- الإعلانات -

پاک افغان مذاکرات،خطے کے لئے اہم پیش رفت

بلاشبہ ایک پرامن اور مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ عالمی برادری افغانستان کی معاشی و انسانی معاونت کیلئے ;200;گے بڑھے ۔ پاکستان، افغانستان میں پنپتے ہوئے انسانی المیے کے پیش نظر افغانوں کو ہوائی اور زمینی راستوں سے امدادی سامان کی فراہمی جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اب وزیراعظم عمران خان کی جانب سے افغانستان میں جامع حکومت کے لئے مذاکرات ایک اہم پیشرفت ہے پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں قیام امن پرزوردیاہے اس حوالے سے پاکستان نے بہت اہم کرداربھی ادا کیا، پاکستان کی ہی کاوشوں کی وجہ سے افغان طالبان کو مذاکرات کی میزپرلایاگیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انہوں نے افغانستان میں جامع حکومت کے قیام کیلئے تاجک ، ہزارہ اور ازبک قوموں کو شامل کرنے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کیا ہے ۔ ایک ٹویٹ میں انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ دو شنبے میں افغانستان کے ہمسایہ ممالک کے سربراہان خصوصا تاجکستان کے صدر امام علی رحمان کے ساتھ ایک طویل ملاقات کے بعد کیاگیا ۔ چالیس سالہ تنازعے کے بعد جامع حکومت کے قیام سے افغانستان میں امن واستحکام یقینی بنایا جاسکے گا جو کہ نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔ ادھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کا کہنا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کا اعلان بہت تاریخی ہے، افغانستان میں روس کے انخلا کے بعد اختلاف اور لڑائیاں ہوئیں ، تاجک صدر کا پوری دنیا کے تاجک بہت احترام کرتے ہیں ، کوشش کی جائے گی تاجکوں کو مخلوط حکومت میں شامل کیا جائے، اس وقت سب سے بڑا مسئلہ افغانستان ہے، پوری دنیا اس وقت افغانستان کی طرف دیکھ رہی ہے، وسطی ایشیا سے ٹرین سروس شروع کر سکیں تو اقدام گیم چینجر ہو گا ۔ علاوہ ازیں وزیراعظم عمران خان نے ملکی ہوائی اڈوں پر بڑھتے وی آئی پی پروٹوکول پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ادھرچین نے عالمی برادری سے افغانستان کی تعمیرنو کے حوالے سے اپیل کر کے دنیا کو امن کا نسخہ فراہم کر دیا ہے ۔ اس وقت افغانستان کی تعمیرو ترقی کو نظرانداز کیا گیا تو چھوٹے مسائل بڑے مسائل میں تبدیل ہو جائیں گے ۔ افغانستان کی تعمیر و ترقی کےلئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں سے چین کا مطالبہ درحقیقت وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ چین افغانستان میں انتقال اقتدار سے پہلے ہی اس تبدیلی کی حمایت اور طالبان کی مدد کے عزم کا اظہار کرتا رہا ہے ۔ ماضی میں بھی امریکہ اپنے مفادات حاصل کرنے کے بعد بھاگ نکلا، افغانستان میں عالمی طاقتیں اپنا کھیل کھیلنے کے بعد ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہیں اور افغانستان کو بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔ اب ایک مرتبہ پھر ویسی ہی صورت حال کا سامنا ہے ۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ناصرف افغانستان سے غائب ہو چکے ہیں بلکہ وہ افغان طالبان کے حوالے سے منفی مہم کا بھی حصہ نظر آتے ہیں ۔ طالبان کی مدد کے بجائے ان کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں بلکہ امریکہ اپنے من پسند ممالک کے ذریعے افغانستان میں عدم استحکام کی سازشوں میں بھی شریک ہے ۔ ان حالات میں چین نے اپنا فرض نبھاتے ہوئے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ان کی ذمہ داری یاد دلانے کی کوشش کی ہے ۔ دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت نے نیا ;200;ئینی ڈھانچہ جاری کر دیا، 40نکاتی اثاثی و قانونی ڈھانچے کے مطابق افغانستان کا سرکاری مذہب اسلام ہو گا ۔ خارجہ پالیسی کا محور اسلامی شریعت پر ہو گا ۔ عوام کو بنیادی انسانی حقوق انصاف یکساں طور پر ملیں گے ۔ تمام پڑوسیوں کے ساتھ پرامن طریقے سے مسائل حل ہوں گے ۔ سرکاری زبان دری اور پشتو ہو گی ۔ اقلیتیں مذہبی عقائد میں ;200;زاد ہوں گی ۔ افغانستان کا کوئی حصہ بھی بیرونی طاقتوں کے تابع نہیں ہوگا ۔ یقیناطالبان اس وقت افغانستان کی سب سے بڑی حقیقت ہیں ۔ افغان امن عمل کیلئے ہمسایہ ممالک میں مشاورت اور مذاکرات کے بہت دور ہو چکے ۔ درحقیقت پر امن افغانستان ہی پرامن خطے اور پرامن دنیا کی ضمانت ہے ۔ افغانستان میں قائم طالبان حکومت کی مدد انسانی بنیادوں پر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر وہاں قائم حکومت کو انسانی ہمدردی کے بجائے دشمنوں کے انداز میں دیکھا گیا تو پھر وہ بھی دشمنی نبھانے کےلئے آخری حد تک مقابلہ کرینگے ان حالات میں اربوں لوگوں کی زندگیاں اور مستقبل خطرے میں ہو گا اور اس کی ساری ذمہ داری امریکہ اور اس کے اتحادیوں پر ہی عائد ہو گی اگر خطے میں امن قائم کرنا ہے تو پھر چین کی طرح حقائق کے مطابق فیصلے کرنا ہوں گے ۔ لہٰذا عالمی برادری کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کے قریبی پڑوسیوں کے ساتھ اتفاق رائے کے ساتھ ;200;گے بڑھے ۔ افغان عوام کے شانہ بہ شانہ کھڑا ہو کر انسانی بحران کو ٹالنے اورمعیشت کو مستحکم کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔

