- الإعلانات -

وطن کےلئے ڈاکٹر صفدر محمود کی گراں قدر خدمات

سچے عاشق رسول;248;، کالم نگار، مصنف، صحافی، موَرخ، دانشور، ماہر تعلیم اور سابق وفاقی سیکرٹری ڈاکٹر صفدر محمود سوموار کے روز77 سال کی عمر میں انتقال کر گئے ۔ ان کی نماز جنازہ اللہ اکبر مسجد (ڈی ایچ اے) میں ادا کی گئی جس میں جناب سلمان غنی، جماعت اسلامی کے رہنماڈاکٹر فرید پراچہ، جناب جمیل اطہر قاضی سمیت بہت سے کالم نگاروں ، صحافیوں ، سیاسی و مذہبی رہنماؤں ، عزیز رشتہ داروں نے شرکت کی ۔ وزیر اعظم عمران خان نیازی، جماعت اسلامی کے رہنما سینیٹر سراج الحق، آصف علی زرداری،وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود،حافظ حسین احمد، علامہ طاہر القادری اور پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز اختر نے ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وطن کےلئے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان احمد خان بزدار نے بھی ڈاکٹر صفدر محمود کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم کالم نگاری میں منفرد مقام رکھتے تھے ۔ انہوں نے کالم نگاری کے ذریعے سماجی اور معاشرتی مسائل کو اجاگر کیا ۔ ڈاکٹر صاحب کی خدمات کو تادیر یاد رکھا جائے گا ۔ انہوں نے سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے ۔ ڈاکٹر صفدر محمود 30 دسمبر 1944ء کو ڈنگہ (ضلع گجرات ) میں پیدا ہوئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا ۔ کچھ عرصے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے ۔ 1974ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے ۔ ادارہ قومی تحقیق و حوالہ،وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر رہے ۔ قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانیات میں تعلیم دی، پوسٹ گریجویٹ جماعتوں کو تاریخ پاکستان پڑھائی اور تحقیقی پروگرام مرتب کیے ۔ پھرکابینہ ڈویژن اسلام آباد کے شعبہ تحقیق کے سربراہ رہے ۔ حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت اور بعد ازاں محکمہ تعلیم کے سیکرٹری رہے ۔ مرکزی وزارت تعلیم کے سیکرٹری کے عہدے پر فراءض انجام دیے ۔ وہ کافی عرصہ سے بیمار تھے اور اپنی یادداشت بھی کھو بیٹھے تھے ۔ ڈاکٹر صفدر محمودمرحوم سے راقم الحروف کے تعلقات اس وقت سے ہیں جب وہ لاہور میں ڈپٹی کمشنر ہوا کرتے تھے ۔ ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم ;34;صبح بخیر;34; کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے ۔ اس کے علاوہ کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے ۔ ڈاکٹر صفدر محمود درجن سے زائد کتابوں کے مصنف تھے ۔ ان کی تصانیف میں ;34;سچ تو یہ ہے، مسلم لیگ کا دور حکومت (1954ء تا 1974ء)، پاکستان کیوں ٹوٹا، تاریخ و سیاست، دردآگہی (مضامین)، سدا بہار (مضامین)، اقبال، جناح اور پاکستان، تقسیم ہند، افسانہ اور حقیقت، علامہ اقبال، تصوف اور اولیاء کرام، بصیرت، امانت، حیات قائد اعظم، آئین پاکستان شامل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب قائد اعظم اور علامہ اقبال کے بارے میں انتہائی جذباتی تھے اسی وجہ سے پاکستان سے ان کا عشق ڈھکا چھپا نہیں ۔ معمار نوائے وقت ڈاکٹر مجید نظامی سے بے حد متاثر تھے ۔ حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی (ایوارڈ) عطا کیا ۔ قائداعظم;231; یا تاریخ پاکستان کے حوالے سے جب بھی کسی شخص یا ادارے نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی اس کا مدلل جواب تاریخی شواہد کے ساتھ ڈاکٹر صفدر محمودمرحوم ہی نے دیا ۔ وہ تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے وکیل تھے ۔ ڈاکٹر صفدر محمود کا شمار تحریک پاکستان ورکر ز ٹرسٹ کے بانی ارکان میں بھی ہوتا ہے ۔ اس ادارہ کے ذریعے مرحوم نے تحریک پاکستان کی یگانہ روزگار شخصیات کی خدمت میں گولڈ میڈل پیش کرنے کے سلسلے کا آغاز کیا جو ہنوز جاری ہے ۔ ایوان کارکنان ِتحریک پاکستان میں قائم دونوں اداروں نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کو آپ کی سرپرستی اور تعاون حاصل رہا ۔ پاکستان کے جیل خانہ جات میں لائبریریز کا اجراء بھی آپ کا احسن اقدام ہے ۔ آپ صاحب کتاب کیساتھ ساتھ کتاب دوست شخصیت کے مالک تھے اور کتاب دوستی کے فروغ کیلئے ہمہ تن گوش رہتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے اور ان کے لواحقین ، عزیز و رشتہ داروں کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔ (آمین)