- الإعلانات -

اسلام دشمن خاتون کی بطور مشیربرطرفی ناگزیر

محترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب،جنرل سیکرٹری وفاق المدارس العربیہ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ماہرتعلیم ڈاکٹر عائشہ عبدالرزاق سرعام ٹی وی چینلز پر ناظرہ قرآن کریم اور دیگر اسلامی تعلیمات کو ہدف تنقید بناتی ہیں ۔ ان کی وزارت تعلیم میں بطور ٹیکنیکل ایڈوائزر تعیناتی تشویشناک ہے ۔ لہذا ان کو فوری طور پر برطرف کیا جائے ۔ ڈاکٹر عائشہ عبدالرزاق کی بعض نجی ٹی وی چینلز پر کی جانے والی گفتگو ریکارڈ پر موجود ہے جس میں وہ ناظرہ قرآن کریم اور دیگر دینی مواد کو نصاب میں شامل کرنے پر شدید تنقید کر رہی ہیں ۔ اسلامی سکالرمحترم قاری محمد حنیف جالندھری صاحب جو عظیم مذہبی شخصیت حضرت مولانا خیر محمد جالندھری مرحوم;231; کے پوتے بھی ہیں ، نے بالکل درست کہا ہے کہ ایسی دین بیزار خاتون کی وزارت تعلیم میں تعیناتی نسل نو کے ایمان اور مستقبل سے کھلواڑ کے مترادف ہے ۔ پاکستان ابھی تک اتنا بانجھ نہیں ہوا کہ تعلیم جیسے اہم معاملات ایسے فکری یتیموں کے رحم وکرم پر چھوڑ دئیے جائیں ۔ یہ بات درست ہے کہ دینی معاملات کے بارے میں ایسی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کرنےوالے عناصر کو تعلیم جیسی اہم ترین وزارت سے ہر قیمت پر دور رکھا جانا چاہیے ۔ تعلیمی اداروں میں ہماری آئندہ نسل پڑھ لکھ کر جوان ہو رہی ہیں ۔ یہاں جو بیج بوئیں گے وہی کاٹیں گے ۔ اگر ہم شروع سے ہی اپنی نسل کو اسلام اور پاکستان بارے غلط معلومات اور تعلیم دیں گے تو آگے چل کر یہ نسلیں کیسے اسلام اور پاکستان کی حفاظت کرینگی ۔ کیا اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنےوالی مملکت خداداد میں محب اسلام اور محب وطن اساتذہ اور دانشورں کم پڑ گئے ہیں یا ختم ہو گئے ہیں جو ہم اپنی نئی نسلوں کی باگیں ایسے بے دین لوگوں کے ہاتھ میں پکڑا رہے ہیں ۔ اس امر میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہماری نسلوں کو برباد کرنے کے حوالے سے کئی طاقتیں خصوصاً بھارت ،امریکہ ،اسرائیل اور بعض دیگر قوتیں ہر طرح کی مکروہ سازشیں کر رہی ہیں مگر انشاء اللہ وہ اپنے ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گی ۔ اگرچہ اس تلخ حقیقت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ را، این ڈی ایس وغیرہ نے چھوٹے چھوٹے گروہی ، نسلی ، لسانی ، علاقائی اختلافات کو ہوا دے کر مسلمانانِ عالم کی وحدت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ یہی کام یہ طاقتیں پاکستان میں بھی کر رہی ہیں ۔ مذہبی منافرت پیدا کر کے ملی وحدت کو کمزور کیا جا رہا ہے ۔ انشاء اللہ پاکستان بالآخر مسائل کے اس گرداب سے سر خرو ہو کر نکلے گا ۔ بقول اقبال;231; ’’ ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیر ہے ساقی ‘‘اسی طرح کے ایک اور دانشور پرویز ہود بھائی ہیں جنہوں نے ہمیشہ اسلام اور پاکستان پر تنقید ہی کی ہے ۔ پرویز ہودبھائی ایک استاد اور سماجی کارکن ہیں جنھیں پاکستانی ٹاک شوز میں اکثر لبرل یا آزاد خیال طبقے کی ترجمانی کےلئے سماجی اور تعلیمی مسائل کے بارے میں بات کرنے کےلئے مدعو کیا جاتا ہے ۔ حال ہی میں انہوں نے خواتین کے حجاب پر ایک انتہائی غیرذمہ دارانہ بیان دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ 1973 سے پڑھانا شروع کیا، اْس وقت آپ کو بمشکل ایک لڑکی برقعے میں دکھائی دیتی تھی، اب تو حجاب، برقعہ عام ہو گیا ہے ۔ آپ کو ’نارمل لڑکی‘ تو شاز و نادر ہی ادھر نظر آتی ہے ۔ ’جب وہ کلاس میں بیٹھتیں ہیں برقعے میں حجاب میں لپٹی ہوئی تو ان کی کلاس میں شمولیت بہت گھٹ جاتی ہے ۔ یہاں تک کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ وہ کلاس میں ہیں کے نہیں ۔ ‘ اگر پروفیسر ہودبھائی خود کو لبرل اقدار کا علم برادار گردانتے ہیں تو وہ برقعہ نہ پہننے والی خواتین کو ’نارمل‘ کیوں کہہ رہے ہیں ۔ خواتین کا لباس کبھی بھی ان کی قابلیت کا پیمانہ ہر گز نہیں ہو سکتا ۔ پاکستان میں کئی ایسے علاقے بھی ہیں جہاں برقعہ پہننا سماجی اقدار کا لازمی حصہ ہے، تو کیا یہ ان خواتین کی حوصلہ شکنی نہیں ;238;بظاہر یہ کہنا کہ برقعہ پہننے والی خواتین نارمل نہیں ہیں بالکل غلط ہے اور یہ بھی کہ یہ ان کی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہے ۔ پاکستان میں خواتین کی اکثریت اللہ اور اس کے رسول;248;کی جانب سے ان کو دی جانےوالی شرم و حیا کی چادر کو اوڑھنے میں فخر محسوس کرتی ہیں ۔ ہم مغرب کے دلدادہ دانشوروں اور بے حیائی کو ہوا دینے والی این جی اوزپر واضح کرتے ہیں کہ وہ ملک کی خواتین کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز میں ہر شعبے میں آگے آنےوالی خواتین کی اکثریت حجاب لیتی ہے ۔ پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور قائداعظم;231; نے قیام پاکستان کے مقاصد بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان کو ہم اسلام کی ایک ایسی تجربہ گاہ بنانا چاہتے ہیں کہ جو پوری دنیا کے لیے اسلامی نظام حکومت کا عملی شاندار نمونہ پیش کرے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں اسلام کی ترویج کےلئے بہت کام ہو رہا ہے ۔ بزم اقبال لاہور نے بھی اس سلسلے میں اپنا مقدور بھر حصہ ڈالا ہے کہ سیرت النبی ;248; پر ، سیرت رحمت عالم;248; ، آئینہ اسلام اور بچوں کےلئے ہمارے رسول;248; جیسی کتب شاءع کر کے آئندہ نسلوں میں اسلام اور پاکستان کی محبت پیدا کی ہے ۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور مقتدر اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خلاف اسلام سرگرمیوں میں ملوث ان اسلام دشمن عناصر کوکم از کم تعلیمی اداروں اور میڈیا سے ہٹایا جائے اور دستور پاکستان کے مطابق ایسی سزا دی جائے کہ آئندہ کوئی بھی اس ملک کے اندر شعائر اسلام کا مذاق اڑانے کی جرات نہ کر سکے ۔ پاکستان اور اسلام دشمن قوتوں کے اشارے پربعض لوگ فوج کی مخالفت بھی کرتے ہیں جبکہ قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے ۔