- الإعلانات -

گم شدہ پارلیمان کی تلاش

گزشتہ سے پیوستہ

اس وقت افغانستان میں امریکہ کا تحریر کردہ دہشت گردی کی جنگ کا نیا سیزن شروع ہو چکا ہے ۔ امریکہ افغانستان انہی طالبان کے حوالے کر کے خوش ہے ،جن پر امریکہ نے مسلسل بمباری کرکے بیس سال قبل اپنی جنگ کا ;200;غاز کیا تھا ۔ اور جس امارت اسلامیہ کے امیر ملا عمر اپنے کلاس فیلو یعنی ہم مکتب ملا عبد الغنی برادر کی موٹر سائیکل پر بیٹھ کر روپوش ہو گئے تھے ۔ ;200;ج امریکی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کابل میں اسی ملا عبد الغنی برادر سے تنہائی میں ملاقات کرتے ہیں ۔ جس کے فوری بعد انسانی ہجوم سے اٹے کابل ائر پورٹ پر بدترین خود کش حملہ کیا جاتا ہے اور اس بدترین حملے میں امریکیوں سمیت بیسیوں افغان شہریوں کے جان بحق ہونے نے اس عمل اور ردعمل کےغیر مختتم سلسلے کا ;200;غاز کر دیا ہے ۔ یہ اندوہناک حملہ امارت اسلامیہ خراسان کی طرف سے کیا گیا ۔ بدلے میں امریکہ نے ڈرون حملہ کرکے ایک مشتبہ گاڑی کو تباہ کر دیا ، جس سے کم از کم چھ افراد کی ہلاکت کی خبر ہے ۔ بطور پاکستانی مجھے اس صورت حال پر سخت تشویش ہے ۔ یہ امارت اسلامیہ خراسان کہاں سے ;200;ن ٹپکی;238; اور اس کا علاقائی دعویٰ کتنے ممالک کے علاقوں کے احاطہ کرتا ہے ، یہ ایک الگ سے ہوشربا قصہ ہے ۔ مگر پاکستان کو انگارے اڑاتی اس غیر رسمی جنگ سے ہر صورت دور رہنا ہو گا ۔ مگر بد قسمتی سے ایسا نظر نہیں ;200; رہا ۔ میں کسی پر کوئی بھی الزام دھرنے کی بجائے صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ اس نازک اور فیصلہ کن صورتحال میں ہماری منتخب پارلیمنٹ کہاں سوئی پڑی ہے;238; سینٹ کدھر ہے ;238; ہر لحظہ بدلتے منظر پر بحث کہاں ہو رہی ہے;238; فیصلے کون کر رہا ہے ۔ ان فیصلوں کی کیا قیمت طے کی گئی ہے ;238; یہ قیمت بے چارے پاکستانی کتنی دھائیوں تک ادا کرتے رہیں گے ;238; امریکی انخلا میں پاکستان کے دارالحکومت اسلام ;200;باد میں امریکہ کے باوردی فوجیوں کو ٹھہرانے میں کیا حکمت پوشیدہ ہے ۔ جو فلائیٹ فوجیوں کو لے کر کابل سے اڑ کر اسلام ;200;باد اترتی ہے وہ سیدھی قطر یا ریاض یا دبئی بھی جا سکتی تھی ۔ اب طالبان تحویل افغانستان کے بعد اپنی حیرت اور ملک میں امن و سلامتی کی صورتحال پر بیک وقت قابو پانے میں مصروف ہیں ، تو ساتھ ہی ان کی دم کے ساتھ بارود سے بھری امارت اسلامیہ خراسان باندھ دی گئی ہے ۔ جو تباہ کن صلاحیت کا مظاہرہ کرکے مزید اقدامات کرنے کےلئے پرعزم ہے ۔ بیس سال تک افغانستان میں اپنے اتحادی ممالک کی بارات کے ساتھ مسلسل باجا بجانے کے باوجود امریکہ امارت اسلامیہ خراسان کا خاتمہ نہ کر سکا ۔ نہ ہی وہ افغانستان میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم ;200;ہنگ جمہوریت کا بیج بو سکا ۔ دنیا میں ایسا کوئی فورم موجود نہیں جو امریکہ کو ٹائی سے پکڑ کر پوچھ سکے کہ تایا جان !;200;پ بیس سال تک اربوں ڈالر خرچ کر کے افغانستان میں کیا کرتے رہے ہیں ;238;امریکہ تو خیر امریکہ،ہم تو اپنے وزیراعظم سے تسبیح پکڑ کر یہ نہیں پوچھ سکتے کہ اگر ان نیٹو ، امریکی مہمانوں کی موجودگی میں اسلام ;200;باد میں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما ہو گیا تو پھر کیا اگلے ڈرون حملے پاکستان پر ہونگے;238;ہم ;200;خر کب اپنے افغانستانی بخار پر قابو پانے میں کامیاب ہو سکیں گے ۔ جہاں ;200;گ بھڑک رہی ہو وہاں سے دور رہنا چاہئیے ۔ امریکہ کو دی جانےوالی سروسز کی قیمت کون وصول کر رہا ہے اور ان کے نتاءج کی قیمت کون ادا کرے گا ۔ اس پر پارلیمنٹ میں کھلی بحث ہونی چاہئیے ۔ ستم ظریف کی منطق الگ ہے وہ مجھے سمجھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ کہتا ہے کہ سمجھنے کی کوشش کریں ۔ حق پرستی اچھی چیز ہے ،پارلیمنٹ بھی بہت اچھی جگہ ہے ، سینٹ اور وزارت دفاع و خارجہ بھی بہت اہمیت رکھتی ہیں ۔ لیکن گلشن کا کاروبار چلانا بھی ضروری امر ہے،حق تعالیٰ نے امریکہ کو خوب نوازا ہے، اگر وہ لوگ دین کی سربلندی کےلئے راہ حق میں امارت اسلامیہ افغانستان کی خدمت کرتے ہیں اور اسی تسلسل میں کچھ خدمت پاکستان کی بھی ہو جاتی ہے تو ;200;پ کو کیا تکلیف ہے;238; میں نے ستم ظریف کو اختصار کے ساتھ بتایا ہے کہ میرے سر میں ہلکا سا درد ہے، ایک ;200;نکھ میں بلاسبب کوئی ڈرون قسم کا جالا سا تیرتا دکھائی دینے لگ گیا ہے ۔ بلڈ پریشر کے بارے میں تو تم جانتے ہی ہو ۔ کمر درد اور دائیں ٹانگ میں اک غیر واضح قسم کی درد بھی محسوس کرتا ہوں ۔ بایاں گھٹنا بھی دکھتا ہے ۔ ایک وقت میں اتنی ہی تکالیف گنوائی جا سکتی ہیں ۔ یہ سب سن کر ستم ظریف مسکراتے ہوئے بولا اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ;200;پ کو پچھلے پانچ سال سے کوئی نئی تکلیف نہیں ہوئی ، جو عوارض ;200;پ نے گنوائے ہیں ، ان کے بارے میں تو میں بچپن سے سنتا ;200; رہا ہوں