- الإعلانات -

عزیر احمد خان کا تکلف برطرف ویڈیو سیاست ، حقائق سامنے لائے جائیں

اب ایک اور ویڈیو مبینہ طور پر ریلیز کردی گئی جس میں سابق گورنر سندھ محمد زبیر کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ محمد زبیر نے اس حوالے سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیو تبدیل شدہ ہے ، اب یہ واقعہ بالکل میڈم طاہرہ والا ہوا ہے ، سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ اگر ویڈیو تبدیل شدہ ہے تو اصل ویڈیو کونسی ہے ، بین السطور اس تردید میں اقرار بھی ہے ۔ بہر حال یہ ویڈیو کی سیاست پراگندہ سیاست ہے ، اس سے پہلے بھی ایک ویڈیو جاری کی گئی تھی ، ابھی اس کی دھول صحیح طرح بیٹھی ہی نہیں کہ ایک نیا سکینڈل سامنے آگیا ہے جو بھی متعلقہ ادارے ہیں ان کا فرض بنتا ہے کہ اس ویڈیو کا فوراً فرانزک کرائیں اور جو بھی اس میں ذمہ دار ہے اس کیخلاف کارروائی کی جانی چاہیے ، ماضی میں بھی اس طرح کی سیاست ہوتی رہی ہے جس کی تاریخ گواہ ہے ،تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی پراگندہ سیاست کی موجد ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، پہلے ایک صاحب حسین حقانی ن لیگ کے پنجاب میں اطلاعات و نشریات کے مشیر تھے ،انہوںنے بے نظیر کی نازیبا تصاویر ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور میں پھینکی اس کے بعد موصوف پیپلز پارٹی میں چلے گئے ، وہاں جا کر فاروق لغاری کے حوالے سے ایسے ہی نازیبا اقدامات اٹھائے تاریخ کی روگردانی کریں تو حفیظ جالندھری کا یہ شعر یاد آتا ہے
دیکھا جوتیر کھا کہ کمین گاہ کی طرف
تو اپنے ہی دوستوں سے ملاقا ت ہو گئی
یہ اخلاقیات کی ایک انتہائی گری ہوئی حرکت ہے ، اس کے آگے کوئی حد نہیں رہتی ، اگر سیاست کرنا اور اس طرح کے الزامات عائد کرکے کرنا ہے تو اس سے اچھا ہے کہ ایسے سیاستدانوں کیلئے ایسی سیاست کا باب ہی بند کردینا چاہیے اور اس کی تحقیقات ماضی سے کرنا چاہیے کہ اگر ماضی میں بھی کوئی سیاستدان ایسے معاملات میں ملوث رہے ہیں تو ان کیخلاف بھی تحقیقات کی جائیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسے سکینڈل بالکل بنتے ہیں ، بین الاقوامی سطح بھی ہوتے ہیں ، سابق امریکی بل کلنٹن اور مونیکا کا سکنیڈل سامنے آیا اس پر کافی لے دے ہوئی ، تحقیقات ہوئیں لیکن ہمارے ملک میں کیا ہوتا ہے ، کوئی کیس یا سکینڈل پکڑا گیا اس کی تفتیش شروع ہوتی ہے ، مقدمہ درج ہوتا ہے ، عدالتوں میں جاتا ہے اور طویل عرصے تک کیس چلتا رہتا ہے ، بھلے اس دوران متعلقہ فریقین میں سے کوئی دنیا ہی سے چلتا بنے ۔ اس وقت سوشل میڈیا پر ایک اور ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے جس میں افغانستان میں طالبان ایک جگہ چھاپہ مارتے ہیں ، وہاں پر جوا ہورہا ہے وہ ملزمان کو پکڑتے ہیں ،چونکہ وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں اس لئے موقع ہی پر سزا دیتے ہیں ، نہ تفتیش ، نہ تحقیق ، نہ فیصلہ جب خود آنکھوں سے دیکھ لیا تو پھر یہ ساری اقدامات بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں ، اس جوئے کے اڈے سے پکڑے جانیوالوں نے معافی مانگی ، توبہ کی پھر ان کی جان چھٹی ، اس طرح طالبان نے اغواکاروں کو گرفتار کیا ، انہیں پھانسی دی اور ان کی لاشیں چوکوں پر لٹکادی ، ہم یہاں یہ نہیں کہتے کہ پاکستان میں اس طرح سزا ئیں دی جائیں جب بھی یہاں سر عام سزا کی بات ہوتی ہے تو حتیٰ کہ حکومت تک تقسیم نظر آتی ہے ، قارئین کرام آپ کو اچھی طرح یا د ہوگا ،مرحوم ضیاء الحق کے دور حکومت میں لاہور میں ایک زیادتی کا کیس ہوا ، اس میں ایک بچہ پپو نامی قتل ہوا ، اس میں ملوث تین ملزمان کو سرعام پھانسی دی گئی انہیں دیدہ عبرت نگاہ بنایا گیا ، اس علاقے میں کتنے عرصے تک لڑائی جھگڑے کا مقدمہ بھی درج نہیں ہوایہ ہے سرعام سزادینے کے نتائج ، اب بات ہم اپنے نظام کی کرتے ہیں ،ہمارا قانون کیا کہتا ہے ، یوں تو ہمارا ملک ایک نظریاتی ملک ہے ، یہاں پر اسلامی قوانین نافذ ہونے چاہیے لیکن ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا ، ہاں البتہ ایک چیز ضرور ہوسکتی مقدمات کے فیصلے ایک ٹائم فریم کے تحت دیے جائیںاور جو بھی مجرم ہو اس کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے ، یہاں تو ایک عجیب و غریب نظام ہے ایک طویل عمر کا حصہ جیل میں کاٹنے کے بعد با عزت بری کردیا جاتا ہے وہ جو ملزم کے سال جیل میں ضائع ہوئے اس کا کوئی جواب دہ نہیں پھر یہ بھی حدود قیوم قائم کرنا چاہیئں کہ سیاست کرنے کی ایک حد ہے ،ذاتیات پر آکر سیاست نہیں کرنی چاہیے اور اگر کوئی سیاستدان ایسے گھناؤنے الزامات میں ملوث پایا جائے تو اُس پر اور اُس کی آنیوالی پانچ نسلوں پر بھی سیاست کو بین کردیا جائے پھر آپ دیکھیں گے کہ ایسی گھٹیا سیاست اپنی موت آپ مر جائیگی ۔ کسی کی جرات نہیں ہوگی کہ وہ بغیر تصدیق، تحقیق کے کوئی ایسا اقدام اٹھائے کیونکہ اس کو معلوم ہوگا کہ سب سے پہلے اس کی گردن زنی ہوگی۔لہٰذا وہ ایسا قدم ہی نہیں اٹھائے گا اس کیلئے حکومت کو سخت گھونٹ بھرنا پڑے گا، ہمیں یہ بھی اچھی طرح یاد ہے کہ سابق صدر مشرف نے بڑا احسن فیصلہ کیا تھا جس میں اس نے کم از کم تعلیمی کا معیار گریجویشن رکھی تھی لیکن چونکہ ہمارے یہاں ایک نظام ہی نہیں ہے ، تقسیم شدہ نظام ہے وہ جاگیر دار ، چوہدری ، وڈیرے اور با اثر لوگ جن کے پاس تعلیم نہیں تھی اور وہ اپنی دولت اور دیگر ساکھ کی وجہ سے ایوانوں میں بیٹھے تھے ، نسل درنسل وہ وزراء ، ایم این اے اور ایم پی اے بنتے رہے ، انہوں نے اس نظام کو متحد ہوکر فلاپ کرایا ۔ بس یہی سے خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ، آج ہی پارلیمنٹ کی حالت دیکھ لے ، وہاں قانون سازی نام کی کوئی چیز تو ہوتی ہی نہیں ، بس ہنگامی ، واک آوٹ ، ہلڑ بازی ، سپیکر ،چیئر مین کے ڈائس کا گھیراؤ باقی ملک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے رواں دواں پھر آپ ا س ملک میں کیونکہ وہاں صاف ستھری سیاست سوچ سکتے ہیں ، ابھی تو یہ ویڈیو کی سیاست ہے ، اس کے بعد اور بھی بہت کچھ سامنے آجائیگا، شاید اس پر قلم اٹھانا بھی محال ہو۔