- الإعلانات -

عزیر احمد خان کا تکلف برطرف پی ڈی ایم کا دما دم مست قلندر لے ڈوبے گا

پی ڈی ایم اس وقت مکمل طور پر متحرک ہو چکی ہے جن پارٹیوں کی دوریاں تھی وہ بھی ختم ہو تی جارہی ہیں اور ان دوریوں کو ختم کرنے میں عمران خان کا سنہرا کردار ہے کیونکہ انہوں نے آج تک جو وعدے کیے تھے وہ وفا ہی نہ کیے ، 22سال تک عوام کو طوطے کی طرح سبق پڑھایا کہ کرپشن اس ملک کے لیے ناسور ہے ، منی لانڈرنگ عذاب ہے ، مہنگائی قیامت ہے اور جب ٹیکسوں میں اضافہ ہو جائے تو آپ سمجھ لیں حکمران ۔۔۔ہے ، آج یہ سب کچھ ہو رہا ہے، مہنگائی قابو سے باہر ہے ، بجلی مہنگی ہو رہی ہے ، پٹرول کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں چینی کا واویلا مچا ہوا ہے آٹے کے بحران کی نویدیں سنائی جاتی ہیں ، پٹرول مزید مہنگا ہونے کا کہا جاتا ہے ادویات کی قیمتیں آسمان پر ہیں ، بچے سکول جارہے ہیں مگر کتب نایاب ہیں ، بے روزگاری عروج پر ہے، چھتیں فراہم نہیں کیں ، ملازمتیں دی نہیں گئی، سیاسی انارکی عروج پر ہے، عوام دربدر ہے ، غریب کی شنوائی نہیں ، کرپشن کا کوئی بیان نہیں ، قوم کی لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کا کوئی امکان نہیں ، این آر او دینے ، لینے اور نہ لینے کا شور ہے ، تعمیراتی کاموں کا فقدان ہے ، جدھر دیکھیں ادھر مسائل ہی مسائل ہیں ، کوئی مداوا نہیں ، کوئی مسیحا نہیں ، کوئی شرمندگی نہیں ، سیاست ہے ،ڈھٹائی ہے ، اپنے اپنے مفادات ہیں ،عوام کی خواری ہی خواری ہے ، ایوان میں قانون سازی بھی ہوئی تو ایک سونامی کی طرح تین سال سے آرڈیننسوں کی فیکٹری رواں دواں تھی ، اورکیا بیان کریں ، نان نفقہ ہی مشکل ہو چکا ہے ، عوام کو کوئی ایسا دروازہ نظر نہیں آرہا جس کو کھٹکھٹائے اور اس کو انصاف مل جائے ان حالات کے پیش نظر یہاں اپوزیشن کی بھی کچھ غلطی ہے کیونکہ جیسے ہی دبائو بڑھتا ہے یہ لوگ بکھر جاتے ہیں جمہوریت کا راگ تو الاپا جاتا ہے لیکن جمہور کو اتنا ہی ذلیل و خوار کیا جارہا ہے ، نا معلوم کونسا نیا پاکستان تھا جو کہیں گم ہو کر رہ گیا ہے ، عوام کے حقوق پس پشت اتحادیوں کے مطالبات ترجیحات میں شامل ہو گئے ہیں ، کیونکہ اگر اتحادی راضی نہ ہوئے تو تخت حکمرانی ڈانوا ڈول ہے، عوام جائے بھاڑ میں ، اس کی کون سنتا ہے جب الیکشن قریب آئیں گے تو پھر سارے سیاسی اپنی اپنی جھولیاں پھیلائے عوام کے در پر پہنچ جائیں گے ، مگر اس مرتبہ عوام بہت با شعور ہو چکی ہے ، حکمران ہو یا اپوزیشن سب کے چہرے عیاں ہیں ، آج یہ بات بلکل واضع ہو چکی ہے کہ سیاستدانوں کی منزل اقتدار کا حصول ہے نا کہ عوامی مسائل حل کرنا یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اگر کوئی شخص آج سبزی خریدے تو وہ 150روپے کلو سے کم نہیں ہے ، اب جو وزیراعظم نے پٹرول مہنگا کرنے کا مثردہ سنایا ہے اس کے بعد حالات کیا تقاضہ کریں گے جب یہ پٹرول 200روپے لیٹر تک پہنچ جائیں گے ، جب یہ کہا جاتا ہے کہ خطے میں پٹرول سب سے سستا پاکستان میں ہے مگر کیا کبھی حکمرانوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری کرنسی کی کیسے لٹ مچی ہوئی ہے مہنگائی کنٹرول کرنا اس حکومت کے بس کی بات نہیں ،بس یوٹرن لے لینا اور اگلی خوشخبر سنا دینا یہی ان کی منزل ہے تعمیراتی کام ہوں یا نہ ہوں لیکن خیالی پلائو خوب پکائے جاتے ہیں ، 3سال کی کارکردگی دیکھیں تو پچھے حیف ہی حیف ہے ، کیا کھویا کیا پایا یہ تو حکومت خود ہی فیصلہ کر لے ، سیاستدان ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف ہیں ، اگر یہ حالات نہ ہوتے تو آج عوام اتنی کسمپرسی کی زندگی نہ گزار رہی ہوتی ، بہرحال بات ہورہی تھی ، پی ڈی ایم کے پلان 2کی ہو رہی تھی تو اس مرتبہ اگر یہ اسلام آباد میں پہنچ جاتے ہیں مستقل مزاجی سے یہ احتجاج کرتے ہیں تو پھر نتائج کچھ اور ہی برآمد ہو نگے ، سکھ کی بانسری بجانے والوں کی نیندیں حرام ہو جائیں گی ، لہذا اگر حکمرانی کو طوالت دینا مقصود ہے تو پھر عوام کو ان کے بنیادی حقوق دینے ہونگے ، مہنگائی کو کنٹرول کرنا ہوگا، علاج اور ادویات سستی کرنی ہونگی، پٹرول کی قیمت بریک لگانی ہوگی، بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں پر جمود طاری کرنا ہوگا ، معشیت مضبوط کرنا ہو گی، مقامی پیداوار میں اضافہ کرنا ہوگا ، زراعت پر توجہ دینا ہوگی، تعلیم کے لیے سہولیات فراہم کرنا ہونگی۔پھر حالات بہتر ہونگے پی ڈی ایم کا دمہ دم مست قلندر لے ڈوبے گا ۔