- الإعلانات -

نادرا کا کردار اور معاشرتی اصلاح

میں ترکی میں مارشل لاءکی کوشش اور مغرب سمیت امریکہ کے کردار پر کالم لکھنا چاہتا تھا کیونکہ پہلے ہی کچھ مصروفیت کی خاطر میں کچھ لکھنے سے قاصر رہا اور اس معاملے میں کچھ کرداروں کو زیر بحث لانے میں دیر کی حالانکہ کچھ دوستوں نے ترکی میں مارشل لاءکی کوشش پر نہ لکھنے کی شکایت بھی کی اور کچھ نے لکھنے کا اسرار بھی کیا۔ابھی ترکی پر لکھنے کی تیاری ہی کی تھی کہ روزنامہ پاکستان کے دفتر میں ایک شخص خبر لگوانے آیا(اخبار کے دفاتر میں یہ معمول کی بات ہے) نائب قاصد نے مجھے تحریر شدہ خبر دی۔خبر کو شائع کرنے سے پہلے میں نے اس کو پڑھا اور ششدررہ گیاجس کے بعد میں نے اس شخص کو آفس میں بلوا لیا اور خبر پر کچھ ضروری معلومات لیں۔قارئین کرام آپ یقین مانیں کہ مجھے خبر پڑھ کر اور اس حاجت مند سے بات کر کے بہت دکھ ہوا یہی وجہ ہے کہ میں نے ترکی پر کالم لکھنے کے بجائے نادرا عملے کی مبینہ غفلت کے باعث پیدا شدہ مسائل پر کالم لکھنے کا فیصلہ کیا ۔گل رازق ولد خان رازق ضلع چارسدہ تحصیل شبقدر گاﺅں ترخہ کا رہائشی ہے۔اس کا شناختی کارڈ ایکسپائر ہو گیا جب وہ نادرا کے آفس میں گیا تو پتا چلا کہ وہ تو افغانی ہے اس لئے اس کا شناختی کارڈ نہیں بن سکتا۔بہت ہاتھ پاﺅں مارے لیکن کچھ نہ بنا بالا خر وہ پشاور میں محتسب دفتر گیا اور شکایت درج کرائی جس پر محتسب نے نادرا کی جانب سے معاملے کی چھان بین کی یقین دہانی پر فیصلہ سنا کر شکایت نپٹا دی۔فیصلے کے مطابق ایک ماہ کے اندر گل رازق کونادرا کے بورڈ کے سامنے پیش ہونا تھا۔گل رازق کے مطابق وہ نادرا کے دفتر چکر لگا لگا کر تھک گیا ہے نادرا کا عملہ رشوت طلب کرتا ہے جو کہ میں نہیں دے سکتایہی وجہ ہے کہ ابھی تک نادرا نے مجھے افغانی ہی بنا کر رکھا ہوا ہے جو کہ میرے ساتھ ظلم ہے۔گل رازق کا کہنا تھا کہ محض نادرا کی غفلت کے باعث میں اب پاکستانی نہیں رہا مجھے اپنے گھرانے کا مستقبل سوچ کر نیند نہیں آتی۔ میں نے گل رازق سے کہا کہ آپ عدالت جائیں وہاں اپ کی داد رسی ضرور ہو گی تو گل رازق کا کہنا تھا کہ عدالت میں جانے کیلئے وکیل فیس مانگتا ہے میں اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی کھلاﺅں یا 5000روپے وکیل کو دوں۔یہ بات سن کر میرا دل بیٹھ گیا۔گل رازق کے جذبات ایسے تھے کہ نظر انداز نہیں کیے جا سکتے تھے۔میں نے گل رازق کو کہا کہ آپ وزیر داخلہ کو درخواست دیں وہ ضرور آپ کی شکایت کو دور کریں گے تو گل رازق نے جواب دیا کہ وہاں بھی درخواست بھیجی ہے لیکن کوئی جواب نہیں آیا۔ویسے تو گل رازق کے معاملے پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں لیکن فقط اتنا کہنا لازمی ہے کہ سرکاری ملازمین کو کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہئے جس سے متاثرہ شخص اس نظام سے متنفرہو۔اگر گل رازق کے معاملے پر نادرا عملہ درست بھی ہو تو گل رازق سے رشوت کی باتیں کیوں کی جاتی ہیں۔کیا نادرا کے اس رویے کا اثر گل رازق کے خاندان پر نہیں پڑے گا۔جب تک ہم بحثیت قوم اس ملک کو آگے نہیں لے کر جائیں گے تب تک یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا۔اس ملک کی ترقی کیلئے سب کو کردار ادا کرنا ہو گااور یہ کردار تبھی ادا کیا جا سکتا ہے جب تک ہم قانون کے مطابق اپنے فرائض سر انجام نہیں دے دیتے۔