- الإعلانات -

ذہنی مریضوں اور نشئیوں سے پاک پاکستان


یہ بات خوش ;200;ئند ہے کہ حکومت وقت کو اعلیٰ ترین سطح پر یہ احساس و ادراک ہو گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت ذہنی امراض بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔ طرح طرح کی ذہنی بیماریوں میں اضافے نے ایک سنگین مسلے کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ بظاہر یوں بھی نظر ;200;تا ہے جیسے زندگی کا کوئی شعبہ ، کوئی منصب بھی ایسے لوگوں سے خالی نہ ہو ۔ سر پھرے لوگ تو خیر پہلے بھی کم نہ تھے ،پر اب مخبوط الحواس لوگوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی ہے ۔ ان میں ہونق، ست گواچے،سائیں ، سودائی، نشئی، راکٹ، جہاز ، بحری جہاز ، خلا باز ، رنگ باز،شرلیاں پٹاخے، سونگھ کر نشہ کرنے والے، سنگاڑھے ، خشکی باز، بھنگی اور پوڈری سب شامل ہیں ۔ ایک فلاحی ریاست کا یہ اولین فرض ہے کہ وہ اپنے ذہنی طور پر بیمار شہریوں کے مکمل علاج کی طرف توجہ دے ۔ یہ بیچارے حد درجہ توجہ کے مستحق لوگ ہوتے ہیں ۔ اور انکے علاج کو عطائی معالجوں ، پیروں فقیروں اور عاملوں کے سپرد نہیں کیا جاسکتا ، نہ ہی اس کام میں جنوں کو ملوث کرنا مناسب معلوم ہوتا ہے ۔ ان کے علاج کے لیے ریاست کی طرف سے مکمل طور پر مفت علاج کی جدید ترین سہولیات فراہم کی جانی چاہیں ۔ اگر ایسے بیمار شہریوں کا مناسب اور فوری علاج نہ کیاگیا تو یہ اپنے اطراف موجود لوگوں کی ذہنی صحت کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں ۔ ایسے ذہنی طور پر بیمار لوگوں کے اہل خانہ کے دکھ اور اذیت کا اندازہ قائم کرنا ناممکن ہے ۔ اس سنگین مسئلے کی طرف وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ محترمہ بشری بی بی نے توجہ دے کر اس معاملے کی حساسیت کو اجاگر کرنے کی قابل تعریف کوشش کی ہے ۔ وزیراعظم کی اہلیہ محترمہ بشری بی بی نے لاہور میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ ;200;ف مینٹل ہیلتھ کا تفصیلی دورہ کیا ۔ وہ خلاف معمول بالکل سیاہ رنگ کے ایک کھلے اور دراز برقعے میں ملبوس تھیں ۔ عام طور پر محترمہ سفید رنگ کا اجلا برقع اوڑھتی ہیں ، پر انہوں نے ہمسایہ ملک افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بہ کثرت نظر ;200;نے والے بڑے سے سیاہ برقعے سے مماثل برقع اوڑھ رکھا تھا ۔ انہوں نے ذہنی امراض کے انسٹیٹیوٹ کے مختلف حصوں کا دورہ کیا،اور نہایت توجہ اور دلچسپی سے مریضوں کو دئیے جانے والے کھانوں کا جائزہ بھی لیا ۔ محترمہ خاتون اول کی ایک محترم سہیلی فرح خان بھی ان کے ساتھ اس دورے میں موجود تھیں ۔ ، اگرچہ انہوں نے سفید یا سیاہ رنگ کا برقع اوڑھنے کی طرف توجہ نہیں دی تھی، لیکن وہ اس دورے میں ہسپتال ،مریضوں کی حالت اور سہولیات کا گہری نظر سے جائزہ لے رہی تھیں ۔ پنجاب انسٹی ٹیوٹ ;200;ف مینٹل ہیلتھ کے چیف ایگزیکٹیو ڈاکٹر اشرف نے خاتون اول کو تفصیلی بریفنگ دی ۔ یہ ایک روایتی اور زبانی بریفنگ تھی ، جس میں کی گئی ہر بات پہلے بھی کئی بار بتائی جا چکی ہوتی ہے ۔ ہماری ذہین خاتون اول نے سب کچھ سننے اور انسٹیٹیوٹ کے ہر حصے اور دی جانے والی ہر سہولت کا مشاہدہ کرنے کے بعد، کہا کہ ;200;پ لوگ ایک کاغذ پر مریضوں کو بہتر سہولیات یقینی طور پر فراہم کرنے کے لیے اپنی تجاویز تحریری طور پر پیش کریں ۔ انہوں نے ہسپتال کے باورچی خانے کا بھی جائزہ لیا ۔ یہ ہسپتال پنجاب کے دل لاہور میں قائم ہے ۔ یہاں داخل مریض مکمل طور پر ہسپتال کے عملے اور ڈاکٹروں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں ۔ ان کی بحالی اور سائنٹیفک تیمارداری اور علاج انتہائی حساس معاملہ ہوتا ہے ۔ محترمہ خاتون اول نے ہسپتال کے عملے کو منشیات کے عادی افراد کی بحالی کی طرف خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے ،ہسپتال میں شجر کاری مہم کے سلسلے میں ایک پودا بھی لگایا ۔ ان کے دورے کے دوران لگایا جانے والا اصل پودا ذہنی مریضوں کے ساتھ احسان کے رویے کی تلقین اور اخلاص فی العمل کی تعلیم ہے ۔ اسی ضمن میں حکومت کو جس معاملے کی طرف فوری توجہ دینے اور ایکشن لینے کی ضرورت ہے ،وہ ذہنی صحت اور نشے سے بحالی کے پرائیویٹ ادارے ہیں ۔ ایسے ادارے چپکے سے اور بغیر کسی واضح شناخت کے کرائے کے مکانوں اور عمارتوں میں قائم ہیں ۔ ان میں عمومی طور پر نہ تو ماہر ڈاکٹرز ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کام کے لیے خاص طور پر تربیت یافتہ عملہ ۔ یہاں ذہنی طور پر علاج کے مستحق شہریوں اور ان کے لواحقین کا بدترین استحصال کیا جاتا ہے ۔ ایک عام رائے یہ ہے کہ جس طرح جیل جا کر ملزم تربیت یافتہ مجرم بن جاتا ہے اسی طرح ان نجی اداروں میں مریضوں کے امراض کو دوچند کر دیا جاتا ہے ۔ اس طرح کے عوارض کا شکار لوگ ایک مہذب ریاست کی پہلی ترجیح ہونے چاہئیے ۔ محترمہ خاتون اول نے اس اہم اور حساس ترین مسلے کی طرف توجہ دے کر اسے نظر اندازی کے اندھیرے سے نکال کر ;200;گہی کے اجالے میں لانے کی ایک کامیاب کوشش کی ہے ۔ منشیات کے عادی افراد معاشرتی ذہن پر بوجھ بن کر سوار ہو جاتے ہیں ۔ ان کا علاج اور بحالی ہی واحد راستہ ہے ۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ذہنی طور پر قابل علاج لوگ معاشرے اور یہاں تک کے ملک کو بھی پریشان کر سکتے ہیں ۔ پاکستان کے ایک گورنر جنرل غلام محمد نام کے گزرے ہیں ۔ بیوروکریٹ تھے، پہنچ گئیے ارفع مقام تک ۔ اب عمر ان کی بہت زیادہ ہو چکی تھی ۔ چیخ کر بولتے تھے، مرغوب گالیوں کا ایک طوفان تھا ان کے پاس ، عجیب و غریب قسم کی ناقابل بیان تفریحات کو بہ چشم خود قریب کے مشاہدہ کرنے کے شوقین تھے ۔ قیاس چاہتا ہے کہ انہوں نے مرزا غالب کا ;200;نکھوں میں تو دم ہے والا شعر پڑھ کر گرہ میں باندھ رکھا تھا ۔ ان کی گرہ میں بس شائد یہی کچھ تھا ۔ موصوف نے ملک کی توقیر کو کافی نقصان پہنچایا ۔ اسی طرح ایک وزیراعظم ہوا کرتے تھے ، کراچی متحدہ پاکستان کا دارالحکومت تھا،انہوں نے اپنے اسٹاف سے کہہ رکھا تھا کہ جن کاغذات پر میں رات نو بجے کے بعد دستخط کروں ، ان کی تعمیل نہ کی جائے ۔ وجہ یہ بتا رکھی تھی موصوف نے کہ کراچی کے سیٹھ اپنے ہاں دعوتوں میں بلا کر مفت کی شراب پلا کر مجھ سے کاغذات پر دستخط کرا لیتے ہیں اور میں بھی مروت میں کر دیتا ہوں ۔ اگر اس وزیراعظم کا بروقت علاج کرا لیا جاتا اور مفت کے نشے کی لت چھڑا لی جاتی تو وزیراعظم کے اسٹاف کو ہر دستخط کے ساتھ لکھی تاریخ اور وقت کو محدب عدسوں کی مدد سے پڑھنا نہ پڑتا ۔ اسی ملک میں بعض اہلکاروں کو خرابی ذہن و دہن کی بنا پر وہم ہو گیا کہ وہ اس قوم کےلئے اوتار کا درجہ رکھتے ہیں ۔ اس طرح کے افسوس ناک اتفاقات سے قوم کو ہمیشہ کے لیے محفوظ رکھنے کےلئے نہ صرف ہر طرح کے ذہنی امراض کا بروقت علاج یقینی بنانا ہو گا ۔ بلکہ نشے کے پھیلتے رجحان کا تدارک کرتے ہوئے نشیءوں کے محتاط مگر مسلسل علاج کی ذمہ داری ریاست کو اپنے ذمے لینی ہو گی ۔ یقینا یہ ایک مہنگا علاج ہوتا ہے لیکن امید کی جانی چاہیئے کہ محترمہ خاتون اول ملک کو دماغی امراض اور ڈرگز کے عادی افراد سے پاک کرنے میں اپنا مصلحانہ کردار ضرور ادا کریں گی ۔ اگر محترمہ خاتون اول کی توجہ اور دلچسپی برقرار رہی تو قوی امید ہے کہ ہم ذہنی مریضوں کی صحت اور منشیات کے عادی افراد کی بحالی میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکیں ۔ اسی طرح ہم منشیات اور ذہنی امراض سے پاک پاکستان کے خواب کو حقیقت کا روپ دے سکیں گے ۔