بھارتی مکروہ چہرہ پھربے نقاب

امریکی کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت مائیکرو سوفٹ ونڈوز کی ;200;ڑ میں دونوں ملکوں کی حکومتی اور ٹیلی کام اداروں کی جاسوسی کر رہی ہے ۔ یہ سلسلہ 2020 میں شروع کیا گیا تھا اور اپریل 2021 تک جاری رہا ۔ امریکی میگزین فوریز رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کا یہ اقدام قابل قبول نہیں ہے ۔ ہم بھارتی اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ ;200;یا کمپنی کے کوڈ دیگر ممالک کو تو نہیں لیک کئے گئے ۔ 2 برسوں میں کم از کم 6 مرتبہ ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کیا گیا ۔ رپورٹ میں خیال ظاہر کیا گیا ہے کہ بھارت نے جنوبی کوریا کو بھی کچھ نہ کچھ ہماری ٹیکنالوجی فراہم کی ہو گی ۔ امریکہ جریدہ فوریز میگزین کے مطابق بھارت نے امریکی کمپنی سے ٹیکنالوجی لیکر پاکستان چین کی جاسوسی کی ۔ بھارت نے ایگزوڈس انٹیلی جنس نامی کمپنی سے سافٹ ویئر خریدا تھا ۔ بھارت نے سافٹ ویئر کے ذریعے پاکستان چین کے سرکاری کمپیوٹرز کو نشانہ بنایا ۔ روسی سکیورٹی کمپنی نے چین پاکستان کے خلاف سائبر مہم کی کھوج لگائی ۔ جون 2020 سے اپریل 2021 تک پاکستان کے خلاف سائبر مہم جاری رہی ۔ امریکی کمپنی نے بعد میں بھارت کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر دیا ۔ بھارتی حکومت نے ان کی ٹیکنالوجی کاغلط استعمال کیا اور اس کی ونڈوز کو چین اور پاکستان کیخلاف بطور ہتھیار استعمال کیا ۔ بھارتی سرکاری حکام یا کنٹریکٹر نے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کی ڈیپ اسیس دینے والی فیڈ کو منتخب کرکے اسے بدنیتی پر مبنی طریقے سے استعمال کیا جس پر بھارت کو اپریل میں کمپنی کی نیو زیرو ڈے ریسرچ کی خریداری سے روک دیا گیا ۔ کمپنی کے قابل قدر کوڈ کے دیگر ممالک کو لیک کیے جانے سے متعلق بھی تحقیقات جاری ہیں ۔ ٹیکنالوجی کا بھارت کی جانب سے غلط استعمال قابل قبول رویئے کی حد سے باہر ہے، بھارتی اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہتے ۔ امریکی کمپنی کی رپورٹ میں بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بارپھردنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے ،بھارت نے پاکستان کونقصان پہنچانے کی کوئی کسرنہیں چھوڑی،جب بھی بھارت کوئی سازش کرتاہے وہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو جاتا ہے ۔ بھارت نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کےلئے استعمال کیا ۔

شہریوں کی مشکلات میں اضافہ

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے سے کرایوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ کچھ ٹرانسپورٹرزنے خودساختہ کرایوں میں اضافہ کردیا ہے، من مانے کرائے وصول کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے شہریو ں میں اضطراب پایاجاتاہے ۔ عوام الناس کی طرف سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ پبلک ٹرانسپورٹ والے زائدکرایہ وصول کررہے ہیں ۔ ٹریفک انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ موجودہ کرایوں پرعملدرآمدیقینی بنائیں ۔ گاڑیوں کے کرائے نامے چیک کئے جائیں ۔ یقینا گزشتہ دنوں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیاجس کی وجہ سے ٹرانسپورٹرزنے کرائے بھی بڑھادیئے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے عوام کو جو ریلیف دینے کے وعدے کئے تھے سب دھرے کے دھرے رہ گئے ،روزمرہ کھانے پینے کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے شہری پہلے ہی پریشان تھے اب رہی سہی کسر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے نکال دی ہے ۔ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کر کے عام ;200;دمی کو ریلیف دے ۔ اور وزیراعظم عمران خان کو عوام کے ساتھ کیے ہوئے وعدے بھولنے نہیں چاہئیں ۔