- الإعلانات -

عزیر احمد خان کا تکلف برطرف کتاب دوستی کا جنازہ نکال دیا گیا

بڑے بزرگوں کا قول ہے کہ کتاب سے دوستی قوموں کی ترقی کا باعث بنتی ہے اور کتاب سے دوری زوال کا سبب ہوتی ہے ، جن قوموں نے کتاب سے دوستی کی آج دیکھ لیں وہ جدید علوم میں کہا ں تک پہنچی ہوئی ہے ، ترقی ان کے قد م چھومنے پر نازاں ہے اور جنہوں نے کتاب سے دوری اختیار کی ان کا جہلا میں شما ر ہوتا ہے ۔ بات یہ ہے کہ حکومت نے سکولوں کی لائبریریوں میں صرف ان کتابوں کو رکھنے کی اجازت دی ہے جو کہ ٹیکسٹ بورڈ کی ہیں ۔ دیگر کتابیں رکھنے پر متعلقہ اداروں کو جرمانے بھی ہوتے ہیں ، سرزنش بھی ہوتی ہے ، قانونی کارروائی بھی ہوتی ہے ، اب اس کے نتائج کیا نکل رہے ہیں وہ یہ ہے کہ علم سے دوری پیدا ہورہی ہے ، پوری دنیا اس وقت ایک گلوبل ویلج کی حیثیت رکھتی ہے ، اگر ہم بچوں کو کورس کے کتابوں کے ساتھ ساتھ دیگر کتب پڑھنے نہیں دینگے تو ان کا انسائیکلو پیڈیا کہاں پر جائے گا۔ وہ ہر چیز سے نا بلد رہیں گے ، ایک کوہلو کے بیل کی طرح رہٹ کے ارد گرد پھرتے رہیں گے ، ان کے آنکھوں پر پٹی بندھی ہوگی دیکھنا بھی چاہیں تو محدود جگہ تک ان کی نظر جاسکے گی یعنی کہ اگر کہا جائے تو ان کی زندگی ایک کنویں کی مینڈک کی طرح ہوگی ، مینڈک اس کنویں کو ہی کل جہان سمجھتا ہے کیونکہ باہر کی دنیا تو اس نے دیکھی ہی نہیں ہوتی ، اب یہی حال اس وقت پنجاب حکومت کا ہے ، وہ بچوں کو کنویں کا مینڈک بنانا چاہتی ہے ، حالت یہ ہے کہ آج تک کلاسوں کا کورس ہی نہیں پورا ہواپھر آپ خود سوچ لے ہم تعلیم کس معیار کے دے رہے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ایک مسئلہ اور بھی ہے وہ یہ کہ جو بھی کتابیں ضائع ہوں گی جن کا تعلق ٹیکسٹ بک بورڈ سے نہیں ہوگا وہ نقصان بھی کروڑوں اربوں کا ہے مگر ا ب اس بات کو کون سمجھے اور کس کو سمجھائے یہاں تو اسی شاخ کو کاٹا جارہا ہے جس شاخ پر خود بیٹھے ہیں ۔ نقار خانے میں طوطی کی آواز کے مصداق کوئی بات سننے کو تیار ہی نہیں ۔ ہر ایک اپنے اندر عقل کل بنا بیٹھا ہے ، نظام تباہ ہو ،تعلیم تباہ ہو ، بے روزگاری ہو ، مہنگائی ہو ، پیٹرول ، گیس ،بجلی مہنگی ہو ، اشیاے خوردنوش کی قیمتیں آسمان سے بات کریں ، عجیب و غریب منطق دی جاتی ہے کبھی کہا جاتا ہے کہ نونوالے کھانے کے بجائے چار کھالے ، کبھی کہا جاتا ہے دیگر اشیاء سستی ہورہی ہے جو پیٹرولیم منصوعات مہنگی ہے ان سے ریلیف سستی ہونے والی اشیاء کے ذریعے ملے گامگر یہ ساری