- الإعلانات -

طالبان کی حکومت کا قابل قبول ماٹو

فغانستان کی نئی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی سے دشمنی نہیں چاہتی ۔ افغانستان سب کا مشترکہ گھر ہے ۔ ہم ان کے حقوق اور جائز خواہشات کا خیال رکھیں گے اور ان کی صلاحیتوں کو ملک کی ترقی کے لیے کام میں لائیں گے ۔ بیان میں کہا گیا کہ حکومت کی پہلی ترجیح تمام مسائل کو جائز اور مناسب طریقے سے حل کرنا ہے ۔ ان تمام سکالروں ، قبائلی عمائدین اور بزرگوں کی کوششیں قابل قدر ہیں جو عوام میں آگاہی پیدا کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں ۔ طالبان حکومت کا یہ بیان اور یقین دہانیاں قابل قدر ہیں ،افغانستان کے لوگوں کی حمایت یافتہ طالبان حکومت سے ان کے حامیوں کی توقعات بڑھ رہی ہیں ۔ دوسری طرف امریکہ اور نیٹو میں شامل مغربی ممالک جو طالبان سے شکست کے زخم کھائے ہوئے ہیں ان سے تعاون اور مدد کی امید عبث ہے ۔ بعض حلقے پاکستان کی مداخلت کا الزام لگا کر افغانستان میں لوگوں کو بھڑکا رہے ہیں ۔ ذبیح اللہ مجاہد نے بروقت جواب دیا کہ ایسے الزامات پچھلے 20 برسوں سے لگائے جا رہے ہیں ۔ طالبان حکومت کا ا علان ہونے سے کئی قیاس آرائیاں دم توڑ گئی ہیں ۔ طالبان افغانستان میں امن اور اپنی سرزمین دہشت گردی سے پاک کرنے کا جب وعدہ کر رہے ہیں تو مہذب دنیا کو ان کا احترام کرتے ہوئے مروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں طالبان نے جب سے کابل کا اقتدار سنبھالا ہے چاروں طرف سے اسی مفہوم کے مشورے آ رہے ہیں کہ اقتدار میں تمام گروپوں کو نمائندگی دی جائے،ان ملکوں کی حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے شرطِ واحد یہی ہے کہ اس میں سب کی نمائندگی ہونی چاہئے،لیکن ایسے محسوس ہوتا ہے کہ طالبان ابھی تک اس سلسلے میں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے تاہم بعض امور تو بڑے واضح اور بدیہی ہیں جو گروپ، طبقات یا افراد سابق حکومت میں شریک تھے اور بیس سال تک شریک رہے اُنہیں کس قاعدے کلیئے کے تحت حکومت میں نمائندگی دی جا سکتی ہے;238;یہ بات واضح نہیں کی جا رہی، طالبان کی مسلح جدوجہد افغانستان پر قابض غیر ملکی افواج کے خلاف تھی اور وہ انہیں اپنے مُلک سے نکالنا چاہتے تھے ۔ غیر ملکی افواج کی سرپرستی میں جو لوگ کابل پر حکومت کرتے رہے اور ہر قسم کے اختیارات سے لطف اندوز ہوتے رہے انہیں نئی حکومت میں شامل کرنے کی کوئی منطق بظاہر سمجھ سے بالا تر ہے ۔ گویا طالبان جن کے خلاف لڑ رہے تھے اور جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے اُنہیں ہی اپنی صفوں میں شامل کر لیں تاکہ وہ اندر سے ان کو تار پیڈو کرتے رہیں اور پھر کسی نازک موقع پر طالبان کو حکومت سے نکال دیں اور دوبارہ کسی دوسرے کے آلہ ء کار اور کٹھ پتلی کا کردار ادا کرنا شروع کر دیں ، کٹھ پتلیاں دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوتی ہیں اُن کا کردار ہمیشہ یکساں ہوتا ہے، البتہ ہر ملک میں اُن کے نام مختلف ہوتے ہیں ،جمہوری ممالک میں یہ اپنا کردار ہر چند سال بعد بدل لیتے ہیں اور ہر نئے حکمران کے ساتھ شریک ِ حکومت ہونے کے لئے کوئی نہ کوئی ر استہ نکال لیتے ہیں ،لیکن افغانستان میں تفریق بڑی واضح اور دو ٹوک رہی ہے ۔ ایک گروپ غیر ملکی طاقتوں کا آلہ ء کار تھا، جبکہ دوسرا ان دونوں کے خلاف جدوجہد کر رہا تھا ۔ اب یہ جدوجہد بار آور ہوئی ہے تو کیسے ممکن ہے کہ متحارب فریق باہم شیر و شکر ہو جائیں ،جدوجہد کرنے والے اور چُوری کھانے والے مجنوں برابر کیسے ہو سکتے ہیں ;238;طالبان نے کابینہ کی تشکیل کے ذریعے اپنے عالمی ہمدردوں پر یہ بات واضح کر دی کہ یہ تفریق تو نظر آئے گی تاہم جو گروہ دشمن سے الگ تھلگ اور خاموش رہ کر اپنا کردار ادا کر رہے تھے اُنہیں شریک ِ حکومت کرنے پر غور کیا جائے گا،غالباً اگلے مرحلے میں ایسے لوگ سامنے آئیں گے ۔ طالبان کی پچھلی حکومت اگرچہ اندرونِ ملک ایک کامیاب حکومت تھی اور اس نے اس عرصے میں افغانستان میں بعض ایسے کارنامے انجام دیئے،جو وہاں ’’پہلی مرتبہ‘‘ ہو رہے تھے،لیکن انہوں نے ان کا کبھی ڈھنڈورا نہیں پیٹا،انہوں نے ملک میں امن و امان کی صورتِ حال بہت بہتر،بلکہ بہترین کر دی،لیکن اس حوالے سے شیخیاں نہیں ماریں ،پوست کی کاشت صرف ایک حکم کے ذریعے صفر پر لے آئے، جو افغانستان کی پوری تاریخ میں کبھی نہ ہو سکا تھا،جب تک طالبان کی حکومت رہی کسی نے پوست کی کاشت نہ کی،اس وقت اگر کسانوں کو متبادل فصلوں کے لئے عالمی برادری وسائل مہیا کرتی تو شاید دنیا کی ہیروئن سے جان چھوٹ جاتی، لیکن تین ممالک کے سوا کسی مُلک نے اس حکومت کو تسلیم نہیں کیا،اب طالبان ایک نئے روپ میں سامنے آئے ہیں اور امریکہ سمیت پوری دنیا سے تعلقات قائم رکھنے کے خواہاں ہیں تو بھی اُنہیں سابق حوالوں سے مطعون کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،حالانکہ ضرورت اس کی حوصلہ افزائی کی ہے ۔ طالبان نے پہلے کی طرح ملک کا نام امارتِ اسلامی افغانستان رکھ لیا ہے، اس نام سے افغانستان کے کئی گروہوں کو اختلاف رہا ہے، اور اب بھی ہے، لیکن اس ضمن میں طالبان کا ایک نقطہ نظر ہے اور وہ اسلامی شریعت کے اصولوں کی روشنی میں مشاورت سے حکومت چلانا چاہتے ہیں ،تو اُن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی بجائے تعاون کی ضرورت ہے ۔ قوتِ بازو کے ذریعے جن ممالک میں انقلاب آتے ہیں عام طور پر دنیا اُن سے خوفزدہ ہی رہتی ہے،اس کی بہترین مثال ایران ہے جس کا انقلاب آج بھی دنیا کے کئی ممالک کو ہضم نہیں ہو رہا،حالانکہ پورے ملک میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ زندگی کے ہر شعبے میں کام کر رہی ہیں ۔ افغانستان کی نئی کابینہ میں چونکہ کوئی خاتون شامل نہیں اس حوالے سے نکتہ چینی کا آغاز بھی ہو چکا ہے، لیکن طالبان کا خیال ہے کہ وہ اپنی حکومت کو دنیا کے لئے قابل ِ قبول بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے;245;طالبان کی حکومت اصولوں اور شرعی قوانین پر عملدرامد یقینی بنائے گی اس لئے اب وثوق کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارے پڑوس سے اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے احیاء کا آغاز ہو چکا ہے جو دین اسلام کو دبانے اور مسلمانوں پر ہر قسم کی دہشت گردی کا ملبہ ڈال کر انہیں راندہ درگاہ بنانے کی خواہشمندالحادی قوتوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے ۔ طالبان کی عبوری حکومت کو پاکستان سمیت اگرچہ اب تک دنیا کے کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا تاہم چین، ایران، ترکی اور پاکستان سمیت خطے کے بیشتر ممالک کی جانب سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا جا چکا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ تو حکومت کی تشکیل سے بھی پہلے طالبان کا نرم گوشہ رہا ہے اور وہ اپنی مزاحمتی تحریک میں پاکستان کی مدد حاصل ہونے کے بھارتی الزامات غلط اور محض جھوٹا پراپیگنڈہ قرار دیتے رہے ہیں جبکہ عبوری حکومت کی تشکیل کے بعد بھی طالبان نے افغانستان بالخصوص پنجشیر میں پاکستان کی مداخلت کے بھارتی الزامات مسترد کرتے ہوئے اسے جھوٹا پراپیگنڈہ قرار دیا ۔ اس حوالے سے طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے میڈیا کے روبرو ایک سوال کے جواب میں باور کرایا کہ وادی;63; پنجشیر میں کوئی جنگ نہیں ہو رہی اور وہاں مکمل امن ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ اب افغانستان میں جو ہتھیار اٹھائے گا وہ ہمارا دشمن ہو گا ۔ اسی طرح طالبان ترجمان سہیل شاہین نے اعلان کیا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہرگز قائم نہیں کئے جائیں گے ۔ اس تناظر میں طالبان حکومت کی قومی پالیسی اور بیرونی دنیا کے ساتھ اس کے تعلقات کے ممکنہ اقدامات واضح ہو چکے ہیں ، جو افغانستان کے ساتھ ساتھ علاقائی امن و استحکام کی جانب بھی طالبان کی پیش رفت کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ پاکستان کے لئے افغانستان کی جانب سے عملاً ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آتا محسوس ہو رہا ہے ۔ اس کے برعکس افغانستان کے کٹھ پتلی سربراہان حامد کرزئی اور اشرف غنی ہمیشہ پاکستان دشمنی پر مبنی اقدامات اٹھاتے اور اس کے ساتھ بھارتی لب و لہجہ میں بات کرتے رہے ہیں ۔ ان سابق افغان حکمرانوں کی معاونت سے ہی بھارت کو افغان سرزمین پاکستان میں دہشت کےلئے استعمال کرنے کا موقع ملتا رہا ہے ۔ اب بھارت کے لئے یہ سہولت عملاً ختم ہو چکی ہے اس لئے اب پاکستان میں بھی مکمل امن و استحکام کوئی زیادہ دور کی بات نہیں رہی ۔ ہ میں اسی تناظر میں ملکی سلامتی کے تقاضوں اور بہترین قومی مفادات کو سامنے رکھ کر افغانستان کے ساتھ خیرسگالی کے برادرانہ تعلقات استوار کرنے کی پالیسی وضع کرنی ہے جس میں کسی پس و پیش سے کام نہیں لیا جانا چاہئے اور ہ میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے میں پہل کرنی چاہئے ۔