدد مانگنی چاہئے اللہ تعالیٰ ہمارے نسل نو کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ تعلیمی و تربیتی مستقبل کی بھی حفاظت فرمائے ۔