- الإعلانات -

بین الاقوامی برادری افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے

افغانستان کے حالات کو درست ہونے میں وقت درکا ر ہے ، ایسے میں اگر دنیا نے افغانستان کو تنہا چھوڑا تو بہت بڑا انسانی المیہ پیدا ہوسکتا ہے ، پاکستان اور خصوصی طور پر وزیر اعظم عمران خان نے پہلے ہی کہا تھا کہ افغان مسئلے حل فوجی نہیں ،مذاکرات ہیں ، اب گوکہ طالبان کی عبوری حکومت قائم ہوچکی ہے ۔ ایسے میں انہیں دنیا بھر سے تعاون کی ضرورت ہے ، پڑوسی اور مسلمان ملک ہونے کی حیثیت سے پاکستان افغانستان کی بہت مدد کررہا ہے ، بین الاقوامی برادی بھی آگے بڑھے اور افغانیوں کا ہاتھ تھامے تاکہ وہ دنیا کے ساتھ چل سکے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان میں کیا ہو گا کوئی بھی پیش گوئی نہیں کر سکتا،افغانستان کو دہشت گردی کا سامنا ہو سکتا ہے، وہاں افراتفری اور پناہ گزینوں کے مسئلے کا بھی خدشہ ہے ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا نے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے افغانستان پر حملہ کیا تھا لیکن غیرمستحکم افغانستان کے نتیجے میں وہاں سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جن لے گا ۔ اگر یہ عمل ناکامی سے دوچار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہ میں بہت زیادہ خدشات بھی لاحق ہیں ، تو اس سے افرا تفری مچے گی سب سے بڑا انسانی بحران پیدا ہو گا، مہاجرین کا مسئلہ ہو گا، افغانستان غیرمستحکم ہو گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے افغانستان میں ;200;نے کا مقصد دہشت گردی اور عالمی دہشت گردوں سے لڑنا تھا لہذا غیرمستحکم افغانستان، مہاجرین کا بحران کے نتیجے میں افغانستان سے پھر دہشت گردی کا خطرہ جنم لے سکتا ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی یہ پیش گوئی نہیں کر سکتا کہ یہاں سے افغانستان کی صورتحال کیا نکلے گی، ہم صرف امید اور دعا کر سکتے ہیں کہ وہاں 40سال بعد امن قائم ہو، طالبان نے کہا کہ وہ ایک جامع حکومت چاہتے ہیں ، وہ اپنے خیالات کے مطابق خواتین کو حقوق دینا چاہتے ہیں ، وہ انسانی حقوق کی فراہمی چاہتے ہیں ، انہوں نے عام معافی کا اعلان کیا ہے تو یہ سب چیزیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ عالمی برادری انہیں تسلیم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کو باہر سے بیٹھ کر کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، ان کی ایک تاریخ ہے، افغانستان میں کسی بھی کٹھ پتلی حکومت کو عوام نے سپورٹ نہیں کیا لہذا یہاں بیٹھ کر یہ سوچنا کہ ہم انہیں کنٹرول کر سکتے ہیں ، اس کے بجائے ہ میں ان کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان کی موجودہ حکومت یہ محسوس کرتی ہے کہ عالمی معاونت اور امداد کے بغیر وہ اس بحران کو نہیں روک سکیں گے ۔ یہ ایک غلط تاثر ہے کہ باہر سے ;200; کر کوئی فرد افغان خواتین کو ان کے حقوق دے گا، افغان خواتین مضبوط ہیں ، انہیں وقت دیں ، وہ خود اپنے حقوق حاصل کریں گی ۔

