- الإعلانات -

صدرمملکت کاپارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدرمملکت کاخطاب ملکی اورخطے کے حالات کا آئینہ دار تھا جس میں انہوں نے بھارت کے مکروہ چہرے کوواشگاف کیا یہ اس کی دہشت گردانہ کارروائیاں خطے میں ا من کے لئے خطرہ ہیں پھرساتھ ہی انہوں نے اپوزیشن کو بھی کہاکہ وہ مل بیٹھ کرباہمی اتفاق سے مسائل کو حل کر ے لیکن اپوزیشن نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایوان میں احتجاج کیا،سپیکر کے ڈائس کاگھیراءو کیا اورواک آءوٹ کرگئے ۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس جودنیابھر میں دیکھاجارہاہوتاہے اور وہ ادارہ جہاں عوام کے نمائندے اورقانون ساز بیٹھے ہوتے ہیں اس طرح کے اقدامات سے دنیا کوکیاپیغام جائے گا ۔ لہٰذا حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ باہمی افہام وتفہیم سے معاملات کو حل کریں ۔ صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان درست سمت اور معیشت ترقی کی جانب گامزن ہے،کروناکے باعث دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہوئیں لیکن بہتر حکومتی پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت بہتر رہی ۔ تعمیراتی شعبے کی ترقی کا سہرا وزیراعظم کے سر ہے، غیرملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں 60 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ ماضی میں ٹیلنٹ کی قدرنہیں کی،لوٹ مار سے توجہ ہٹا کر انسانیت پر فوکس کیا ہے ۔ 3سال میں پاکستان نے اندرونی وبیرونی محاذ پر کامیابیاں حاصل کیں ۔ صدرکاکہناتھا کہ افغانستان میں بڑی تبدیلی آئی،عمران خان کا شروع سے موقف رہا ہے کہ جنگ کی بجائے مذاکرات سے مسئلہ حل کیا جائے، افغانستان کی نئی حکومت اپنے عوام کو متحد کرے، فتح مکہ پر نبیﷺ کی تعلیمات کے مطابق معافی کی پالیسی اپنائے، افغان سرزمین سے پڑوسی ممالک کو خطرہ نہ ہو، طالبان رہنماءوں کے بیانات حوصلہ افزا ہیں ۔ ان کاکہناتھا کہ چین نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ سی پیک گیم چینجر منصوبہ ہے اس سے خطے میں ترقی ہوگی ۔ صدرکا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت کے فروغ اور انتخابات میں شفافیت یقینی بنانے کیلئے انتخابی اصلاحات وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ الیکٹرک ووٹنگ مشین کو سیاسی فٹ بال نہ بنایا جائے اور کھلے دل سے اس کی نوک پلک دیکھی جائے اور ٹھیک کی جائے ۔ تمام سیاسی جماعتیں اس سلسلے میں مکمل تعاون کریں تاکہ سمندر پار پاکستانی اپنے سیاسی حقوق سے محروم نہ رہیں ۔ ان کاکہنا تھا کہ بھارت کئی دہائیوں سے نہتے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے ۔ وزیر اعظم نے خود کو کشمیر کا سفیر کہا اور بڑے موثر انداز میں بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے ہر فورم پر بے نقاب کیا ۔ عمران خان نے منتخب ہوتے ہی بھارت کے وزیر اعظم کو دعوت دی کہ اگر آپ امن کی جانب ایک قدم بڑھائیں گے تو پاکستان دو قدم ;200;گے ;200;ئے گا لیکن بدقسمتی سے بھارت نے پاکستان کے ہر مثبت قدم کا منفی جواب دیا ۔ فروری 2019 میں بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا اور بھارت کا طیارہ مار گرایا ۔ پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو اس پارلیمان کی مشاورت سے جذبہ خیر سگالی کے تحت واپس کردیا ۔ بھارت کشمیر میں ظلم کا بازار بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دے ۔ پاکستان اپنے اصولی موقف پر قائم ہے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت جاری رکھے گا ۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور آر ایس ایس کے شدت پسندانہ اور نسلی امتیاز پر مبنی ہندوتوا کے فاشسٹ نظریے سے علاقائی سالمیت کو بہت بڑا خطرہ ہے ۔ بھارت کئی سالوں سے پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے اور تخریب کاروں کا سہولت کار ہے ۔ بھارت میں جوہری مواد کی چوری اور مارکیٹ میں خرید و فروخت کے واقعات سامنے ;200;ئے ہیں ۔ یہ بھارتی غیر ذمہ داری کا ثبوت ہیں جسکی وجہ سے عالمی امن و سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں ۔ ایسے سنگین واقعات کو عالمی برادری اور میڈیا کی جانب سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا ۔ صدر کاکہنا تھا کہ اسلامی دنیا کو دیگر چیلنجز کے ساتھ ساتھ اسلاموفوبیا اور اسلام دشمنی کا سامنا ہے ۔ اس سلسلے میں عمران خان نے عالمی برادری بالخصوص مغربی ممالک کو یہ بات باور کرائی ہے کہ وہ اسلام دشمنی، تعصب اور تنگ نظری پر مبنی پالیسیوں کو ترک کر کے بین الاقوامی سطح پر امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کریں ۔ مودی حکومت کے غلط فیصلوں کا نقصان بھارتی عوام اور معیشت کو برداشت کرنا پڑا ۔ سب اچھی طرح سے واقف ہیں کہ کیسے جھوٹی خبروں اور غیر تصدیق شدہ رپورٹس کی بنیاد پر مغربی میڈیا نے عراق پر حملے کی راہ ہموار کی ۔ حال ہی میں یورپین یونین کی ;34;ڈس انفو لیب ;34; نے بھارتی فیک نیوز نیٹ ورک کو بے نقاب کیا ۔ ان سب اقدامات کا مقصد پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو پاکستان کے خلاف بدگمان کرنا تھا ۔