نادرا کو چاہئے کہ گل رازق کو حقائق بتائے اور اگر وہ افغانی ہے تو افغانی کارڈ بنایا جائے۔گل رازق کو آخر کس کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔جس شخص کی شناخت کو ختم کر دیا جائے وہ زندہ رہ کر بھی زندہ نہیں ہوتا۔اگر گل رازق کے معاملے پر نادرا نے کہیں غفلت برتی ہے تو وفاقی وزیر داخلہ کو چاہئے کہ وہ گل رازق سے رشوت طلب کرنے والے اور غفلت کے مرتکب افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں تاکہ آپریشن ضرب عضب کے ممکنہ نتائج کو کوئی بھی متاثر نہ کر سکے۔نادرا کی پبلک انٹریکشن بہت زیادہ ہوتی ہے اگر نادرا عملہ پبلک کے ساتھ اچھا رویہ اختیار کرے گا تو اس کے اثرات معاشرتی اصلاح پر بہت تیزی کے ساتھ پڑیں گے۔ماضی میں جو ہوا سو ہوا اب ہم سب کو ملکر اس ملک کو آگے لیکر جانا ہے۔حکومت کو چاہئے کہ ایسا نظام بنائے جس سے تمام شہریوں کے اعتماد میں اضافہ ہو تاکہ وہ بھی اس ملک کی ترقی کیلئے اپنا حصہ ڈال سکیں۔سوئی گیس کا میٹر لگوانا ہو تو رشوت،بجلی میٹر کیلئے رشوت،سڑک پر غلطی کر کے بچ نکلنے کیلئے رشوت،سڑک پر روٹی روزی کمانے کیلئے ریڑھی لگانے کیلئے رشوت،جعلی شناختی کارڈ کیلئے رشوت،ایف آئی آر کیلئے رشوت،تفتیشی کو بہتر تفتیش کیلئے رشوت،جھوٹی ایف آئی آر کیلئے رشوت،جیل میں قید اپنوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کیلئے رشوت،اپنے بندے کوبچانے کیلئے ضمنیوں میں فیور کیلئے رشوت،بچوں کو سکول داخلے کیلئے سفارش،اچھے نمبروں کیلئے سفارش،نوکری کیلئے سفارش،ہسپتالوں میں علاج کیلئے سفارش،اپنی پینشن لینے کیلئے سفارش،اپنے بقایا جات لینے کیلئے سفارش،سرکاری دفاتر میں بلز لینے کیلئے کلرکوں کو رشوت،محکمہ فوڈ کے اہلکاروں کو رشوت،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے ارکان کو رشوت،منڈی میں نرخوں کے اجراءکیلئے رشوت،ٹیکس چوری کیلئے رشوت و سفارش،گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلئے رشوت،گاڑیوں کے ٹوکن جمع کرنے کیلئے رشوت،یوٹیلیٹی بلز میں خرابی کو ٹھیک کرانے کیلئے رشوت و سفارش،جہاز اور ریل کی ٹکٹوں کیلئے سفارش اور مفت سفر کیلئے رشوت یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں میں جگہ بنانے کیلئے بھی سفارش کا استعمال کیا جاتا ھے۔جس ملک میں پیسے سے ہر چیز کو حاصل کیا جاتا ہو وہ ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے۔ایسا تو ہر گز نہیں کہ حکومت رشوت کے کلچر کے فروغ کیلئے کوشاں ہے بلکہ حقیقت یہ ہی ہے کہ ہم بطور قوم اپنی اصلاح کے لائق ہیںجس کیلئے ہم تیار نہیں اور نہ ہی کوشش کی جاتی ہے۔میں یقین سے کہتا ہوں کہ اگر سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین اپنے رویوں کو دوسروں کیلئے ایک مثال بنالیں تو معاشرتی اصلاح دنوں میں نہیں تو کچھ ہی مہینوں میں ہو جائیگی۔یہاں پر میرے ذہن میں حکومت کیلئے ایک تجویز ہے کہ وہ اپنے ہر شہری کیلئے چھوٹا سا مکان یا فلیٹ دینے کی پالیسی بنائے کیونکہ جس کو سر چھپانے کی فکر نہیں ہو گی وہ کرپشن کی طرف جانے سے پہلے سو دفعہ ضرور سوچے گا۔حکومت اپنا کام کرے اور سرکاری ملازمین اپنا کام ایمانداری سے کریں تو معاشرہ خود بخود دنیا کیلئے مثال بن جائے گا۔