ادھر دوسری جانب وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت نیشنل کوآرڈینیشن کمیٹی برائے سیاحت کا اجلاس ہوا جس میں ملک بھر کے سیاحتی مقامات کے فروغ کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری، معاونِ خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز نے شرکت کی ۔ دوسری جانب وزیر اعلی خیبرپختونخوا محمود خان و دیگر صوبائی حکام بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے ۔ اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ صوبہ پنجاب میں چار سیاحتی مقامات کے لئے سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے فروغ اور مینجمنٹ کے لئے بین الاقوامی ادارے کی خدمات حاصل کی جا چکی ہیں ۔ بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بھی چار انٹیگریٹڈ ٹورازم زونز کے ماسٹر پلان کے مسودے تیار کیے جا چکے ہیں جن کو حتمی شکل دی جارہی ہے اور صوبہ پنجاب میں سیاحت کے حوالے سے ذیلی قوانین اور ریگولیشنز کو حتمی شکل دی جاچکی ہے، جلد ان کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا ۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو اٹک اور بالا حصار قلعے کو سیاحتی مراکز بنانے کے حوالے سے پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی ہے ۔ اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ سیاحتی مقامات پر ائیر سفاری سروس کے اجرا کے لئے سول ایوی ایشن کی جانب سے اپنے قواعد مین ترمیم کی جا چکی ہے، اس کے نتیجے میں نجی شعبے کے لئے بے شمار مواقع پیدا ہو چکے ہیں ۔ اجلاس کو مختلف سیاحتی مقامات کے لئے ڈیسٹی نیشن مینجمنٹ پلان کی تیاری کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی ہے ۔ بریفنگ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیاحت کے فروغ کے لئے چاروں صوبوں میں سنٹرلائزڈ ٹورازم ویب ساءٹ مکمل طور پر فعال ہے ۔ وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ملک میں سیاحت کا بے شمار پوٹینشل موجود ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پوٹینشل کو مکمل طور پر بروئے کار لایا جائے ۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ سیاحتی مقامات پر بین الاقوامی معیار کی سہولتوں کو یقینی بنایا جائے، سیاحتی مقامات پر ٹورسٹ ریزارٹ اور بین الاقوامی معیار کے ہوٹل قائم کرنے والوں کے لئے حکومت کی جانب سے سہولیات بشمول ٹیکس میں چھوٹ پر مبنی تجاویز پیش کی جائیں اور ان کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے ۔ وزیر اعظم نے جہلم اور اس کے اطراف میں واقع ریسٹ ہاسز و دیگر تاریخی مقامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان عمارات کی بحالی کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو بروئے کار لایا جائے ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے مزید کہا ہے کہ سیاحت کے حوالے سے زیر التوا کے معاملات کو بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے ۔

جنوبی وزیر ستان میں دہشتگردوں کیخلاف آپریشن

پاک وطن کو دہشتگردوں سے محفوظ رکھنے کیلئے پھر ہمارے فوج کے جوانوں نے اپنے لہو سے پاک سرزمین کو سینچا ہے ، مسلح افواج کے ہوتے ہوئے دہشتگرد کبھی بھی مذموم مزائم میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے اسمان منزہ میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے نتیجے میں 5 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں پا ک فوج کے 7 جوان بھی جام شہادت نوش کرگئے ۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (;200;ئی ایس پی ;200;ر )کے مطابق بدھ کوسکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پرضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے اسمان منزہ میں ;200;ئی بی او آپریشن کیا جس دوران5 دہشت گرد مارے گئے ۔ ;200;ئی ایس پی ;200;ر کے مطابق فائرنگ کے شدید تبادلے کے دوران 7 فوجیوں نے جام شہادت نوش کیا ۔ ۔ ادھروفاقی وزیرداخلہ شیخ رشید احمد نے جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف ;200;پریشن کے دوران پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی اطلاع پرغم کا اظہارکیا اور وطن کی خاطر جان قربان کرنے والے پاک فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا ۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ کرکے غریب عوام کو مزید مہنگائی کی چکی میں پھیس کر رکھ دیا ہے ۔ پہلے ہی اشیاء خوردنوش غریب کی خرید دور ہوچکی ہے ۔ ایسے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کسی بم سے کم نہیں ۔ ضرورت اس مر کی ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کیا جائے ، حکومت کے تمام منصوبے ایک طرف اصل کام مہنگائی کو قابو میں کرنا ہے کیونکہ غریب عوام اس سے براہ راست متاثر ہوتی ہے ، گزشتہ روز اوگرا کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے 10روپے اضافے کی سمری پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کی گئی تھی ۔ اوگرا کی طرف سے وزارت خزانہ کو بھیجی گئی سمری کے برعکس آئندہ پندرہ روز کے لیے وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے، پٹرول کی قیمت میں 5روپے فی لٹر اضافہ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت پٹرول کی نئی 123;46;30روپے ہو گئی ۔ لاءٹ ڈیزل ;200;ئل کی قیمت میں بھی ساڑھے پانچ روپے فی لٹر اضافے کی تجویز ہے ۔ حکومت نے گزشتہ 3 ماہ میں پیٹرولیم مصنوعات 6 مرتبہ مہنگی کیں اور 16جون سے اب تک پیٹرولیم مصنوعات 14روپے 74 پیسے تک مہنگی کی گئی ہیں اور فی لیٹر پیٹرول ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح 123 روپے 30 پیسے کا ہوگیا ۔ 31 اگست کو حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ڈیڑھ روپے تک کی کمی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اب کئی گنا اضافہ کر کے کس نکال دی ہے ۔ دوسری جانب کوکنگ آئل اور گھی قیمتیں بھی آسمان کو چھو رہی ہیں ۔