- الإعلانات -

قائد اعظم نے پاکستان اور عمران خان نے اوورسیز کو ووٹ کا حق دیا

تحریر: ایس کے نیازی

ہماری ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ اپنے قارئین اور ناظرین کو قبل از وقت خبر سے آگاہی دیں، اللہ تعالیٰ کا یہ خاص کرم رہا ہے کہ ہم نے جو بھی خبر دی وہ اللہ کے کرم سے درست ثابت ہوئی گزشتہ دنوں جوپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہوا اس میں حکومت کی فتح ہوئی ، سادہ اکثریت سے بل پاس ہوئے ، اپوزیشن کو شکست ہوئی ، مشترکہ اجلاس سے قبل بڑا شور و غوغا مچا ہوا تھا کہ ای وی ایم کے حوالے سے بل پاس نہیں ہوپائے گا، زیادہ رائے یہی تھی کہ اس میں حکومت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا، لیکن میں واحد شخص تھا جس نے کہا کہ یہ بل بھی پاس ہوگا اور اتحادی بھی ایک پلیٹ فارم پر آ جائیں گے ، پھر پوری دنیا نے دیکھا کہ حکومت کو نہ صرف کامیابی حاصل ہوئی بلکہ اتحادیوں نے بھی اس کا بھرپور ساتھ دیا، یہاں ایک میں منطق کی بات بتانا چاہتا ہوں کہ ای وی ایم کے حوالے سے حکومت کو جو قابل تعریف کامیابی حاصل ہوئی ہے اس کے انتہائی دورس اور مثبت نتائج برآمدہونگے ، کیونکہ اوورسیز کو ووٹ کا حق مل گیا ہے ، اس کے بعد ملک میں ان اوورسیز کی جانب سے ایک بھاری مقدار میں سرمایہ کاری متوقع ہے جب بڑی تعداد میں سرمایہ کاری آئے گی تو پھر ہم آئی ایم ایف کے شکنجے سے بھی نکل جائیں گے اور ان کی شرائط ہمیں ماننے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی، معیشت مضبوط ہوگی تو ملک بھی ترقی کریگا، قائد اعظم محمد علی جناح نے ہمیں پاکستان دیا اور عمران خان نے اوورسیز کو ووٹ کا حق دیا ، یہ کپتان کا وہ تاریخی اقدام ہے جس کو آنیوالے وقت میں مورخ سنہرے حروفوں میں لکھے گا، ایک بات اور کہ ای وی ایم سے الیکشن شفاف ہونگے ، اس میں گڑبڑ کا احتمال نہ ہونے کے برابر ہے ، جب انتخابات ہونگے تو اس وقت یہ مشین حکومتی ہاتھوں میں نہیں بلکہ متعلقہ ادارہ جو الیکشن کروا رہا ہوگا اس کے پاس ہو گی، لہذا یہ کہنا بھی درست نہیں اس مشین کے آپریٹ کرنے میں حکومت کا عمل دخل ہوگا، اس دشت صحافت میں یہ ہی ہمارا خاصہ ہے کہ جب بھی بات کریں ، کوئی خبر دیں تو وہ حقائق پر مبنی اور سچی ہونی چاہیے ، میں نے ہمیشہ سچ بات کی اور اس کے عوض مجھے مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا ، وقت اس چیز کا گواہ ہے کہ میں نے کیا کیا صعوبتیں برداشت کیں، لیکن حق کے لیے ہمیشہ آواز اٹھائی ، میری خبر صرف ایک مشترکہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں پاس ہونیوالے بلوں سے متعلق نہیں یا اتحادیوں کے ایک پلیٹ فارم تک آنے تک محدود نہیں ، ماضی میں بھی میں نے قبل از وقت بے تحاشہ اہم ترین خبریں بریک کیں جووقت کے ساتھ سچ ثابت ہوئیں ،اگر ان سب کا یہاں ذکر کرنا شروع کردوںتو بات بہت طویل ہو جائے گی، اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنے قارئین اور ناظرین کو کس حد تک با خبر رکھتے ہیں ، روزنامہ پاکستان اور روز نیوز کا ہمیشہ سے یہ طرہ امتیاز رہا ہے کہ وہ خبر دینے کے میدان میں سب سے بازی لے گیا، میں حقائق پر مبنی صحافت کا قائل ہوں ، صحافی اور صحافت کا کام تنقید برائے تنقید برائے تعمیر ہوتاہے ، وہ تنقید کرتا بھلا ئی کے لیے ، حکومت کی رہنمائی کے لیے ، اداروں کی بہتری کے لیے ، عوام کی ترقی کے لیے ، بنیادی مسائل کے حل کے لیے ، عام عوام کی آواز حکومت کے ایوانوں تک پہنچانے کے لیے ، جہاں کسی کی شنوائی نہ ہوتی ہو وہاں پر صحافی اور صحافت ہی عوام کی زبان بنتی ہے ، میرے میڈیا ہائوس نے ہمیشہ ہی عوامی مسائل کو اجاگر کیا ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ نا صرف اعلیٰ عدلیہ نے از خود نوٹسز لیے بلکہ حکومت نے بھی ان سے رہنمائی حاصل کی ، اپنے وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار میرے پروگرام میں آئے ، انہوں نے میرے پروگرام کو شرف بخشا اور چار چاند لگائے ، یہ میں ہی واحد تھا کہ جس پروگرام میں حاضر سروس چیف جسٹس تشریف لائے ، پھر اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنت الفردوس میں کروٹ کروٹ جگہ عطا فرمائے ، وہ بھی گاہے بگاہے میرے پروگرام کو رونق بخشتے رہے ، جنرل (ر)اسلم بیگ جو کہ چیف آف آرمی سٹاف تھے وہ میرے پروگرام میں آئے انہوں نے گفتگو کی اور اس کے بعد بھارت کے چھکے چھوٹ گئے ، کیونکہ ہمارے لیے سب سے پہلے ملک اور وطن ہے اس کے بعد پھر اور کوئی چیز ، آج رب جلیل لاکھ لاکھ شکر ہے کہ خبر کے حوالے سے میرے میڈیا ہائوس کا ایک معتبر اور بڑا نام ہے۔