- الإعلانات -

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کی منسوخی

سال2003 سے سکیورٹی تھریٹ کو بنیاد بنا کر دنیائے کرکٹ کی بہت سی ٹیموں نے پاکستان میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت کرکٹ کھیلنا بند کر دی تھی ۔ ان دنوں پاکستان اپنی تاریخ کے بہت نازک دور سے گزر رہا تھا ، ہر روز کسی نہ کسی جگہ بم دھماکے ہوتے تھے ۔ تب سری لنکن خکومت نے اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کے دورے پر خصوصی طور پر بھیجا تو3 مارچ 2009 کو جب پاکستان کے دشمنوں نے جب سری لنکن کرکٹ ٹیم پر لاہور میں حملہ کیا تب دشمن کا ایک ہی مقصد تھا کہ کوئی بھی غیرملکی ٹیم پاکستان میں کرکٹ کھیلنے نہ ;200; سکے اس طرع دشمن اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ۔ سری لنکن ٹیم کے دورے کے ختم ہونے کی وجہ تمام عالم کو نظر ;200;رہی تھی ۔ مگر ;200;ج بڑی مشکل سے ہماری مختلف خکومتوں نے کوشش کی اور دوسرے ملک کے کھلاڑیوں نے پاکستان سپر لیگ میں باقاعدہ کھلینا شروع کر دیا ہے بلکہ غیرملکی ٹیموں نے پاکستان میں دوبارہ کھیلنا شروع کر دیا تھا ۔ کرکٹ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جب یہ ;200;پکے ملک میں دوسرے ملکوں کی ٹی میں دورہ نہیں کرتی تو ;200;پ ورلڈ کلاس پلیئر پیدا نہیں کر سکتے ۔ ہ میں پاکستان کے کھلاڑیوں کو داد دینی چاہئے اس کے باوجود جب پوری دنیا نے پاکستان میں کرکٹ کھیلنے سے منع کیا اس کے باوجود پاکستان ٹیم نے سال 2009 میں ٹی 20 ورلڈ کپ جیتا بلکہ سال 2017 میں چمپئن ٹرافی بھی جیتی ۔ دنیا کرکٹ کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ چاہئے کوئی دوسرا ملک پاکستان کا دورہ کرے نہ بھی کرے تو یہاں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ۔ سال 2015سے پاکستان نے ! پاکستان سپر لیگ! دوبئی میں شروع کروائی کیونکہ فارن پلیئر پاکستان میں کھیلنے کےلئے راضی نہیں تھے ۔ وقت گزرنے کے ساتھ لوگوں کو یہ احساس ہونے لگا کہ اب پاکستان ایک محفوظ ملک ہے یہاں کرکٹ کھیلی جا سکتی ہے ۔ ہمارے کرکٹ بورڈ اور حکومتوں نے غیر ملکی کھلاڑیوں کو ایسے حفاظتی طریقے سے رکھا کہ اس کی نظیر نہیں ملتی ۔ پی ایس ایل کے غیر ملکی ٹیم کے میچ کے دوران اسٹیڈیم کے ;200;س پاس تمام مارکیٹیں بند، کاروباری لوگوں کا نقصان اور ٹیم آفیشلز اور کھلاڑیوں کو فول پروف سیکورٹی فراہم کرنا کوئی ;200;سان کام نہیں ۔ پاکستان کی قسمت دیکھیں تمام یورپی ممالک نے ہماری قومی ایئرلائن پر پابندی لگا دی کہ پی آئی اے سکیورٹی رسک ہے ۔ جب افغانستان سے اپنے بندوں کو نکلنا پڑا تو اس وقت ہماری رسکی ایئرلائن کا سہارا لینا پڑا کہتے ہیں نہ ضرورت ماں کی ایجاد ہے ۔ اس سارے عمل کے دوران پاکستان نے سب کو اپنے پاس مہمانوں کی طرح رکھا، اس وقت پاکستان میں سیکورٹی رسک نہیں تھا ۔ ;200;ج نیوزی لینڈ کی ٹیم نے شرافت کی تمام حدیں پار کر دیں اور ایک خاص منصوبے کے تحت اپنا دورہ منسوخ کر دیا اور پاکستانی حکام کو یہ بھی بتانا تک مناسب نہ سمجھا کہ دورہ ختم کرنے کی وجوہات کیا ہیں ، اور کونسی سکیورٹی تھریٹ ہیں ۔ پاکستان کرکٹ بورڈ سکتے میں ;200;گیا، چیئرمین رمیز راجہ نے بڑا دلیرانہ بیان دیا ۔ وزیر داخلہ شیح رشید نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ہم نے ٹیم کو وی وی ;200;ئی پی سکیورٹی دی اور یہاں تک ;200;فر دی کہ ;200;پ بغیر تماشائیوں کے بغیر میچ کھیلیں مگر انہوں سے صاف انکار کر دیا، یہاں تک ہمارے وزیر اعظم نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو یہ گارنٹی دی کہ اس وقت ہمارا ملک سکیورٹی کے اعتبار سے دنیا کا محفوظ ملک ہے، اس کا جواب تھا ٹیم اپنے ;200;پ کو محفوظ نہیں سمجھتی ۔ یہ وہ دن بھول گئے ہیں جب کرائسٹ چرچ میں دہشت گردی کا حملہ ہوا تھا تو ٹیم پاکستان ہی سب سے پہلے کھیلنے گئی تھی ۔ پاکستانی حکومت کو چاہئے اس مسئلے کو سیریس لے اور سرکاری طور پر ان سے سرکاری زبان میں بات کریں کہ تھریٹ کہاں سے ملی ہے ۔ یہ تو ہم جانتے ہیں اس وقت دنیا میں پاکستان کی اہمیت ہے جو ہمارے دشمنوں کو برداشت نہیں ہو رہا ۔ موجودہ صورتحال سے مایوس یا دلبرداشتہ ہو کر بدحواسی اور غلط اقدام اٹھا کر مزید نقصان کر لینے سے نہ صرف بچنے کی ضرورت ہے بلکہ ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ رمیز راجہ جو اس وقت پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ہیں وہ اپنے ذاتی عالمی تعلقات ، میڈیا کا تیس سالہ تجربہ ، ایک بہترین مقرر اور اپنی بات لوگوں تک پہنچانے کی صلاحیت سے مالامال ہونا اور کرکٹ کی عالمی سیاست سے مکمل ;200;گاہی کو بروئے کار لائیں اور پاکستان کا مقدمہ بہترین انداز میں دنیا کے سامنے لڑیں اور جیت کر دکھائیں ۔ یہ وقت ابھی یا پھر کبھی نہیں کی نہج پر ;200;چکا ہے اس لئے اگر رمیز اس وقت کامیاب ہوجاتے ہیں اور صحیح طور سے مقدمہ لڑ لیتے ہیں تو پاکستان کی کرکٹ کی تاریخ میں ان کےلئے امر ہونے کا یہ ایک نادر موقع ہے ۔ ;200;خر میں پاکستانی میڈیا سے امید رکھتا ہوں اس نازک صورتحال پر اپنی کرکٹ ٹیم کو بلکہ ملک کو سپورٹ کریں نہ کہ گندی سیاست کر کے اپنے ;200;پ اور ملک کا مذاق نہ بنوائیں !