- الإعلانات -

امریکہ کی نئی چال، کھسیانی بلی کھمبا نوچنے کے مترادف

جب بلی کھسیانی ہو کر کھمبا نوچے تو وہ اتنی باولی ہو جاتی ہے کہ اس کو یہ احساس ہی نہیں رہتا کہ کھمبے کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ، اس کے اپنے پنچوں کے ناخن زخمی ہو رہے ہیں، لیکن چونکہ اس کا ذہنی توازن اس قابل ہی نہیں رہتا ، اس کو اپنی شکست کا اتنا دکھ ہوتا ہے کہ وہ اپناہوش و حواس ہی کھو بیٹھتی ہے ، کیونکہ اس کو تو زوم ہوتا ہے کہ وہ ہر صورت کھمبے پر چڑھ جائے گی ، اس وقت ایسی ہی صورتحال سے امریکہ دو چار ہے، افغانستان میں ہزیمت کے بعد وہ اپنا بدلہ خوامخواہ پاکستان سے لینا چاہتا ہے،وہ اس لئے کہ وزیر اعظم عمران خان نے امریکہ کو دو ٹوک انداز میں بتا دیا کہ افغانستان میں شکست کا ملبہ پاکستا ن پر ڈالنا مناسب نہیں، پھر جب امریکیوں نے اڈے مانگے تو بھی” ایبسلوٹلی ناٹ ”کا جواب ملا ، وہ اس کی توقع نہیں کر رہا تھا ، اب زخمی گیدڑ کی طرح وہ مچل رہا ہے ، امریکی سینیٹ یہ بل پاس کرنے جا رہا ہے کہ 2010سے لیکر 2021تک تحقیقات کی جائیں کہ پاکستان نے طالبان کی کتنی مدد کی ، طالبان کہاں کہاں رہے، ان کے کیا کیا رابطے تھے ، وہ یہ مسئلہ کررہاہے جیسے ایک شیر نہر سے پانی پی رہا تھا اس کے آگے بکری کا بچہ تھا وہ اس کو کھانا چاہتا تھا ، اس نے کہا کہ تمہارے پانی پینے کی وجہ سے پانی میں ساری مٹی آرہی ہے، حالانکہ جس سمت سے پانی آرہا تھا پہلے شیر تھا بعد میں بکری کا بچہ ، بکری کے بچے نے کہا کہ آپ پہلے پانی پی رہے ہیں ، میں بعد میں ہوں، میری طرف سے کیسے پانی میں مٹی کیسے آسکتی ہے ، شیر نے کہا تمہارے باپ نے پانی میں مٹی ملائی ، تمہارے داد نے مٹی ملائی ، غرض یہ کہ شیر نے بکری کے بچے کو کھانا تھا لیکن یہاں صورتحال مختلف ہے، اب جو جنگ شروع ہونے جا رہی ہے ، وہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان ہو گی ، پاکستان بکری کا بچہ نہیں، اور امریکہ شیر نہیں، پاکستان امریکہ کے گلے کی ہڈی بنے گا، یوں بھی اب امریکہ سپر پاور نہیں رہا ، پاکستان ،چین، افغانستان ، ایران اور روس ایک علیحدہ بلاک بننے جا رہا ہے، لہذا یہ تو امریکہ کی خام خیالی ہو اس کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے ، جس جرات سے عمران خان نے بات کی ہے وہ اس جرات سے سامنا کرنا بھی جانتا ہے، امریکہ پاکستان کی جانب سے ٹف ٹائم ملے گا، چاہے وہ بل پاس کرے ، چاہے پابندیاں لگائے، چاہے دبائو ڈالے، چاہے قرضے نہ دے، یہ طے ہے کہ امریکہ کی ذلالت کے دن اب افغانستان اور پاکستان کے ہاتھوں ہی پورے ہونگے ، اس کا حواری بھارت بھی ڈوب رہا ہے ، اس وجہ سے وہ بھی دائیں بائیں پنچے مار رہا ہے ، افغانستان میں اپنے مذموم عزائم کی تکمیل میں ناکامی کے بعد بھارت اب خطے میں اپنے ادنی جیوپولیٹیکل مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی توجہ چہارفریقی سیکورٹی ڈائیلاگ(کواڈ) جیسے دیگر اتحادوں کی طرف مبذول کر رہا ہے۔بھارت کا افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کا شرانگیز کھیل طالبان کے کنٹرول کے بعد چکنا چور ہوگیا جبکہ بین الاقوامی برادری میں خود ساختہ علاقائی لیڈر بننے میں بھی اسے ناکامی ہوئی ہے،انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں سے مکمل طور پر داغدار مودی حکومت کی مایوسی عیاں ہے اور اب وہ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات کے درمیان بین الاقوامی میدان میں اپنی حکمت عملی تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔سابق افغان فوج کو تربیت دی گئی اور اسے بھارتی خفیہ ایجنسی” را” کی معاونت حاصل تھی جنہوں نے سابق افغان انٹیلی جنس آپریٹرز اور افغانستان میں طالبان مخالف عناصر کو تربیت فراہم کی۔اس قسم کا گھناونا گٹھ جوڑ پاکستان اور افغانستان میں مختلف قسم کی دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہا اور اس کا الزام طالبان پر لگاتا رہا،کواڈریلیٹرل سکیورٹی ڈائیلاگ (کیو ایس ڈی)جسے کواڈ اتحاد بھی کہا جاتا ہے ، ایک سیکیورٹی ڈائیلاگ تھا جو 2007 کے دوران جاپانی وزیر اعظم شنزو آبے نے امریکہ ، آسٹریلیا اور بھارت کی حمایت سے شروع کیا تھا،مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت ایشیا بحرالکاہل میں چینی اثر و رسوخ کے توڑ کے لیے اپنے مخفی ایجنڈے کے تحت اس اتحاد پرایک پلیٹ فارم کے طور پر نظریں ڈال رہی ہے،انڈو پیسفک خطہ جو دو سمندروں اور مختلف براعظموں کو آپس میں جوڑتا ہے ، بہت اہم ہے،اس کے بارے میں دنیا کی برآمدات کا تقریباً 42 فیصد اور عالمی درآمدات کا 38 فیصد اس خطے کو عبور کرے گا،چین کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹجک شراکت داری سے پریشان ہوکر اور ایشیاء میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت دیگر اتحادوں پر انحصار کر رہاہے،وہ چین کی قیادت میں روڈ اینڈ بیلٹ انیشی ایٹو (بی آر آئی) میں رکاوٹیں پیدا کرنے اور علاقائی روابط اور تجارت میں رکاوٹ ڈالنے کے لئے بھی کوشاں ہے،بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا تھا تاکہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبے کو نشانہ بنایا جا سکے تاہم اسے اپنے مقاصد میں کامیابی نہیں ملی، اب یہ دونوں شکست خوردہ اتحادی امریکہ اور بھارت کے مقد ر میں بھی شکست ذلالت لکھی جا چکی ہے ، یو ایس ایس آر کی طرح امریکہ تقسیم ہو گا اور پھر امریکہ طرح بھارت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر جائے گا۔