- الإعلانات -

جھوٹی خبروں کے ذریعے فرقہ واریت پھیلانے کی بھارتی سازش

وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت جھوٹی خبروں کے ذریعے وطن عزیز میں فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتا ہے ۔ بھارت کے ساتھ مل کر کچھ طاقتیں پاکستان میں نقص امن اور انتشار پھیلانا چاہتی ہیں ۔ ہ میں ایسی قوتوں کا راستہ روکنا ہوگا ۔ بین المذہب ہم آہنگی کی جتنی ضرورت آج کے دور میں ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی ۔ پاکستان میں فرقہ واریت میں بھارت کے ملوث ہونے کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ ہمارے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد ہیں کہ بھارت، پاکستان میں دہشت گردی اور فرقہ واریت کے پیچھے ہے، پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے بھارت سرگرم ہے اور اس کے عزائم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ بھارت ہائیبر ڈوار کے ذریعے پاکستان میں انتشار پھیلارہا ہے ۔ بھارتی ایجنسیاں اپنے وسائل اورسہولت کاروں کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کے بیج بورہی ہیں ۔ تاہم فرقہ واریت کے خلاف پوری پاکستانی قوم متحد ہے ۔ ہمارے دشمنوں نے فرقہ وارانہ منافرت پھیلا کر دہشت گردی کو فروغ دیا ۔ کسی ایک فرقے کو اتنا بھڑکایا کہ وہ دوسرے فرقے پر چڑھ دوڑا ۔ بات جب بڑھ جاتی ہے تو مساجد اورمدارس محفوظ نہیں رہتے ۔ ان میں بے گناہ اور معصوم طلباء و نمازیوں کو بھی گولیوں کا نشانہ بنایا گیا ۔ کاروباری لوگوں کی دکانوں کو بھی نذر آتش کر دیا گیا، مسجد کو بھی آگ لگا دی گئی ۔ ایسے حالات و واقعات کو دیکھ اور سن کر یوں محسوس ہوتا کہ شاید ہم پر دوبارہ جاہلیت کا دور مسلط کر دیا گیا ہے ۔ بھارت اب تک دہشتگردوں کو افغانستان کے راستے ملک میں داخل کر رہا تھا ۔ فرقہ وارانہ بنیادوں پرتشدد اسلام کی نمائندگی نہیں ہے ۔ اسلام کا نام لیکر پشاور میں بچوں کے قتل اور کراچی میں بس میں گھس کر ایک خاص فرقہ کے لوگوں کو مارنے جیسی وارداتیں کی جارہی ہیں ۔ مسلمان ملک اس وقت اس وقت سخت آزمائشوں میں مبتلا اور دشمنان اسلام کی سازشوں کی آماجگاہ بنے ہوئے ہیں ۔ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ ،لسانی فسادات اور دہشت گردی میں ملوث ہے ۔ بھارت کی پاکستان میں مداخلت اور بھارتی خفیہ ایجنسی راکی دہشت گردی کی باتیں اب سچ ثابت ہورہی ہیں ۔ بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے پاکستان میں دہشت گردگروپوں کی سرپرستی کررہا ہے ۔ دنیا کے سامنے بھارت کا بھیانک چہرہ بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے ۔ سیاسی ومذہبی جماعتیں پاکستان کوعدم استحکام سے دوچارکرنے کی ناپاک بھارتی سازشوں کو ملکر ناکام بنائیں ۔ فتنہ تکفیر نے امت مسلمہ کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ مسلم معاشرے اس وقت قتل و غارت گری سے دوچار ہیں ۔ پاکستان، مصر، شام اور خلیج کے دیگر ملکوں سمیت ہر جگہ یہی صورتحال ہے ۔ اسلام کے نام پر کلمہ گو مسلمانوں پر کفرکے فتوے لگاکرقتل وغارت گری کرنے والے کسی صورت اسلام کے نمائندے نہیں ہیں ۔ دشمنان اسلام مسلمانوں کو قدموں پر کھڑا ہوتے دیکھ کر سخت پریشان ہیں ۔ حکمران و سیاستدان سطحی سیاست میں الجھنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں ۔ صلیبیوں و یہودیوں کی سازشوں کا توڑ صلاح الدین ایوبی اور نورالدین زندگی کا راستہ اختیا ر کرکے ہی کیا جاسکتا ہے ۔ علماء کرام منبرومحراب کے ذریعہ مسلمانوں کو دشمنان اسلام کے مذموم عزائم سے آگاہ کریں ۔ بھارت نے آج تک پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیا اوراس کے خلاف سازشوں میں شریک ہے ۔ پاکستان میں جتنے بڑے مسائل ہیں ،چاہے وہ فرقہ وارانہ تعصبات ہوں ‘ دہشت گردی اور لسانیت کی بنیاد پر قتل وغارت گری ہو ،اس میں بھارت سرکار کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ملوث ہے ۔ آج یہ سب باتیں درست ثابت ہو رہی ہیں ۔ بھارت پاکستان میں شدت پسند عناصر کو استعمال کرکے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے ۔ اس وقت منبر و محراب سے اچھی باتیں اچھے القاب نکالنے کی سخت ضرورت ہے ۔ اب تک پاکستان ساری دنیا میں مذہب کے نام پر بہت بدنام ہو چکا ہے ۔ اس میں خود غرض، مفاد پرست اور پاکستان کے دشمنوں کے آلہ کار بننے والے لوگوں کا بہت حصہ ہے ۔ ہ میں اشتعال انگیز منافرت پھیلانے والوں کو اپنی صفوں سے نکالنا ہو گا ۔ تمام علمائے کرام کی ذمہ داریاں ہیں کہ وہ دشمن کا آلہ کار بننے والے جوشیلے ورکروں کو اشتعال میں آنے سے باز رکھیں ۔ ہماری سکیورٹی فورسز کی کارکردگی نے ملک دشمن عناصر اور بھارت کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ وہ پاکستان میں دہشتگردی کا مزید کھیل نہیں کھیل سکتے ۔ پاکستانی عوام یہاں دہشتگردی قتل و غارت گری کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ۔ وطن کی سلامتی و بقاء کیلئے ہر قسم کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ آئیے عہد کریں گہ وطن دشمنوں کیلئے ارض پاک کو تنگ کر دینگے ۔ ہم پاکستان کے استحکام اور سلامتی کے لئے ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار ہیں ۔ علما اور مشاءخ نے اتحاد امت کے لئے اپنا کردار ادا کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے ۔ وحدت امت ہمارا نصب العین ہے ۔ ملک دشمن عناصرکے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے ۔ تحریک پاکستان کی طرح استحکام ودفاع وطن کیلئے علما کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔ اگر انسان اپنی زندگی کے سلسلے میں قرآن کی شکل میں اللہ تعالیٰ کے احکامات کو نظر انداز کرے اور پھر اس کو یہ توقع بھی ہو کہ اس کی دنیاوی یا اخروی زندگی ہر لحاظ سے کامیاب ہوگی تو یہ اس کی خام خیالی ہے ۔