باتیں دلی دور است کے مترادف ہے ، نظام اوتھل ،پھتل ہوجائے ، تعلیم کا حصول عنقاء ہوجائے ، کتب نایاب ہوجائے ، لائبریریاں بے آباد ہوجائے ، کسی کو اس سے سروکار ہی نہیں ، ان کا مقصد تو صرف اقتدار میں رہنا ہے ، ملک ڈوبے یا رہے ، قو م خوار ہو یا بھوکی مرے ، بے روزگاری ہو یا عوام کی زندگی پسماندگی کا شکار ہو ، بنیادی حقوق سلب ہوں یا حقدار کا حق مارا جائے ۔ ملک تباہ حال ہو ،کرپشن ہو ، جموریت تباہی کے دہانے پر پہنچی ہو ، اداروں کی آزاد سلب ہو ، انہیں ان میں سے کسی ایک چیز سے بھی سروکار نہیں ۔ ہاں البتہ عنان اقتدار پر ایک چھینٹ پڑجائے تو آگ لگ جاتی ہے ، زبانیں تلوار بے نیام کی طرح چلتا شروع کردیتی ہے ، ایک دوسرے پر سیاسی رقیق حملے کئے جاتے ہیں صرف اس وجہ سے کہ ان کے ذاتی مفادات کو تحفظ ملے ، ملک و قوم کے مفادات کو کوئی مدنظر رکھنا ہی نہیں چاہتا ، کوئی آواز بھی اٹھانا چاہے تو وہ چیخ چیخ کر ،تھک ہار کر اپنا گلہ خشک کرکے ، اپنی صلاحتیں مفقود کرکے ، کہیں ایک کونے میں جا بیٹھتا ہے ، اچھے دنوں کے انتظار میں مگر وہ بے وقوف یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ اس کی بات یہاں کوئی سننے والا نہیں ، ووٹ لیتے وقت بلند وبانگ دعوے کرنیوالے آج وی وی آئی پی بن چکے ہیں ، ووٹر ان کے پاس تک جانے کو ترستا ہے ، ووٹر سے ایسے سلوک کیا جاتا ہے جیسے وہ کوئی دہشتگرد ہے ، اسے اپنے لیڈر تک پہنچنے ہی نہیں دیا جائے ۔ ایسے میں جمہور کدھر جائے ، جمہوریت کیسے پنپے، حقدار کو اس کا حق کیسے ملے ، تعلیمی میدان میں کیونکر ترقی ہو جیسے کہ پنجاب بزدار کے حوالے اور مسائل ہی مسائل ، اسی طرح پنجاب کی تعلیم مرادراس کے حوالے ، نتیجہ بربادی ہی بربادی ، پوچھا تو تب جائے جب وزیر تعلیم کے سر پر کوئی لائق ہستی بیٹھی ہو پھر تو وہ پوچھ گچھ کرسکتی ہے لیکن جب سربراہ نابلد ہو ، ناتجربہ کار ہو ، خداداد صلاحیتوں سے بھی محروم ہو تو پھر نظام تباہی ہی تباہ ہے ، نہ ہی نیا پاکستان بنا ، نہ کرپشن ختم ہوئی ، نہ سیاسی پراگندگی ختم ہوئی ، نہ پارلیمینٹ کا احترام بحال ہوا، نہ قانون سازی ہوئی ، آرڈیننس کی فیکٹری لگ گئی ، ایک دفعہ صرف مخالفت برائے مخالفت پر کیا قومی مفادات کو کہیں کوہ قاف میں لے جاکر چھپا دیا گیا ، پریوں کے انتظار کی طرح اچھے دنوں انتظار کرنا شروع کردیا ، کچھ نہ کرنے کی قسم کھالی ، پھر ایسے میں حالات کیسے درست ہونگے ، عوامی مفادات پر توجہ دیں تاکہ اس ملک وقوم کیلئے کچھ بھلا ہوسکے۔