- الإعلانات -

شب خون

حکومت نے عوام پر شب خون ایسا مارا کہ اس کی نیندیں ہی حرام ہو گئیں، اس کو کیا خبر تھی جب وہ صبح اٹھے گی تو رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کی صورت میں مہنگائی کا خود کش حملہ کر دیا ہو گا، تاریخ کی بلند ترین سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں پہنچ چکی ہیں لیکن پھر کپتان صاحب فرماتے ہیں کہ سب سستی پیٹرول قیمتیں پاکستان میں ہیں، ہم یہ مان لیتے ہیں اور ان سے کوئی اختلاف نہیں مگر معاشی صورتحال میں دیکھیں ، ڈالر کی اڑان دیکھیں، روپے کی بے قدری دیکھیں ، حکومت کے اپنے ہی ادارے ادارہ شماریات نے جو ہفتہ وار رپورٹ جاری کی، اس کے مطابق ملک میں حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 0.67فیصد اضافہ ہوا جس کے بعد مہنگائی کی ہفتہ وارمجموعی شرح 15.21فیصد ہوگئی جبکہ کم آمدن والے افراد کیلئے مہنگائی کی شرح 16.43فیصد پرپہنچ گئی، ایک ہفتے میں 28اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، ٹماٹر اوسط 20روپے 9پیسے فی کلو، چینی اوسط 5 روپے 56پیسے فی کلو مہنگی ہوئی جبکہ ایک ہفتے میں ایل پی جی کا سلنڈر 77روپے 96پیسے مہ۔گا ہوا، ایک ہفتے میں گھی کی فی کلو قیمت 10روپے 21 پیسے بڑھی، انڈے 3روپے 60پیسے فی درجن اور آٹے کا 20کلو کا تھیلا4روپے 71پیسے مہنگا ہوا، ایک ہفتے میں بیف کی قیمت میں اوسط 5روپے34 پیسے کا اضافہ ہوا جبکہ آلو، مٹن، لہسن اورگڑ بھی مہنگا ہوا، ایک ہفتے میں 3اشیا کی قیمتوں میں کمی ہوئی اور 20اشیا کی قیمتوں میں استحکام رہا، اب آپ خود تجزیہ کر لیں ، غریب عوا کدھر جائے گی ، کیا کبھی حکمرانوں نے سوچا کہ ایک مزدور جو صبح گھر سے دیہاڑی کیلئے نکلتا ہے ، وہ شام کو بچوں کیلئے کیا لے کر جائے گا، مدینہ جیسی ریاست بنانے کیلئے حکمرانوں کو بہت زیادہ کشت کاٹنا پڑتا ہے ، صرف کہنے سے یہ کام نہیںہوتا ، اب کپتان کو بھی چاہئے کہ وہ اپنا سفر گاڑیوں سے ترک کے موٹر سائیکل پر شروع کریں، وی آئی پی نظام ختم کرے ، دال سبزی کھائے ، عام عوام کی حالت دیکھے کہ وہ دن میں صرف ایک وقت روٹی کھاتے ہیں، پیٹرول مہنگا، گیس مہنگی ، بجلی مہنگی، دال سبزی مہنگی، ایل پی جی گیس مہنگی، ادویات مہنگی، تعلیم مہنگی، کتب نایاب، صحت کی سہولیات ناپید، عوام بنیادی سہولیات سے محروم، کیا یہ نئے پاکستان کا مسخ شدہ چہرہ ہے ، اسی کیلئے عوام نے کپتان کو ووٹ دیئے تھے، آج شاید ووٹ دینے والے بھی اپنے فیصلے پر پچھتا رہے ہیں، آئی ایم ایف کے پاس جانے کے بجائے خود کشی کا کہنے والے آج کشکول لے کر در بدر پھر رہے ہیں، کبھی سعودی عرب، کبھی آئی ایم ایف، کبھی ایشیائی ترقیاتی بینک، یہ سب کچھ کیا ہے ، اس دہرے معیار کا کون ذمہ دار ہے ، تین سالوں میں صرف کھویا ی کھویا ہے ، کچھ حاصل نہیں، کرپشن ذرا برابر ختم نہیںِ اس کے ریٹ اور بڑھ گئے ، چیزوں کا سستا ہونا ایک خواب ہی بن کر رہ گیا، پی ٹی آئی نے آکر عوام کی زندگیوں میں ایسا جھرلو پھیرا ہے کہ سب کے چودہ طبق روشن ہو گئے ہیں،پھر یہ کہا جائے کہ مہنگائی نہیں ہے، وزراء عوام کے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں، اپوزیشن بھی بے حس ہو چکی ہے ،وہ نااتفاقوں کو ٹبر ہے، جو صرف بیان بازی تک کام کرتے ہیںِ، عوام بھوکوں مرے، کسی کو اس سے کیا سروکار ہر ایک اقتدار کے لالچ میں اپنی تگ و دو کررہا ہے ، پیٹرول مہنگا ہو گیا، بجلی مہنگی ہوگئی، کون کون سا ایشو ہے جو اپوزیشن کے ہاتھ نہیں آیا لیکن ایسا لگتا ہے جیسے سب اندرسے ایک ہیں، ہر ایک ایک ہی راگ الاپ رہا ہے کہ اسے خالی خزانہ ملا ، موجودہ حکومت لوٹ مار کررہی ہے، حالات کنٹرول سے باہر ہیںِ ، عوا م کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی ہے ، ہم اقتدار میں ہوتے تو زمین و آسمان کے قلاوے ملا دیتے ، مگر جب اقتدار ملتاہے تو یہ تمام چیزیں ناپید ہو جاتی ہیں، پھر اپنا رونا دھونا اور عوامی حقوق کہیں پس منظر میں چلے جاتے ہیں، حکومت جان لے ، سمجھ لے کہ یہی مہنگائی اس کے تابوت میں آخر کیل ثابت ہوگی، کہا یہ جا رہا ہے کہ پیٹرول کی لیوی پر چھوٹ دی گئی ورنہ یہ 180روپے لیٹر ہوتا ، عوام کو ذہنی طور پر تیار کیاجارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں پیٹرول کی قیمتیںڈھائی سو تک جا سکتی ہیں، عوام کو کس خوب طریقے سے تیل دیا جا رہا ہے ، مگر یہ یاد رکھیں کہ بہت جلد لو گ ووٹ کے تازیانے سے بدلہ لے گی ۔