آرمی چیف کادورہ کراچی

;200;رمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ روز کور ہیڈ کوارٹرز کراچی کا دورہ کیا ۔ ;200;رمی چیف کو ;200;پریشنل تیاریوں ، تربیتی نظام اور کور کے انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ ;200;رمی چیف کو صوبے میں داخلی سلامتی کی موجودہ صورتحال سے ;200;گاہ کیا گیا ۔ آرمی چیف کو پاک فوج اور پاکستان رینجرز کی دیگر قانون نافذ کرنےوالی ایجنسیوں کی مدد سے صوبے میں امن و امان برقرار رکھنے کی کوششوں سے آگاہ کیا گیا ۔ آرمی چیف نے خطے کی تازہ ترین صورتحال کے تناظر میں ہائبرڈ خطرات سے موثر طور پر نمٹنے کےلئے پوری قوم کی جانب سے اجتماعی طور پر جواب دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ ;200;رمی چیف کو کراچی ٹرانسفارمیشن پلان(;758480;)پر عملدر;200;مد کےلئے فوج کی طرف سے دی جانے والی کثیر الجہتی معاونت کے بارے میں بھی بریف کیا گیا جس کے تحت پاکستان کے سب سے بڑے میٹروپولیٹن شہر کو ترقی دینے کے میگا پراجیکٹ پر عمل درآمد جاری ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال اگست کے دوران کراچی میں سیلابی بارشوں کے نتیجے میں جو تباہی ہوئی اس ضمن میں انفراسٹرکچر کی بحالی اور مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے ۔ ;200;رمی چیف نے کراچی ٹرانسفارمیشن پلان کے اہم منصوبوں پر بروقت اور موثر کارروائی کو یقینی بنانے کےلئے سول انتظامیہ کی ہر ممکن مدد کرنے پر کور کمانڈر کراچی کی خدمات کو سراہا ۔ ;200;رمی چیف نے زندگی ٹرسٹ کے زیرانتظام چلنے والے خاتون پاکستان گورنمنٹ گرلز سکول کراچی کا بھی دورہ کیا ۔ انہوں نے غریب اور بے سہارا بچیوں کو جدید سہولیات اور اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرنے پر سکول انتظامیہ کی بھی تعریف کی ۔ ;200;رمی چیف نے پاکستان رینجرز سندھ، انٹیلی جنس اداروں ، سندھ پولیس، اے این ایف اور اے ایس ایف سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کے شہدا کے اہل خانہ سے بات چیت کی اور ان کیساتھ وقت گزارا، انکی خیریت دریافت کی ۔ ;200;رمی چیف نے کور ہیڈکوارٹر حکام کو شہدا کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کےلئے تمام ضروری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی ۔

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت اجلاس اوراہم فیصلے

وفاقی وزیرتعلیم شفقت محمود کی زیرصدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ کرونا صورتحال کے باعث دوبارہ فوری امتحانات ممکن نہیں اور فیل ہونےوالے طلبا کو رعایتی 33نمبرز دے کر پاس کیا جائے گا جبکہ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے امتحانات سال میں دو بار ہوں گے، امتحانات کو سپلیمنٹری امتحانات کا نام نہیں دیا جائے گا ۔ ;200;ئندہ سال میٹرک امتحانات مئی جون میں ہوں گے اور ;200;ئندہ سال نیا سیشن اگست سے شروع ہوگا ۔ سندھ کے وزیر تعلیم نے امتحانات سے متعلق وفاقی وزیر تعلیم کے فیصلے سے اتفاق نہ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے کہا کہ شفقت محمود کے اعلانات سے سندھ متفق نہیں ، وزرائے تعلیم کے اجلاس میں تمام فیصلوں پر سندھ آمادہ نہیں ہے ۔ سندھ میں امتحانات ہوچکے ہیں اور کرونا وبا کے دوران بہترین انداز سے امتحانات منعقد کروائے ۔ سال میں دوبار امتحانات کی تجویز کو سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس میں لے جائیں گے اور سٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلے کو ہی حتمی فیصلہ تصور کیا جائیگا ۔