- الإعلانات -

الیکٹرانک ووٹنگ مشین ۔ ;200;ئیڈیا تو اچھا ہے

اس وقت حکمران جماعت کی کوشش ہے کہ ملک کے ;200;ئندہ انتخاب الیکٹرانگ ووٹنگ مشین سے کرائے جائیں تاکہ الیکشن صاف اور شفاف ہوں ۔ سوچ تو اچھی ہے کہ ملک میں الیکشن صاف اور شفاف کبھی نہیں ہوتے مگر ہونے چائیے ۔ لیکن اس سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا کہ الیکٹرنک ووٹنگ مشینوں سے الیکشن فیئر اور فر ی ہو سکتے ہیں ۔ راقم اس ایشیو کو سمجھنے کے لئے بابا کرمو اور بابا فیقہ کے ساتھ ایک نشست کی ۔ انہیں بتایا کہ حکومت ملک میں فری اور فیئر الیکشن کرانے کیلئے الیکٹرانک ووٹنگ مشین لانا چاہتی ہے ۔ بابا کرمو نے پوچھا الیکشن ان ووٹنگ مشینوں کے لانے میں کتنا خر چ ;200;ئے گا ۔ بتایا اس کیلئے اندازا ایک سو ساٹھ ارب روپے ہے ۔ کہا اتنے پیسوں سے تو ملک کے چار صوبوں میں چار بڑے اسپتال بن سکتے ہیں ۔ تعلیم پر یہ رقم لگا کر جہالت ختم کی جا سکتی ہے ۔ جس طرح کے الیکشن ملک میں پہلے سے ہو رہے ہیں ان میں صرف ایک ہی خامی ہے جسے دور کیا جا سکتا ہے ۔ مگر اس خامی سے چھٹکارہ پانا ممکن نہیں لگتا ۔ بابا کرمو نے بتایا اب جن کی وجہ سے اس سسٹم میں خامی ہر الیکشن میں دیکھنے کو ملتی ہے اور الیکشن کے بعد دھاندلی کا شور اٹھتا ہے ۔ اس خامی کو عوام بچارے ٹھیک نہیں کر سکتے ۔ یہ ان کی بس کی بات نہیں ۔ ان مشینوں کو بھی تو انہی انسانوں نے چلانا ہے ۔ جو موجودہ سسٹم کو چلا رہے ہیں ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ الیکٹرانگ ووٹنگ سسٹم سے سوائے پیسے کے ضیاں کےکچھ حاصل نہیں ہو گا ۔ اپنے پڑوسی ملک میں صرف چالیس فیصد علاقوں میں اس سسٹم کا نفاذ ہے ۔ لیکن وہاں نہ پہلے اور نہ اب الیکشن کا رونا رویا جاتا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے ۔ یہ سسٹم ا امریکہ کے علاوہ بہت سے دوسرے ممالک میں بھی راءج ہے ۔ جن ممالک میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال ہو رہا ہے وہاں یہ سسٹم اس وجہ سے نافذ نہیں کہ وہاں کی عوام کو الیکشنوں میں دھاندلی کی شکایات کا سامنا تھا یا الیکشن وہاں شفاف نہیں ہوتے تھے ۔ الیکٹرانگ ووٹنگ مشین لا کر ملک میں الیکشن کی دھاندلی کو ختم کرنا نہیں تھا، الیکشنوں کو شفاف بنانا نہیں تھا ۔ انہوں نے یہ نظام اس لئے اپنے اپنے ممالک میں نافذ کیا تھا کہ الیکشن کے روز عوام کو سہولیات فراہم کی جائیں اور ہر شہری الیکشن میں حصہ لے سکے ۔ بابا فیقہ نے کہا وہاں کبھی بھی الیکشن کرانے والوں پر انگلیاں نہیں اٹھتیں وہ نہیں کہتے کہ ووٹ عوام نے ڈبے میں کچھ ڈالے تھےاور الیکشن کے ڈبوں سے رزلٹ کچھ نکلتا ہے ۔ ان ممالک نے الیکٹرانگ ووٹنگ مشین کو صرف اور صرف عوام کو سہولیات دینے کیلئے لائے تھے ۔ جب کہ ہم یہ سسٹم اس لئے لانا چاءتے ہیں کہ ملک میں شفاف اور فیئر الیکشن ہوں ۔ دھاندلی کا خاتمہ ہو ۔ جو سسٹم ہمارے ہاں نافذ چلا ;200; رہا ہے ۔ اسے بغیر مزید ایک پیسہ خرچ کئے کے اس میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ لیکن لائیں گے نہیں اس لئے کہ یہاں الیکشن نہیں سلیکشن ہوتی ہے ۔ اگر سلیکشن ہی کرنی ہے تو پھر عوام کا پیسہ کیوں ضائع کرتے ہو ۔ موجودہ الیکشن سسٹم میں بہتری کے کیلئے کسی رقم کی ضرورت نہیں ۔ جس ملک کا سسٹم غیر چلائیں گے و ہاں کے حکمران اپنے ملک کا کیا خاک خیال کریں گے ۔ کئی ممالک دنیا کے ایسے ہیں خاص کر مسلم ممالک ان کے پاس تیل کے وسائل ہیں مگر ان پرقبضہ غیروں کا ہے ۔ عوام بھوک سے مر رہے ہیں لیکن کسی کی ہمت نہیں کہ کوئی ان کے حقوق کی جنگ لڑے ۔ بات کرے ۔ کویت عراق ،شام ،لبیا کے وسائل پر غیر قبضہ کئے بیٹھے ہیں ۔ بابا کرمو نے کہا اب جنگیں اسلحے سے نہیں لڑی جاتیں ۔ اب معیشت سے لڑنے کی جنگ ہے ۔ پہلے اس ملک کے وسائل پر قبضہ کرو، پھرملک کو اپنی مرضی سے چلا ۔ یہ قبضہ گروپ ملک کے غریب عوام کو کھانے کو روٹی نہیں دیتے پینے کو صاف پانی نہیں دیتے ۔ ملک میں قانون کو نافذ نہیں ہونے دیتے ۔ اداروں کو چلنے نہیں دیتے ۔ ایسا یہ قبضہ گروپ دنیا کے مختلف ممالک میں راج ہے ۔ با با کرمو نے کہا ;200;پ کسی بھی ماضی کے یا موجودہ حکمران سے پوچھیں لیں کہ الیکشن میں دھاندلی کیسے ہوتی ہے، کون کرتا ہے، کون کراتا ہے ۔ وہ سب ;200;پ کو بتا دیں گے مگر ان میں ہمت نہیں کہ یہ سچ بول سکیں ۔ جو سچ بولیں گا ملک بدر کر دیا جاتا ہے ۔ اب تو سب جانتے ہیں کہ الیکشن کے روز گنتی کے بعد دھاندلی بندکمرے میں کی جاتی ہے جہاں چند لوگ سسٹم کے سوءچ کو ;200;ن ;200;ف کر کے مرضی کے رزلٹ تیار کرتے ہیں ۔ اگر ایسے کرنے والوں کو روک سکتے ہیں تو پھر اسی سسٹم سے الیکشن کرا ئے جا سکتے ہیں ۔ پھر کوی دھاندلی کا شور نہیں ہو گا ۔ اس سسٹم کو خراب کرنے والے مٹھی بھر لوگ ہیں جن کا اپنا ریموٹ باہر غیروں کے پاس ہے وہ ان کے ذریعے اس جماعت کو اقتدار میں لاتے ہیں جس سے انہیں اپنی مرضی کا کام لینے ہوتے ہیں ۔ لہٰذا جو اقتدار میں ;200;تا ہے وہ سب کچھ جانتا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ میری جیت ا لیکشن سے نہیں سلیکشن سے ہوئی ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اسے کون لایا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اسے کن کاموں کےلئے لایا گیا ہے ۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کب مجھے گھر جانا ہو گا اورکیسے جانا ہو گا ۔ یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں ;200;تا ۔ لہٰذا اس کی بلا سے عوام پر مہنگائی کے بم گریں یا یہ بھوک سے مریں ۔ یہ لیڈران غریب اور مہنگائی پر اس وقت بولتے ہیں جب یہ اپوزیشن میں ہوتے ہیں لیکن جو ہی یہ لیڈران اقتدار کی کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں ان کا رابطہ عوام سے ختم ہو جاتا ہے ۔ پھر یہ عیدین کی نمازیں ہوں یا کسی کا جنازہ نہ بھی پڑھیں تو ان سے کوئی پوچھ نہیں سکتا ۔ ان کو بتا دیا جاتا ہے کہ اگر ;200;پ کی ماضی کی تقریں کوئی دکھاتا ہے چلاتا ہے تو ;200;پ نے شرمندہ نہیں ہونا، گھبرانا نہیں ،ڈٹ کر بیٹھے رہنا ۔ ;200;خر میں بابا کرمو نے یہ شعر سنائے،کسی کا حکم ہے ساری ہوائیں ،ہمیشہ چلنے سے پہلے بتائیں کہ ان کی سمت کیا ہے ۔ ہواں کو بتانا یہ بھی ہو گا ۔ چلیں گیں تو کیا رفتار ہوگی کہ ;200;ندھی کی اجازت اب نہیں ہے ۔ ہماری ریت کی سب یہ فصیلیں یہ کاغذ کے محل جو بن رہے ہیں ِ حفاظت ان کی کرنا ہے ضروری، ;200;ندھی ہے پرانی ان کی دشمن یہ سب جانتے ہیں ۔ بغاوت تو نہیں برداشت ہو گی، وحشت تو نہیں برداشت ہو گی اگر لہروں کا ہے دریا میں رہنا، تم کو ہو گا چپ چاپ بہنا ۔ کسی کو کوئی یہ کیسے بتائے، ہوائیں اور لہریں کب کسی کا حکم سنتی ہیں ، ہوائیں حاکموں کی مٹھیوں میں ہتھکڑی میں قید خانوں میں نہیں رکتیں ۔ ;200;خر میں میری سمجھ میں یہی ;200;یا ہے کہ ہ میں الیکشن کرانے کیلئے ان مشینوں کی نہیں ملک کو قانون اور ;200;ئین کے مطابق چلانے کی ضرورت ۔